Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
پانی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، سیاسی دباؤ کیلیے ہتھیار بنا لینا قابلِ قبول نہیں، وزیراعظمسندھ حکومت کا بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں پر غور، انتخابات سے متعلق اہم فیصلہکوالالمپور میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، روح پرور محفل کا انعقادبلوچستان کی انتظامی تقسیم اور مسائل کا حلنوشکی واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے،پروفیسر حلیم صادق27 ستمبر کا لانگ مارچ سیاست کا رخ بدل دےگا،سید صادق آغاوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدمپانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، وزیراعظماسپتال کی تعمیر پر تنازع ، ہنگو میں جے یو آئی کے سابق تحصیل ناظم سمیت 3 افراد قتلطوفانی بارش سے راولپنڈی، اسلام آباد کے کئی علاقے زیر آب، 2 افراد جاں بحقپانی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، سیاسی دباؤ کیلیے ہتھیار بنا لینا قابلِ قبول نہیں، وزیراعظمسندھ حکومت کا بلدیاتی نظام میں بڑی تبدیلیوں پر غور، انتخابات سے متعلق اہم فیصلہکوالالمپور میں جشنِ عید میلاد النبی ﷺ، روح پرور محفل کا انعقادبلوچستان کی انتظامی تقسیم اور مسائل کا حلنوشکی واقعہ انسانیت کے منہ پر طمانچہ ہے،پروفیسر حلیم صادق27 ستمبر کا لانگ مارچ سیاست کا رخ بدل دےگا،سید صادق آغاوزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کا سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدمپانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے، وزیراعظماسپتال کی تعمیر پر تنازع ، ہنگو میں جے یو آئی کے سابق تحصیل ناظم سمیت 3 افراد قتلطوفانی بارش سے راولپنڈی، اسلام آباد کے کئی علاقے زیر آب، 2 افراد جاں بحق

ڈیجیٹل میڈیا پالیسی آزادیِ صحافت کے منافی ہے، نیشنل پارٹی

نیشنل پارٹی کے مرکزی ترجمان نے بلوچستان حکومت کی مجوزہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2026 کو آزادی صحافت، عوام کے حقِ معلومات اور جمہوری اقدار کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ پالیسی دراصل بلوچستان کے مقامی اخبارات کو ختم کرنے، صحافی برادری کو معاشی عدم تحفظ سے دوچار کرنے اور اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔جاری بیان میں کہا گیا کہ بلوچستان کے مقامی اخبارات کئی دہائیوں سے عوامی مسائل، حکومتی کارکردگی، علاقائی محرومیوں اور دور افتادہ علاقوں کی موثر آواز رہے ہیں۔ اگر یہ پالیسی نافذ کی گئی تو درجنوں اخبارات کی بندش اور صحافیوں، ایڈیٹرز، کمپوزرز، پرنٹنگ ورکرز سمیت متعدد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا، جس سے پہلے ہی مشکلات کا شکار صحافتی شعبہ مزید بحران کا شکار ہوگا۔ترجمان نے کہا کہ بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت یا تو انتہائی ناقص ہے یا مکمل طور پر معطل رہتی ہے، ایسے میں ڈیجیٹل میڈیا کو روایتی اخبارات کا متبادل قرار دینا زمینی حقائق سے انکار کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق لاکھوں شہری آج بھی سرکاری اشتہارات، ملازمتوں، ٹینڈرز، تعلیمی معلومات اور دیگر اہم اعلانات کے لیے مقامی اخبارات پر انحصار کرتے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اس پالیسی کی تیاری کے دوران صحافتی تنظیموں، مقامی اخبارات، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ حلقوں سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کا مقصد چند مخصوص مفادات کو فائدہ پہنچانا اور آزاد آوازوں کو کمزور کرنا ہے۔نیشنل پارٹی نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2026 کو فوری طور پر واپس لیا جائے اور صحافتی تنظیموں، مقامی اخبارات، سیاسی جماعتوں، سول سوسائٹی اور دیگر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے بامعنی مشاورت کے بعد ایسی جامع پالیسی مرتب کی جائے جو آزادی صحافت، عوام کے حقِ معلومات، مقامی اخبارات کے تحفظ اور صحافیوں کے روزگار کو یقینی بنا سکے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *