Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانوزراء عوامی خدمت، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں، روبینہ شاہجب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائےجرائم کی بیخ کنی8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دنپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلیدہشتگردی کیخلاف فورسز کی پیشہ ورانہ صلاحتیں پوری قوم کیلئے باعث فخر ہیں ،شاہد رنددہشتگردی کا ناسور پوری قوم اورریاست کا ناسور ہے ،وزیراعلیٰ بلوچستانوزراء عوامی خدمت، امن و امان اور بہتر طرزِ حکمرانی پر خصوصی توجہ دیں، روبینہ شاہجب جھوٹ قوم کا مزاج بن جائےجرائم کی بیخ کنی8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دنپٹنی پولیس کا ایکشن، مقابلے کے بعد زخمی ڈاکو گرفتارحب شاہین کلب کی شاندار فتح، کوارٹر فائنل میں جگہ بنا لیعوامی خدمت اولین ترجیح، محکمے کارکردگی بہتر بنائیں، سائرہ عطاءخلائی ٹیکنالوجی اور موسمیاتی تبدیلی

8 اگست صوبے کی عدالتی تاریخ کا سیاہ ترین دن

تحریر: عارفہ صدیق ایڈوکیٹ

اگست 2016ء کا دن پاکستان بالخصوص صوبہ بلوچستان کی تاریخ کا وہ سیاہ ترین، دلخراش اور لرزہ خیز دن ہے جسے ملکی تاریخ میں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس دن کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے المناک خودکش دھماکے نے نہ صرف بلوچستان کو قابل ترین قانونی دماغوں، آئینی ماہرین اور مخلص قیادت سے محروم کر دیا، بلکہ پورے ملک کے عدالتی و سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ سانحہ صرف افراد کی طبعی موت نہیں تھا، بلکہ یہ انصاف، آئین، قانون کی بالادستی اور انسانیت پر ایک بزدلانہ اور کاری ضرب تھی۔8 اگست 2016ئ کی صبح کوئٹہ شہر میں معمول کی سرگرمیاں شروع ہی ہوئی تھیں کہ ایک تلخ اور ہولناک خبر نے پورے صوبے کو لپیٹ میں لے لیا۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے فعال اور نامور صدر بلال انور کاسی ایڈوکیٹ کو کوئٹہ کے منو جان روڈ پر نامعلوم مسلح افراد نے اس وقت فائرنگ کر کے شہید کر دیا جب وہ اپنے گھر سے عدالت کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔ ان کی شہادت کی خبر جنگل کی آگ کی طرح شہر میں پھیلی، جس سے قانونی برادری میں غم و غصے، شدید تشویش اور بے چینی کی لہر دوڑ گئی۔پیشہ ورانہ روایت، یکجہتی اور انسانی جذبے کے تحت بڑی تعداد میں وکلائ —جن میں سینیئر ترین قانون دان، بار ایسوسی ایشنز کے عہدیداران اور ابھرتے ہوئے نوجوان وکلائ شامل تھے—بلال انور کاسی شہید کی میت کا آخری دیدار کرنے اور لواحقین سے تعزیت کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ حادثات کے باہر جمع ہونا شروع ہو گئے۔ اس موقع پر الیکٹرانک میڈیا کے نمائندے، صحافی اور کیمرہ مین بھی کوریج کے لیے وہاں موجود تھے۔ابھی ہسپتال کے احاطے میں وکلائ کا یہ سوگوار مجمع اپنے پیارے اور متحرک قائد کی ناگہانی موت پر غم کا اظہار کر ہی رہا تھا کہ صبح تقریباً 10:00 بجے کے قریب، صف ماتم بچھائے اس مجمعے کے بالکل درمیان میں ایک خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔دھماکہ اس قدر شدید اور مہلک تھا کہ اس کی ہولناک گونج پورے کوئٹہ شہر میں سنی گئی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہسپتال کا وہ احاطہ، جو انسانی زندگی بچانے اور مرہم رکھنے کا مقام کہلاتا ہے، ایک خونی مقتل گاہ میں تبدیل ہو گیا۔ چاروں طرف چیخ و پکار، بارود کی بو، خون، بکھرا ہوا ملبہ اور وکلائ کے سیاہ کوٹ اور سفید قمیضیں خون میں لت پت نظر آنے لگیں۔اس بزدلانہ اور سفاکانہ حملے میں 70 سے زائد افراد شہید ہوئے، جن میں 56 سے زائد نامور، قابل اور سینیئر وکلائ شامل تھے۔ اس سانحے میں صحافتی برادری نے بھی بھاری قیمت چکائی؛ کوریج کے لیے موجود دو نجی ٹی وی چینلز کے پیشہ ور کیمرہ مین—آج ٹی وی کے شہزاد خان اور ڈان نیوز کے محمود خان—اپنے فرائض کی اداکاری کے دوران جامِ شہادت نوش کر گئے۔ واقعے میں 100 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے، جن میں سے متعدد افراد عمر بھر کی معذوری کا شکار ہو گئے۔صوبے پر اس سانحے کے ہمہ گیر اثراتاس سانحے کو بلوچستان اور پاکستان کی عدالتی تاریخ کا “سیاہ ترین دن” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے صوبے کی سینیئر قانونی قیادت کی پوری ایک نسل کو چند سیکنڈز میں ختم کر دیا۔وہ وکلائ جنہوں نے 20 تا 30 سال کی انتھک محنت، مطالعے اور جدوجہد کے بعد بلوچستان میں قانون کی بالادستی اور آئین کی پاسداری کا فہم پیدا کیا تھا، وہ ایک ہی لائحہ عمل میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بلوچستان کی عدالتیں، ہائی کورٹ اور ماتحت عدلیہ تجربہ کار وکلائ کے وجود سے محروم ہو گئیں، جس سے ایسا خلا پیدا ہوا جسے پر کرنے کے لیے دہائیاں درکار ہیں۔شہید ہونے والوں میں محض سینیئر وکلائ ہی شامل نہیں تھے، بلکہ بڑی تعداد ان نوجوان اور ہونہار وکلائ کی تھی جو صوبے کے آئینی اور قانونی مستقبل کی عمارت تعمیر کر رہے تھے۔ کتنے ہی خاندانوں کے واحد کفیل، بوڑھے والدین کے جوان سہارے اور چھوٹے بچوں کے سرپرست ایک لمحے میں ان سے چھن گئے۔اس سانحے نے کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان کی سول سوسائٹی اور وکلائ برادری میں شدید خوف اور صدمے کی کیفیت پیدا کر دی۔ قانون دان برادری کے لیے عدالتوں کے احاطے اور ہسپتال جیسے محفوظ مقامات پر بھی خوف کا عنصر نمایاں ہو گیا۔اس عظیم سانحے کے بعد ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا، عدالتوں میں ہڑتالیں ہوئیں اور کارروائی معطل رہی۔ واقعے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ آف پاکستان نے اس کا ازخود نوٹس لیا اور سپریم کورٹ کے اس وقت کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ایک رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا۔کمیشن نے مسلسل تحقیقات اور تمام فریقین کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ایک تاریخی اور مفصل رپورٹ جاری کی۔ اس رپورٹ کے نمایاں نات درج ذیل تھے:سیکیورٹی و انتظامی ناکامی: کمیشن نے صوبائی انتظامیہ، سیکیورٹی اداروں اور وزارتِ داخلہ کی شدید غفلت اور ناکامی کی نشان دہی کی۔ہسپتالوں کی ابتر حالت: رپورٹ میں سول ہسپتال کوئٹہ کے شعبہ ایمرجنسی میں ضروری طبی سہولیات، ٹراما سینٹر کی غیر موجودگی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی خامیوں کو بے نقاب کیا گیا۔نیشنل ایکشن پلان کا جائزہ: کمیشن نے نشاندہی کی کہ دہشت گردی کے خلاف بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان (NAP) پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد نہیں کیا جا رہا اور کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائیاں سست روی کا شکار ہیں۔کمیشن کی یہ رپورٹ نہ صرف اس واقعے کا احاطہ کرتی ہے بلکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچاو¿ کے لیے ایک جامع پالیسی فریم ورک بھی فراہم کرتی ہے۔شہدائ کو خراجِ عقیدت اور یادگارشہدائ کی بے لوث قربانیوں کو تاریخ کے صفحات میں زندہ رکھنے کے لیے سول ہسپتال کوئٹہ کے اس حصے کو جہاں یہ حادثہ پیش آیا، “وکلائ شہدائ چوک” کا نام دیا گیا اور وہاں ایک پروقار یادگار قائم کی گئی۔ہر سال 8 اگست کو بلوچستان سمیت پورے پاکستان میں “یومِ سیاہ” منایا جاتا ہے۔ اس دن تمام بار ایسوسی ایشنز عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرتی ہیں، تعزیتی ریفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے، اور شہدائ کی یاد میں شمعیں روشن کر کے ان کی آئینی، قانونی اور انسانی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ہے۔8 اگست کا سانحہ محض تاریخ کا ایک واقعہ نہیں، بلکہ پاکستان کے عدالتی، سیاسی اور سماجی ڈھانچے پر لگا ہوا ایک گہرا اور رسوخ پذیر زخم ہے۔ کوئٹہ کے غیور اور باہمت وکلائ نے آئین و قانون کی پاسداری، جمہوری اقدار اور عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ان عظیم شہدائ کو سچی عقیدت اور واقعی خراجِ تحسین پیش کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ:ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی کے خواب کو عملی تعبیر دی جائے۔عدالتی نظام کو مضبوط، فعال اور عام آدمی کے لیے آسان بنایا جائے۔دہشت گردی، انتہا پسندی اور فرسودہ ذہنیت کا بلا تفریق خاتمہ کیا جائے تاکہ آئندہ کوئی ہسپتال یا عدالت مقتل گاہ نہ بن سکے۔اللہ تعالی سے دعا ھے کہ تمام شہدائ کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ (آمین)

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *