Banner
Daily Sahafat Quetta
September 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر حاجی صلاح الدین خان نورزئی جاں بحق ہوگئےتاترہ اچکزئی کی وارنٹ گرفتاری جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1181/2-9-2026سردار عطااللہ مینگل کی بلوچ قومی سیاست کیلئے جدوجہد ناقابلِ فراموش ہے، نیشنل پارٹینوشکی، خاران کراس کے قریب گاڑی نہ روکنے پر مبینہ فائرنگمارچ 2027 میں بلوچستان کے 5 سینیٹرز سمیت بڑی تعداد میں سینیٹرز ریٹائر ہوں گےمتحدہ عرب امارات میں رمضان کے پہلے روزے کی متوقع تاریخ سامنے آگئیخواتین اور ہنرمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری،50 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کا بڑا اعلانمہرگڑھ پر ڈرون حملہ قابلِ مذمت ہے، اسلم رئیسانینوڈیرو میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے نوجوان رحمان علی جاں بحقکوئٹہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے معروف تاجر حاجی صلاح الدین خان نورزئی جاں بحق ہوگئےتاترہ اچکزئی کی وارنٹ گرفتاری جاریTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1181/2-9-2026سردار عطااللہ مینگل کی بلوچ قومی سیاست کیلئے جدوجہد ناقابلِ فراموش ہے، نیشنل پارٹینوشکی، خاران کراس کے قریب گاڑی نہ روکنے پر مبینہ فائرنگمارچ 2027 میں بلوچستان کے 5 سینیٹرز سمیت بڑی تعداد میں سینیٹرز ریٹائر ہوں گےمتحدہ عرب امارات میں رمضان کے پہلے روزے کی متوقع تاریخ سامنے آگئیخواتین اور ہنرمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری،50 کروڑ روپے کے بلاسود قرضوں کا بڑا اعلانمہرگڑھ پر ڈرون حملہ قابلِ مذمت ہے، اسلم رئیسانینوڈیرو میں بجلی کا کرنٹ لگنے سے نوجوان رحمان علی جاں بحق

بلوچستان میں بے یقینی کی صورتحال اس کی اصل اور عوامی وجوہات کیا ہیں

تحریر: ممتاز ترین

بلوچستان میں اس وقت بالکل بے یقینی کی صورتحال ہے امن و امان کی صورتحال انتہائی مخذدوش ہے سرحد پار سے ہندوستان کی پراکسی افغانستان کے ذریعے یہاں بدامنی پھیلائی جا رہی ہے نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے ہی ہم وطنوں کو مارا جا رہا ہے املاک کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے سب کی الگ الگ آراء ہے اور ہر کوئی اپنا راگ الاپ رہا ہے کسی کو یہ فکر نہیں کہ حالات کس طرح درست کیے جائیں کیا کسی نے یہ کہا ہا یہ پوچھا کہ یہ کس کا لہو ہے اور کون مرا اس بحث میں جانے کا اس وقت کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ سالہا سال سے یہ باتیں ہوتی ہیں حقوق کی بات ہوتی ہے ساحل وسائل کی باتیں ہوتی ہیں بالکل ہونی چاہیے ساحل بھی ہمارا ہے وسائل بھی ہمارے ہیں اس وسائل کو نکالنے کے لیے بھی بہت بڑے وسائل کی ضرورت ہے ہر قسم کی معدنیات نکالنے کے لیے ہمارے پاس کیا ہے اس کے لیے بھاری وسائل چاہیے اور وہ وسائل حکومت دیگر ممالک سے معاہدے کر کے لے رہی ہے یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بلوچستان کے عوام کو حکومتیں خواہ وہ وفاقی ہوں یا صوبائی کسی نے توجہ نہیں دی سڑکیں اور دیگر بڑے بڑے منصوبے اس وقت ہی فائدہ دے سکتے ہیں جب ایک غریب کو پیٹ بھر کے روٹی مل سکے ان کو اچھی تعلیم اور روزگار ملے نہ کہ اپنے صوبے میں درجہ چہارم کی نوکری ملے کیوں یہاں کہ نوجوانوں میں کس چیز کی کمی ہے اسٹیبلشمنٹ بیوروکریسی سب جگہ بلوچستان کے قابل افراد اور نوجوان اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ صوبے میں لاکھوں بے روزگار دو وقت کی روٹی تلاش کرنے کے لیے پھر رہے ہیں اس جانب کسی نے توجہ دی نہیں گزشتہ دنوں ڈائریکٹر جنرل ائی ایس پی ار لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا تھا کہ بعض سردار نوجوانوں کو گمراہ کر رہے ہیں ان میں غالبا”اکثریت عوامی نمائندوں کی بھی ہے اس بات سے سب کو اتفاق ہے ائیے اج دیکھیں بلوچستان میں کتنی حکومتیں ائیں کتنے ممبر منتخب ہوئے ایم پی اے فنڈ جو 1985 ء کی الیکشن کے بعد ارکان کو ملتا رہا اس میں بھاری خورد برد کیا گیا جس کے بعد نواب اکبر خان بگٹی نے جو اس کے بعد وزیراعلی بلوچستان بنے ایم پی اے فنڈ کی تحقیقات کے لیے ایک غیر جانبدار کمیٹی بنائی جس کی رپورٹ میں صوبائی اسمبلی کے 45 میں سے 44 ارکان بد عنوان نکلے اس کے بعد سے ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے مگر کسی نے اس جانب توجہ نہیں دی اج ہمارے ایوانوں میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو اب بھی ڈکیتیاں کر رہے ہیں اربوں کھربوں روپے بینک بیلنس ہے نوکریاں فروخت کی جا رہی ہیں سی ٹی ایس پی کے ذریعے ساری نوکریاں فروخت کر کے اس پیسے سے الیکشن لڑے جا رہے ہیں اور الیکشن کے بعد اس پیسے کو کرپشن کے ذریعے100 گنا سے بھی زیادہ کیا جا رہا ہے ادھر کیوں نہیں توجہ دی جا رہی کیونکہ یہ سب اپس میں ملے ہوئے ہیں اور ایک دوسرے کی کرپشن پر پردے ڈال رہے ہیں کیا بلوچستان کو چند لٹیروں کے ذریعے ہی چلایا جاتا رہے گا کوئٹہ میں ذرائع کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل آصف غفور نے صوبے کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کی کوشش کی گو کہ سرکاری طور پر ملازمتیں فروخت کی جاتی ہیں رہی اور ہو رہی ہیں انہوں نے ایرانی پٹرول جو یہاں لایا جاتا تھا اس پر پولیس کی سختی کم کرنے کا کہا جس کے نتیجے میں جگہ جگہ نوجوان یہ پیٹرول اور ڈیزل فروخت کرتے ہوئے نظر ائے وہ خوش تھے کہ دن بھر میں وہ دو سے تین ہزار روپے کما کے اپنے اہل و عیال کی کفالت کر سکتے یا تعلیم و دیگر ضروریات کے اخراجات پورے کر سکتے ہیں مگر بعد میں ہمارے بیوروکریسی اور مافیا نہیں مل کر ان کے خلاف کاروائی کی یہ مافیا پیٹرول پمپ والوں کی تھی جو خود ایرانی پیٹرول پاکستانی قیمت پر فروخت کر رہے تھے انہوں نے ضلعی انتظامیہ کو ان پٹرول فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے لیے مجبور کیا وہ کس طرح مجبور کیا یہ بھی ایک سوال ہے جس کا جواب ہر کسی کو پتہ ہے جب شہر میں ایرانی پٹرول پر پابندی لگ گئی تو ان پیٹرول پمپوں میں ایرانی پٹرول وہ پھر وقت دار میں فروخت ہونے لگا مقصد قانونی یا غیر قانونی کی بات نہیں اصل مسئلہ لوگوں کے منہ سے روٹی والا چھیننے کا ہے اسی طرح کے دیگر وجوہات بھی ہیں جس کی وجہ سے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو جاتے ہیں غلط ہاتھوں میں چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے اج بلوچستان کی حالت اس نہج پر پہنچی اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ انسان کی پہلی ضرورت پیٹ ہے اسی کے لیے وہ سب کچھ کرتا ہے اج بلوچستان کے لوگوں کو نوکریاں نہیں ملتی اج بھی نوکریاں فروخت ہو رہی ہیں جس کے ایک نہیں ہزاروں ثبوت موجود ہیں یہ بات سب اپنے ذہن سے نکال دیں کہ میرٹ پہ کام ہو رہا ہے کوئی میرٹ پہ کام نہیں ہے جتنے لوگوں کو اج بھر تی کیا جا رہا ہے ان سب کو دوسرے صوبوں میں لے جا کر دوبارہ ٹیسٹ لیا جائے پتہ چل جائے گا کہ یہ کس کس کے سفارش پر اور کتنی کتنی رشوتیں دے کر ائے ہیں صوبے کا کوئی محکمہ رشوت کے بغیر نہیں چل رہا کرپشن عام ہے اس کے علاوہ گزشتہ دنوں اسلام اباد میں میری ملاقات مختلف شعبہ فکر کے لوگوں سے ہوئی اور سب سے بڑی حیرت یہ ہوئی کہ وہاں کے لوگ یہ بول رہے تھے کہ بلوچستان کے بے انتہا لوگ وفاقی حکومت میں چپراسی سے لے کر افسر تک بڑی بڑی پوسٹوں پر فرائض سر انجام دے رہے ہیں جو کہ سب جھوٹ ہےیہ سب کام وہ لوگ کر رہے ہیں جو دوسرے صوبوں سے بلوچستان میں تعینات ہوتے ہیں اور یہاں تعیناتی کے دوران وہ کئی فوائد اٹھاتے ہیں ایک تو یہاں کا بجٹ کے اربوں روپے لوٹ کر لے جاتے ہیں دوسرے اپنی اولاد اور خاندان کے دیگر افراد کے ڈو میسائل سرٹیفیکیٹ بنا کر وفاق میں ملازمتیں حاصل کرتے ہیں اور صوبے کے حقیقی بے روزگار نوجوانوں کا حق کھا جاتے ہیں اج بھی بلوچستان میں کہاں کہاں سے لوگوں کو لا کے بٹھایا جا رہا ہے کیوں کہ یہاں کے مقامی لوگ اہل نہیں اگر باہر سے لوگوں کو یہاں لایا جاتا ہے تو یہاں کے لوگوں کو بھی وفاق اور دوسرے صوبوں میں ملازمت کے مواقع فراہم کیے جائیں مگر شاید وفاق کو یہ منظور نہیں انہیں صرف بلوچستان کے چند منتخب ارکان کی ضرورت ہے وہ کیسے منتخب ہوتے ہیں اس بارے میں کوئی بھی دو رائے نہیں رکھتا کہ چند الیکٹڈ یا سلیکٹڈ ار کان عوام کا غم اٹھائیں گے ان کے مسائل حل کریں گے یا نہیں اس کا جواب بالکل نفی میں ہے ائیں بلوچستان کے مسائل کے حل کے لیے سب سے پہلا یہ قدم اٹھائیں کہ صوبے سے بے روزگاری مکمل طور پر ختم کی جائے اور اس میں سیاسی عمل دخل ختم کر کے میرٹ کو یقینی بنایا جائے اور میرٹ اس وقت ہو سکتا ہے جب ایماندار افیسرز کی نگرانی ہو اور پھر صوبے کے فنڈز اسی صورت میں صحیح جگہوں پہ خرچ ہو سکتے ہیں جب یہاں ایک چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس تو دو سال سے زیادہ نہ رکھا جائے بلکہ ہر سال ان عہدوں افسران تبدیل کیا جائے اس سے نیچے افیسرز صوبے کے ہونے چاہیے اور ان پر بھی چیک اینڈ بیلنس کا نظام قائم کیا جائے تمام منصوبوں پر نظر رکھنے کے لیے افسران اس کے علاوہ اس علاقے کے لوگوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ وہ بھی کرپشن کی روک تھام میں مدد کر سکیں تیسرا ایک اور اہم نقطہ اج کے جدید دور میں سوشل میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیا کا ہے جس کے ذریعے نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہےجس کی وجہ سے اج بھی یقینی کی صورتحال ہے ہندوستانی میڈیا جسے دنیا گودی میڈیا کے نام سے جانتی ہے اس نے جھوٹ کا ایسا پرو پیگنڈا شروع کر رکھا ہے ک وہاں کے لوگ اس کو سچ سمجھنے لگتے ہیں پاکستان کے علاوہ بلوچستان میں بھی یہی ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر خصوصی توجہ دینے کا منصوبہ ہے اس کا کیا فائدہ ہے پہلے تو یہ بتایا جائے اور ڈیجیٹل میڈیا کو اپنی حکومتی کارکردگی دکھانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے اس کے ذریعے سب کچھ اچھا کی رپورٹیں نہ پیش کی جائیں جس طرح گودی میڈیا جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے یہاں کم از کم ڈیجیٹل میڈیا اور سوشل میڈیا جس کی حکومت کی طرف سے سرپرستی کی کر رہے ہیں مگر صوبے کے مزید لاکھوں خاندانوں کے چولہے ٹھنڈے کیے جا رہے ہیں وہ اس طرح کے سب جانتے ہیں بلوچستان میں کوئی پرائیویٹ ذریعہ روزگار نہیں یہاں نہ کوئی کارخانے اور فیکٹریاں ہیں سب اپنے طور پر تجارت وغیرہ سے گزر اوقات کرتے ہیں انہی حالات میں صوبائی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے تقریبا دو ڈھائی سو سے زائد اخبارات اور جرائد کو بھی بند کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے اس کے پس منظر میں کون کون ہیں یہ بھی سب کو پتہ ہے باہر کے صوبوں سے ائے ہوئے نااہل لوگ ایسے اقدامات کر کے لوگوں کو بے روزگار کر کے چلے جاتے ہیں ان کی بلا سے یہاں کچھ بھی ہو کوئی جیے یا مرے ان کا بلوچستان سے کوئی لینا دینا نہیں مگر خدارا صوبے کے حالات اسی روز سے درست ہونا شروع ہوں گے جب یہاں عام عوام کو ان کا حق دیا جائے لوگوں کو روٹی کپڑا مکان اور باعزت روزگار فراہم کیا جائے ایماندار لوگوں کو سامنے لایا جائے کرپٹ نمائندوں اور افسران کو سرعام سزا دی جائے کسی کو ان باتوں سے خلاف نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پہلے پہل کرپشن لاکھوں میں ہوتی تھی اب ڈکیتی ہوتی ہے جواربوں اور کھربوں تک چلی جاتی ہے یہی اصل حقیقت ہے اور یہی سچ ہے اس سچ کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا ہم کئی اطراف سے دشمنوں اور دشمنوں کی پراکسی میں گھرے بیٹھے ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ اپس میں متحد ہو کے ان غیر ملکی عناصر کی سازشوں کو ناکام بنا دیں

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *