Banner
Daily Sahafat Quetta
August 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
نقاب چاک، چہرہ بے نقاب: فتنہ الہندوستان کا اپنے ہی خون سے لکھا اعترافِ جرمفتنہ الہندوستان کی اپنی ہی دستاویز نے کی اپنے بیانیے کی تردیدمسلم باغ پولیس کی کارروائی، اسلحہ سمیت ملزم گرفتارجمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما ٹکری حمیداللہ مینگل انتقال کر گئےکوئٹہ میں مجلس فکر و دانش کے زیر اہتمام ایرانی و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کانفرنسوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہنقاب چاک، چہرہ بے نقاب: فتنہ الہندوستان کا اپنے ہی خون سے لکھا اعترافِ جرمفتنہ الہندوستان کی اپنی ہی دستاویز نے کی اپنے بیانیے کی تردیدمسلم باغ پولیس کی کارروائی، اسلحہ سمیت ملزم گرفتارجمعیت علماء اسلام کے سینئر رہنما ٹکری حمیداللہ مینگل انتقال کر گئےکوئٹہ میں مجلس فکر و دانش کے زیر اہتمام ایرانی و فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی کانفرنسوزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اوگرا اصلاحات کا جائزہ اجلاس، ایندھن سپلائی کی ڈیجیٹل نگرانی پر زورشہداء قوم کا فخر، ریاست کی طاقت اور ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹیبلوچستان میں نائٹروجینیس کھادوں پر 15 روزہ پابندیبلوچستان پرائس کنٹرول اینڈ پیوینشن منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی ایکٹ تیارپیراڈائز اور روٹری کلب آف لاہور گیریژن کی جانب سے نمایاں طلباء کو لیپ ٹاپ کا عطیہ

بھیڑیوں کا قانون اور نام نہاد رہبر

احمدخان اچکزئی

بھیڑیوں کا قانون اور نام نہاد رہبر

محترم قارئین ۔بھیڑیوں کا ایک قانون ہے کہ جب سردی کے ان دنوں میں جب زمین پر برف جمی ہوتی ہے اور شدید یخ بستہ موسم کی وجہ سے ان کے خوراک کا کوئی بھی ذریعہ باقی نہیں رہتا، تو یہ سب مل کر ایک دائرے کی شکل میں بیٹھ جاتے ہیں۔ چونکہ یہ شدید بھوک اور موت کے منہ میں ہوتے ہیں، اور اصول یہ ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی اپنی آنکھیں بند نہیں کرے گا کیونکہ جو بھی بھیڑیا کمزوری دکھاتے ہوئے آنکھیں بند کر لے گا، تو باقی تمام اس پر ٹوٹ پڑیں گے اور اس کی کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیں گے تاکہ چند دنوں کے لیے اس کے گوشت سے اپنی زندگی بچا سکیں۔ بھیڑیوں کے اس وحشیانہ قانون کی طرح، پشتون بیلٹ کی تاریخ بھی ایک ایسے ہی بے رحم اور سرد ماحول کی عکاس ہے جہاں بدامنی، ٹارگٹ کلنگ، قبائلی رنجشیں اور خونی دشمنیاں اس سخت ترین برف باری کی مانند ہیں جنہوں نے امن، سکون اور انسانیت کے تمام ذرائع مسدود کر دیے ہیں۔ پشتون معاشرے کے یہ مکروہ اور تاریک پہلو اس بات کے غماز ہیں کہ کس طرح مفاد پرست عناصر اور تاریکی کے سوداگروں نے اس خطے کو ایک ایسی دائروی قید میں تبدیل کر دیا ہے جہاں غریب عوام سردی اور غربت سے نبردآزما ہیں، جبکہ نام نہاد قومی کمانڈر، رہبر اور خود ساختہ چوہدری اقتدار اور طاقت کے اس گول دائرے کے بیچوں بیچ براجمان ہیں۔ اس نظام میں عام انسان کی حیثیت صرف اس لاغر بھیڑیے جیسی ہے جو سخت ترین حالات کا شکار ہو کر کمزور پڑ جاتا ہے اور نام نہاد قیادت کے لیے قربانی کا بکرا بننے پر مجبور کر دیا جاتا ہے، اور اس ظلمت کدے میں ظلم کی انتہا یہ ہے کہ جب یہ نااہل اور جاہل کمانڈر اپنے ذاتی مفادات کی بھٹی میں قوم کے خون کو جلانے لگتے ہیں تو وہ اس گھنائونے عمل کو بقا، تحفظ اور مصلحت کا نام دیتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے بھیڑیے اپنے ہی کسی ساتھی کو کمزور دیکھ کر اس کی جان کے درپہ ہو جاتے ہیں اور اجتماعی بقا کا جھوٹا اور فریب کار نعرہ بلند کر کے اس کی لاش پر پل پڑتے ہیں۔ پشتون بیلٹ میں ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی کے جو سائے لہرائے گئے ہیں اور جن کے پیچھے انہی نام نہاد لیڈروں اور اثر و رسوخ کے بھوکے عناصر کے مذموم مقاصد کارفرما ہیں، انہوں نے عام اور پرامن انسانوں کے لیے جینا محال کر دیا ہے۔ یہاں انسانی خون کی ارزانی اتنی بڑھ چکی ہے کہ گلی محلوں میں، بازاروں اور حجروں میں بے گناہ افراد کے جنازے اٹھ رہے ہیں جبکہ یہ خود ساختہ ٹھیکیدار اپنے پرتعیش کمرو اور محلات میں بیٹھ کر خون کے سودے کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ وہ درندے ہیں جو غریب عوام کے بچوں کو جہالت اور غربت کی بھٹی میں جھونک کر خود اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں اور اس سفاکانہ کھیل کو سیاست اور قوم پرستی کا خوبصورت لبادہ پہنا کر مظلوم عوام کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔ جب یہی نااہل اور سفاک کردار اقتدار کے ایوانوں یا قبائلی سرداری کے مسند پر براجمان ہو جاتے ہیں اور نام نہاد قومی کمانڈر بن کر مسلط ہو جاتے ہیں، تو ان کی یہ نام نہاد کامیابی دراصل پورے خطے کی بدقسمتی بن جاتی ہے۔ جب یہ پیٹ بھر کرمست ہو جاتے ہیں، تو ان کے اندر موجود حیوانیت اس حد تک بیدار ہو جاتی ہے کہ ان کے نزدیک انسان کے تقدس، انسانیت کے تقاضوں اور ایک خونخوار بھیڑیے کی درندگی میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ یہ جاہل اور بربر عناصر جب طاقت اور دولت کے نشے میں دت ہو جاتے ہیں تو انہیں نہ تو ماں کی آہوں کی پروا ہوتی ہے اور نہ ہی یتیم بچوں کے سسکیوں کا احساس ہوتا ہے، بلکہ وہ اپنے ذاتی اقتدار کو طول دینے کے لیے پوری نسل کو تباہ کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ آج پشتون خطے میں جو بربریت، جهالت اور ظلم کے بادل چھائے ہوئے ہیں، ان کے پیچھے یہی نااہل اور بے حس قیادت کارفرما ہے جو حیوانی جبلت کی طرح صرف اپنی بقا اور ہوس کی تکمیل چاہتی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس بھیڑیا صفت نظام اور ان نام نہاد کمانڈروں کے مکروہ چہروں کو بے نقاب کیا جائے، جو انسانیت کے نام پر کلنگ کا ٹیکہ ہیں، تاکہ اس مظلوم خطے میں امن، عدل اور حقیقی انسانی اقدار کا سورج دوبارہ طلوع ہو سکے اور عوام اس ظالمانہ زنجیر اور دائروی قید سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نجات حاصل کر سکیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *