Banner
Daily Sahafat Quetta
October 25, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
میروانی قوم کی بیٹیاں، کامیابیوں کا روشن استعارہلاہور کا قدیمی ورثہ ہماری شناخت ہے،شہید کرنے کا ارادہ قابل مذمت ہے،پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہکھیل انتہا پسندی کی سوچ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،فیصل کریم کنڈیخضدار میں دو دوست پراسرار طور پر قتل، مختلف مقامات سے لاشیں برآمدکنڈ ملیر میں فائر بریگیڈ نہ ہونے سے حادثات کا خطرہ، مستقل اسٹیشن قائم کرنے کا مطالبہسرکاری اسپتالوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز؛ ملک میں طبی ایمرجنسی کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائیاں، فتنۃ الخوارج کا دہشتگرد کمانڈ رعادل شاہ عرف درویش ہلاکنیتن یاہو قیادت کے اہل نہیں رہے، اسرائیلی اپوزیشن رہنما کی سخت تنقیدایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردیکراچی میں گرمی برقرار؛ موسم بدستور خشک رہنے کی پیشگوئیمیروانی قوم کی بیٹیاں، کامیابیوں کا روشن استعارہلاہور کا قدیمی ورثہ ہماری شناخت ہے،شہید کرنے کا ارادہ قابل مذمت ہے،پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہکھیل انتہا پسندی کی سوچ کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،فیصل کریم کنڈیخضدار میں دو دوست پراسرار طور پر قتل، مختلف مقامات سے لاشیں برآمدکنڈ ملیر میں فائر بریگیڈ نہ ہونے سے حادثات کا خطرہ، مستقل اسٹیشن قائم کرنے کا مطالبہسرکاری اسپتالوں میں ایچ آئی وی کے بڑھتے کیسز؛ ملک میں طبی ایمرجنسی کا مطالبہسیکیورٹی فورسز کی بلوچستان میں کارروائیاں، فتنۃ الخوارج کا دہشتگرد کمانڈ رعادل شاہ عرف درویش ہلاکنیتن یاہو قیادت کے اہل نہیں رہے، اسرائیلی اپوزیشن رہنما کی سخت تنقیدایران نے پاکستان کے ذریعے امریکا سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادگی ظاہر کردیکراچی میں گرمی برقرار؛ موسم بدستور خشک رہنے کی پیشگوئی

ذائقوں کی دنیا کے نئے افق ریسٹورنٹ انڈسٹری: چیلنجز، امکانات اور ترقی کی نئی راہیں

منشا قاضی
حسبِ منشا

لاہور ہمیشہ سے علم، ادب، تہذیب، ثقافت اور ذائقوں کا شہر رہا ہے۔ یہی شہر نہ صرف پاکستان کی ثقافتی شناخت کا امین ہے بلکہ کاروباری جدت، تخلیقی سوچ اور نئے رجحانات کا بھی مرکز سمجھا جاتا ہے۔ ایسے ہی ایک فکری اور بامقصد ماحول میں (CTN)، گلبرگ لاہور کے زیرِ اہتمام “Challenges & Opportunities of Restaurant Business” کے عنوان سے ایک بصیرت افروز اور معلوماتی نشست کا انعقاد کیا گیا، جس میں ریسٹورنٹ انڈسٹری کو درپیش مسائل، مستقبل کے امکانات اور جدید تقاضوں پر نہایت جامع انداز میں روشنی ڈالی گئی۔ نقابت کے فرائض سی ٹی این فورم کے نابغہ ء روزگار رکن اور عجوبہ ء روزگار شخصیت جناب سطوت بٹ نے جس خوبی سے ادا کیئے موصوف کی ہر ادا میں جدت ، نگاہ میں حدت اور ابلاغ کی شدت بدرجہ آتم موجود تھی ۔ ہال میں اتنی قد آور شخصیات کی موجودگی اور اعلیٰ تعلیمی امتیازات سے متصف راہنماؤں کا ایک ساتھ ہمہ تن گوش ہونا چیئرمین سی ٹی این فورم مسعود علی خان کی مقناطیسی شخصیت کا غماز ہے ۔ تلاوت قرآنِ کریم کے بعد قومی ترانے سے سیمنار کا آغاز سطوت بٹ کی بولنے والی زبان سے ہوا ، مہمانِ خصوصی مسٹر احمد شفیق بانی صدر و سی ای او گوتھم گلوبل جبکہ مہمانِ اعزاز مسٹر نثار چوھدری ایگزیکٹیو ڈائریکٹر یم گروپ آف ریسٹورنٹ اور مسٹر کامران شیخ تھے ۔
یہ نشست صرف ایک کاروباری سیمینار نہیں تھی بلکہ پاکستان کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی فوڈ انڈسٹری کے لیئے ایک فکری مکالمہ تھی، جس میں صنعت، سیاحت، معیشت اور جدید کاروباری رجحانات کے مختلف پہلوؤں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا تھا ،۔
تقریب کا آغاز چیئرمین CTN پاکستان، چیئرمین QME Corporation اور سابق منیجنگ ڈائریکٹر TDCP، جناب مسعود علی خان کے خیرمقدمی خطاب سے ہوا۔ اپنے استقبالیہ کلمات میں انہوں نے اس حقیقت پر زور دیا کہ ریسٹورنٹ انڈسٹری آج صرف کھانے پینے کے کاروبار تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ملکی معیشت، سیاحت، روزگار، ثقافتی شناخت اور سرمایہ کاری کا ایک مضبوط ستون بن چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں کامیاب ریسٹورنٹ وہی ہے جو صرف ذائقہ ہی نہیں بلکہ معیاری سروس، منفرد ماحول، جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور صارفین کے اعتماد کو بھی اپنی شناخت بنائے۔
مسعود علی خان نے CTN کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ادارہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر تعمیری مکالمے کو فروغ دیتا رہے گا ، تاکہ نوجوان کاروباری افراد اور صنعت کار نئی سوچ اور بہتر حکمتِ عملی اختیار کر سکیں۔
اس علمی نشست کی رونق میں اس وقت مزید اضافہ ہوا جب پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن (PTDC) کے منیجنگ ڈائریکٹر جناب آفتاب رانا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔ موسلا دھار بارش کے دوران اسلام آباد سے آپ کی تشریف آوری نے منتظمین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ان کی آمد سے ماحول پرشکوہ ہو گیا آپ کی سیاحت اور ہوٹلنگ کے شعبے میں گراں قدر خدمات کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ان کی موجودگی نے اس نشست کو قومی سطح کی اہمیت عطا کی۔ انہوں نے اس امر پر روشنی ڈالی کہ دنیا بھر میں سیاحت اور ریسٹورنٹ انڈسٹری ایک دوسرے کے لیئے لازم و ملزوم حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں معیاری کھانے، مقامی ثقافت اور بہترین مہمان نوازی موجود ہو، وہاں سیاحت خود بخود فروغ پاتی ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اپنی متنوع ثقافت، علاقائی ذائقوں اور روایتی پکوانوں کی بدولت عالمی فوڈ ٹورازم کا اہم مرکز بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ معیار، حفظانِ صحت، تربیت، برانڈنگ اور بین الاقوامی معیار کے مطابق خدمات کو فروغ دیا جائے۔ منتظمین نے احمد شفیق کا خصوصی شکریہ اد کیا جن کی خصوصی استدعا پر آپ تشریف لائے ۔ سی ٹی این فورم کے چیئرمین مسعود علی خان نے اپنی معرکة الآرا تصنیف ہال آف فیم مہماںِ خصوصی پاکستان ٹؤرزم ڈویلمنٹ کارپوریشن(PTDC ) PTCL مینجنگ ڈائریکٹر عزت مآب جناب آفتاب رانا کو پیش کی ۔ مہمانانِ اعزاز مسٹر نثار چوھدری اور مسٹر کامران شیخ نے اس شعبے کو درپیش متعدد اہم مسائل کا بھی تجزیہ کیا، جن میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، خام مال کی قیمتوں میں اضافہ، تربیت یافتہ افرادی قوت کی کمی، سخت کاروباری مسابقت، صارفین کی بدلتی ہوئی ترجیحات، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی ضرورت، فوڈ سیفٹی کے تقاضے اور پائیدار کاروباری ماڈلز کی اہمیت شامل تھے۔ مہمانِ خصوصی مسٹر احمد شفیق نے
اس امر پر بھی زور دیا کہ جدید کاروباری دنیا میں صرف بہترین ذائقہ کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ مؤثر انتظام، جدت، صارف دوست رویہ، معیاری ماحول اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔
مقررین نے اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا کہ پاکستان کی نوجوان آبادی، بڑھتی ہوئی شہری زندگی، آن لائن فوڈ ڈیلیوری، فوڈ ٹورازم، ڈیجیٹل مارکیٹنگ اور برانڈنگ کے وسیع مواقع اس صنعت کے روشن مستقبل کی نوید ہیں۔
اگر ریسٹورنٹ مالکان جدید کاروباری حکمتِ عملی، معیاری خدمات، ماحول دوست اقدامات اور بین الاقوامی معیار کو اپنائیں تو پاکستانی ریسٹورنٹس نہ صرف مقامی بلکہ عالمی سطح پر بھی نمایاں مقام حاصل کر سکتے ہیں۔
کنسٹرکٹو تھنکرز نیٹ ورک (CTN) ایک عرصے سے مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین، صنعت کاروں، تعلیمی شخصیات اور پالیسی سازوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے مثبت اور تعمیری مکالمے کو فروغ دے رہا ہے۔
یہ نشست بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ثابت ہوئی، جہاں شرکاء کو نہ صرف عملی معلومات حاصل ہوئیں بلکہ نئے کاروباری رجحانات، باہمی روابط اور مستقبل کی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کا بہترین موقع بھی میسر آیا۔
Challenges & Opportunities of Restaurant Business کے عنوان سے منعقد ہونے والی یہ نشست اس حقیقت کا واضح اظہار تھی کہ کامیاب کاروبار صرف سرمایہ نہیں بلکہ وژن، تحقیق، معیار، جدت اور مسلسل سیکھنے کا نام ہے۔
جناب مسعود علی خان کی مدبرانہ میزبانی، آفتاب رانا کی بصیرت افروز شرکت اور CTN اراکین کی تعمیری کاوشوں نے اس تقریب کو ایک یادگار علمی اجتماع میں تبدیل کر دیا۔ یقیناً ایسے فکری فورمز پاکستان میں کاروباری شعور، معیاری خدمات اور اقتصادی ترقی کے فروغ میں سنگِ میل ثابت ہوں گے، اور نوجوان کاروباری افراد کے لیئے نئی امیدوں، نئے امکانات اور کامیابی کی نئی راہیں روشن کرتے رہیں گے۔سی ٹی ای فورم کے اراکین ہمہ تن گوش تھے ۔ ائر کموڈور خالد چشتی جن کا ہر لمحہ پورے زمانے پر محیط ہے ان کی دلچسپی قابلِ دید اورہمارے لیئے عید تھی وہ مصروف ترین فضائی سائنسدان ہیں ۔ برگیڈیئر ساجد مشتاق ، برگیڈیئر عرفان علی خان ، ڈاکٹر خالد سعید ، محترمہ فردوس نثار ، انجینئر شائلہ صفوان ، ڈاکٹر کنول خالد ، محترم فیاض احمد ، جواں سال ماہر تعلیم فہد عباس ، رانا نعمان اشرف ایڈووکیٹ اور سطوت بٹ کی گہری دلچسپی اس بات کا ثبوت تھی کہ ذائقوں کی پہنچان اور پاکستان کی سیاحت کا حسین امتزاج ماحول کی پاکیزگی کا احساس دلاتا ہے۔ ڈاکٹر شاہینہ آصف ، کرنل ممتاز حسین ، میجر مجیب آفتاب اور محترمہ رابعہ رحمٰن کی کمی محسوس کی گئی ۔ سید ثقلین شاہ اور حاکم علی کی کارکردگی کو سراہا گیا ۔ سطوت بٹ نے چیئرمین مسعود علی خان کی شخصیت اور ان کی انسان دوستی کے حوالے سے انہیں خراج تحسین پیش کیا ۔

رکے تو چاند ، چلے تو ہواؤں جیسا ہے

یہ شخص دھوپ میں چھاؤں جیسا ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *