Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانوزراء عوامی خدمت، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں، روبینہ شاہجب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائےجرائم کی بیخ کنی8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دنپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیدہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانوزراء عوامی خدمت، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں، روبینہ شاہجب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائےجرائم کی بیخ کنی8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دنپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی

جب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائے

کالم نگار ۔۔۔۔۔ ایس ایم مرموی

ایک استاد نے اپنے شاگردوں سے پوچھا اگر ایک کشتی میں معمولی سا سوراخ ہو جائے اور مسافر یہ کہہ کر خاموش بیٹھ جائیں کہ سوراخ تو ہماری نشست کے نیچے نہیں دوسرے حصے میں ہے تو کیا کشتی بچ جائے گی؟ سب نے جواب دیا نہیں کشتی میں بیٹھا ہر شخص ڈوب جائے گا ہمارا معاشرہ بھی آج اسی کشتی کی مانند ہے فرق صرف اتنا ہے کہ سوراخ اب لکڑی میں نہیں ہمارے کردار میں ہو چکا ہے جھوٹ منافقت بے حسی شخصیت پرستی تماش بینی اور اخلاقی زوال نے اس کشتی کو کمزور کر دیا ہے مگر ہم اب بھی تالیاں بجانے میں مصروف ہیں ہم ابھی تک شخصیت پرستی سے نہیں نکلے ہیں فلاں زندہ باد فلاں مردہ باد مگر وہ سارے تو اپنی ذات میں مست ہین خوبصورت اور رنگین لگژری لائف گزار رہے ہیں باہر کے ملکوں کی سیر کر رہے ہیں جبکہ غربت زدہ قوم دو وقت کی روٹی کے لئے ترس رہی ہے مگر پھر بھی سمجھتی نہیں تو جب جس قوم کی ذہنیت زندہ باد اور مردہ باد تک محدود ہو نہ اپنی فکر اور نہ بچوں کی فکر ہو تو حالات کیسے بدلیں گے ترقی کیسے ممکن ہوگی خوشحالی کہاں سے آئے گی معاشرہ کیسے ٹھیک ہوگا یہ ایک لمبی فہرست ہے جسکو ایک کالم میں سمیٹنا ناممکن ہے
قوموں کا زوال کبھی اچانک نہیں آتا تاریخ گواہ ہے کہ سلطنتیں پہلے اپنے اخلاق کھوتی ہیں پھر اپنی شناخت اور آخرکار اپنا وجود رومی سلطنت ہو یا اندلس کی عظمت ہر جگہ زوال کی ابتدا کردار کے انہدام سے ہوئی دشمن کی یلغار تو صرف آخری ضرب ثابت ہوئی ہماری بدقسمتی یہ نہیں کہ ہمارے پاس وسائل کم ہیں ہمارے پاس پہاڑ بھی ہیں دریا بھی نوجوان بھی ذہانت بھی اور بے شمار مواقع بھی اصل المیہ یہ ہے کہ ہم نے اپنے اجتماعی شعور کو سستی تفریح جذباتی نعروں اور شخصیت پرستی کے حوالے کر دیا ہے ہم گھنٹوں تماشے دیکھ سکتے ہیں مگر چند منٹ اپنے ضمیر کی آواز سننے کے لیے تیار نہیں۔
ڈاکٹر اسرار احمدؒ برسوں پہلے بار بار اس حقیقت کی نشاندہی کرتے رہے کہ کسی بھی معاشرے کا سب سے بڑا بحران معاشی نہیں بلکہ اخلاقی ہوتا ہے جب جھوٹ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائے وعدہ خلافی معمول بن جائے امانت میں خیانت کو ذہانت سمجھا جائے اور منافقت کو مصلحت کا نام دے دیا جائے تو پھر قومیں اندر سے کھوکھلی ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور اب ہماری قوم میں یہ تمام بیماریاں جڑ پکڑ چکی ہیں سیاستدانوں نے بھی اسکو بھانپ لیا ہے اور عوام کو پارٹیوں میں تبدیل کر کے خود اپنی زندگی انجوائے کر رہے ہیں عوام مرے جئے اس سے انہیں کوئ فرق نہیں پڑتا
آج اگر ہم دیانت داری سے اپنا احتساب کریں تو شاید ہمیں سب سے زیادہ شرمندگی اپنے ہی رویوں پر ہو ہم سچ کی بات کرتے ہیں مگر جھوٹ بولنے میں دیر نہیں لگاتے ہم انصاف چاہتے ہیں مگر صرف اپنے حق میں ہم قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جب قانون ہمارے مفاد کے خلاف ہو تو اس کے لیے سو تاویلیں ڈھونڈ لیتے ہیں ہم بچوں کو اخلاقیات پڑھاتے ہیں مگر انہیں اپنی عملی زندگی میں اس کی مثال نہیں دیتے ہم دوسروں کی بدعنوانی پر شور مچاتے ہیں مگر بجلی کا بل کم کرانے کے لیے سفارش بھی ڈھونڈتے ہیں ٹریفک قانون توڑنے کے بعد معافی بھی مانگتے ہیں اور ٹیکس بچانے کو کامیابی سمجھتے ہیں لیڈر جھوٹ بولتے ہیں مگر ہم انہیں سچ مان لیتے ہیں موکوی تفرقہ بازی میں ڈال کر خود بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومتے ہیں پھر ہم حیران ہوتے ہیں کہ ملک کیوں نہیں بدلتا سوال یہ نہیں کہ حکمران کیسے ہیں سوال یہ ہے کہ ہم کیسے ہیں؟ کیونکہ حکمران آسمان سے نہیں اترتے وہ اسی معاشرے سے جنم لیتے ہیں اگر معاشرے میں جھوٹ، اقربا پروری اور مفاد پرستی عام ہو تو اقتدار تک پہنچنے والے بھی انہی رویوں کا عکس ہوتے ہیں۔
ہماری ایک اور بڑی کمزوری شخصیت پرستی ہے ہم اصولوں کے نہیں چہروں کے وفادار ہیں اگر ہمارا پسندیدہ شخص غلطی کرے تو ہم اس کے لیے دلائل تراشتے ہیں لیکن اگر مخالف وہی کام کرے تو ہم اسے ناقابلِ معافی جرم قرار دیتے ہیں یہی دوہرا معیار انصاف کو دفن کر دیتا ہے افسوس یہ بھی ہے کہ ہم نے علم سے زیادہ شور کو اہمیت دی ہے عالم کی گفتگو ہمیں بور لگتی ہے مفکر کی تحریر مشکل محسوس ہوتی ہے لیکن ایک مسخرے کی جگت لاکھوں لوگوں تک چند منٹ میں پہنچ جاتی ہے ہمیں ہنسنے کا حق ضرور ہے مگر جب ایک قوم صرف ہنسنے لگے اور سوچنا چھوڑ دے تو اس کی ہنسی بھی اس کے زوال کا اعلان بن جاتی ہےدنیا کی کامیاب قوموں نے کوئی جادو نہیں کیا انہوں نے صرف چند اصول اپنائے سچ بولا، قانون کی پاسداری کی محنت کو عزت دی وقت کی قدر کی اور اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی یہی اصول انہیں دنیا کی قیادت تک لے گئے جبکہ ہم آج بھی الزام تراشی سازشوں اور نعروں کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکے قرآن کا اصول بھی یہی ہے کہ اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہ کرے اس آیت میں پوری قوموں کے عروج و زوال کا فلسفہ پوشیدہ ہے تبدیلی جلسوں سے نہیں۔کردار سے آتی ہے انقلاب نعروں سے نہیں سچائی سے جنم لیتا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم ایک دوسرے کو مجرم ثابت کریں بلکہ اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے گریبان میں جھانکے اگر ہم نے اپنے گھروں میں سچ دیانت، امانت اور انصاف کو جگہ نہ دی تو پارلیمنٹ عدالت، حکومت اور نظام بھی ہمیں نہیں بچا سکیں گے
یاد رکھیے! قومیں دشمنوں کے حملوں سے کم اور اپنے کردار کی کمزوری سے زیادہ شکست کھاتی ہیں جب جھوٹ عزت بن جائے منافقت حکمت کہلانے لگے بے حسی عادت بن جائے اور سنجیدگی مذاق کا موضوع بن جائے تو سمجھ لیجیے کہ زوال دروازے پر نہیں گھر کے اندر آ چکا ہے اب بھی وقت ہے اگر ہم نے خود کو بدل لیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف کر دیں گی لیکن اگر ہم اسی طرح جھوٹ، منافقت بے حسی اور تماش بینی میں گم رہے تو تاریخ ہمارے بارے میں صرف ایک جملہ لکھے گی یہ وہ قوم تھی جسے کسی دشمن نے شکست نہیں دی اس نے خود اپنے کردار کے ہاتھوں شکست کھائی
آخر میں سوال صرف یہ نہیں کہ ہمارا ملک کیوں پیچھے رہ گیا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم سچ بولنے دیانت اختیار کرنے اور اپنے کردار کی اصلاح کے لیے تیار ہیں؟ جب تک جھوٹ ہماری عادت منافقت ہماری مصلحت اور بے حسی ہماری فطرت بنی رہے گی تب تک کوئی نظام کوئی رہنما اور کوئی انقلاب ہمیں نہیں بچا سکتا قوموں کی تقدیر ایوانوں میں نہیں کردار میں لکھی جاتی ہے جس دن ہم نے سچ کو اپنا مزاج بنا لیا اسی دن ہماری تقدیر بھی بدلنا شروع ہو جائے گی اور ہمارے معاشرہ بھی ترقی کیطرف گامزن نظر آئے گا نہیں تو چھتر لگانے والے بڑھاو والی کہانی ہمارا مقدر بنے گی ۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *