Banner
Daily Sahafat Quetta
August 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
مری قبیلے کے سرکردہ رہنما میر ہیبت خان کی آج 20ویں برسی مناٸی جارہی ہےکوئٹہ چہلم حضرت امام حسینؓ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل، ایک ہزار سے زائد اہلکار تعیناتوزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوام کو صحت سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے‘بخت محمد کاکڑبلوچستان ہائی کورٹ توسیعی منصوبے میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، بابر خانایس ایم تنویر کی قیادت میں کامیاب و تاریخی پہلی اکنامک سمٹ 2026 کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، محمدآصف خان ترینٹرانسپورٹرز کا 7 ، 8 اگست کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلانبند کمروں کے فیصلوں سے ملک کا نظام چلانے کی کوشش خطرناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقتھانہ کبل کے قریب خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں،اکرام الدینجشن آزادی کی تقریبات بھرپور انداز میں منائی جائیں گی،وزیراعلیٰ بلوچستانکیچ: بلیدہ میں مبینہ اغوا کی کوشش، مزاحمت پر فائرنگ، ایک شخص جاں بحق، دو خواتین زخمیمری قبیلے کے سرکردہ رہنما میر ہیبت خان کی آج 20ویں برسی مناٸی جارہی ہےکوئٹہ چہلم حضرت امام حسینؓ کے جلوس کے لیے فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل، ایک ہزار سے زائد اہلکار تعیناتوزیراعلیٰ بلوچستان کے وژن کے مطابق عوام کو صحت سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے متحرک ہے‘بخت محمد کاکڑبلوچستان ہائی کورٹ توسیعی منصوبے میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، بابر خانایس ایم تنویر کی قیادت میں کامیاب و تاریخی پہلی اکنامک سمٹ 2026 کے انعقاد پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، محمدآصف خان ترینٹرانسپورٹرز کا 7 ، 8 اگست کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کا اعلانبند کمروں کے فیصلوں سے ملک کا نظام چلانے کی کوشش خطرناک ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقتھانہ کبل کے قریب خودکش دھماکے کی شدید مذمت کرتا ہوں،اکرام الدینجشن آزادی کی تقریبات بھرپور انداز میں منائی جائیں گی،وزیراعلیٰ بلوچستانکیچ: بلیدہ میں مبینہ اغوا کی کوشش، مزاحمت پر فائرنگ، ایک شخص جاں بحق، دو خواتین زخمی

زیارت شہداءدھرنا: عزم، استقامت اور بے لوث خدمت کا تاریخی معرکہ

تحریر: عارفہ صدیق ایڈووکیٹ

کسی بھی قوم کی تاریخ میں ایسے مواقع ضرور آتے ہیں جہاں کچھ مخلص، نڈر اور باہمت افراد مشکل حالات میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر خدمت، حوصلے اور اتحاد کی مثال قائم کرتے ہیں۔ پشتونخوا وطن کی مٹی نے ہمیشہ ایسے باہمت افراد پیدا کیے ہیں جنہوں نے اجتماعی مسائل، دکھوں اور مشکلات کے وقت اپنی ذمہ داری کو مقدم رکھا۔آج “زیارت شہدائ دھرنا” صرف ایک اجتماع یا احتجاجی مقام نہیں بلکہ غم زدہ خاندانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی، امن، انصاف اور بہتر مستقبل کی امید کا ایک منظم پلیٹ فارم بن چکا ہے۔ یہ دھرنا ایک طرف شہدائ کے لواحقین کے دکھ اور درد کی ترجمانی کرتا ہے تو دوسری طرف عزم، صبر، خدمت اور اجتماعی شعور کی خوبصورت مثال بھی پیش کر رہا ہے۔اس دھرنے کو منظم رکھنے اور اسے مثبت انداز میں آگے بڑھانے میں کئی مخلص افراد نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوان محمد نسیم پانیزی کا عزم، محترم فیاض صاحب کی حکمت و رہنمائی، اور ڈاکٹر عبدالصمد پانیزی کی بے لوث خدمت نے اس اجتماع کو ایک منظم شکل دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔جب کسی خاندان پر بڑا صدمہ آتا ہے تو انسان کے لیے خود کو سنبھالنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، لیکن زیارت شہدائ دھرنے کے روحِ رواں نوجوان محمد نسیم پانیزی نے حوصلے اور استقامت کی ایک مثال قائم کی۔ان کے خاندان نے بڑے دکھ برداشت کیے۔ ان کے بھائی خیر اللہ شہید، کزن صحبت خان شہید اور نوجوان بھانجے مقبول احمد شہید کی جدائی کا غم ایک بہت بڑا صدمہ ہے، لیکن محمد نسیم پانیزی نے اپنے ذاتی دکھ کو حوصلے، خدمت اور اجتماعی آواز میں تبدیل کیا۔وہ اپنے پیاروں کی یاد اور غم کے ساتھ دھرنے میں موجود رہے، شرکائ کے ساتھ کھڑے رہے، ان کے مسائل کو اجاگر کیا اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ان کی ثابت قدمی اس بات کا اظہار ہے کہ مشکل حالات میں بھی حوصلہ، صبر اور اتحاد کے ذریعے مثبت راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ نوجوان اگر اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ میدان میں آئیں تو وہ معاشرے میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔کسی بھی اجتماعی جدوجہد میں بزرگوں کا تجربہ، حکمت اور رہنمائی بہت اہمیت رکھتی ہے۔ زیارت شہداءدھرنے میں محترم فیاض صاحب اسی کردار کو بخوبی ادا کر رہے ہیں۔ریٹائرڈ ماہرِ تعلیم ہونے کے ناطے انہوں نے اپنی زندگی علم اور تربیت کے لیے وقف کی، جبکہ آج بھی عمر کے اس حصے میں دھرنے کے شرکائ کے درمیان موجود رہ کر خدمت اور رہنمائی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ان کی بردباری، خوش اخلاقی اور نرم رویہ دھرنے میں آنے والے افراد کے لیے حوصلے کا باعث بنتا ہے۔ وہ نوجوانوں کی رہنمائی کرتے ہیں، غم زدہ خاندانوں کو تسلی دیتے ہیں اور اجتماعی معاملات کو بہتر انداز میں آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔قوم ایسے بزرگوں پر فخر کرتی ہے جو اپنی آرام دہ زندگی کو پسِ پشت ڈال کر معاشرتی خدمت کے لیے وقت دیتے ہیں۔کسی بھی طویل اجتماع کو کامیابی سے جاری رکھنے کے لیے صرف جذبات نہیں بلکہ بہترین انتظام، نظم و ضبط اور سہولیات کا ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اس حوالے سے نیورو سرجن ڈاکٹر عبدالصمد پانیزی اور ان کی ٹیم نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ڈاکٹر صاحب ایک مصروف طبی ماہر ہونے کے باوجود دھرنے کے آغاز سے ہی شرکائ کی خدمت میں مصروف ہیں۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ ساتھ انسانی خدمت کو بھی ترجیح دی۔ان کی نگرانی میں شرکائ کے لیے مختلف بنیادی سہولیات کا انتظام کیا گیا۔ آرام کے لیے قالین، بزرگوں کے لیے کرسیاں، موسم کی سختیوں سے بچاو¿ کے لیے سایہ دار انتظامات، پینے کے صاف پانی کی فراہمی، گاڑیوں کے لیے پارکنگ، کھانے اور چائے کا مناسب بندوبست، جبکہ خواتین شرکائ کے لیے الگ اور محفوظ جگہ کا انتظام قابلِ تحسین اقدامات ہیں۔دھرنے میں آنے والے عطیات، ضروری سامان اور دیگر سہولیات کی منظم تقسیم کے لیے بھی ڈاکٹر عبدالصمد پانیزی اور ان کی ٹیم نے ذمہ داری کے ساتھ اپنا کردار ادا کیا ہے۔ان کی عاجزی، خدمت کا جذبہ اور اپنی برادری کے ساتھ وابستگی قابلِ قدر مثال ہے۔زیارت شہدائ دھرنا کئی ایسے افراد کی محنت اور اخلاص کا نتیجہ ہے جنہوں نے پسِ پردہ رہ کر بھی
اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان تمام لوگوں کی خدمات کو ایک مختصر مضمون میں مکمل طور پر بیان کرنا آسان نہیں۔یہ دھرنا عزم، صبر، اتحاد اور خدمت کا ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں نوجوانوں کا جذبہ، بزرگوں کا تجربہ اور تعلیم یافتہ افراد کی صلاحیتیں ایک ساتھ نظر آتی ہیں۔جب نوجوان محمد نسیم پانیزی جیسے افراد حوصلے کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں، جب محترم فیاض صاحب جیسے بزرگ رہنمائی فراہم کرتے ہیں، اور جب ڈاکٹر عبدالصمد پانیزی جیسے اہلِ علم اپنی صلاحیتیں عوامی خدمت کے لیے وقف کرتے ہیں تو معاشرے میں امید، اتحاد اور مثبت سوچ کو فروغ ملتا ہے۔یہ تمام شخصیات اور ان کے ساتھ کھڑے ہزاروں افراد اپنی محنت، نظم و ضبط اور خدمت کے ذریعے ایک یادگار مثال قائم کر رہے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *