Banner
Daily Sahafat Quetta
September 26, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
خضدار: نیشنل پارٹی کے رہنما اسلم بزنجو کی رہائش گاہ پر فائرنگ، گارڈ زخمیکوئٹہ میں پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک، ایک زخمیدکی میں کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ، 11 مزدور اغواخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 2 ہزار 456 واقعات، سیکیورٹی صورتحال پر سوالاتڈاکٹر گوہر خان نوشیروانی کے انتقال پر سردار منظور کاکڑ کا اظہار افسوس اور فاتحہ خوانیچاغی کی مریم بی بی نے MDCAT میں بلوچستان بھر میں اعزاز حاصل کرلیاکوئٹہ: بی این پی عوامی کی یونٹ سازی مہم جاری، ابتدائی یونٹ پارٹی کی بنیاد ہے، ڈاکٹر ناشناس لہڑیپانچ سالہ مدت میں حکماء کی خدمت پر حکیم سراج چانڈیو کو خراج تحسینپشتو زبان کو تخلیقی اور سائنسی زبان بنانے کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں، عبدالمتین اخونزادہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1553/25-9-2026خضدار: نیشنل پارٹی کے رہنما اسلم بزنجو کی رہائش گاہ پر فائرنگ، گارڈ زخمیکوئٹہ میں پولیس مقابلہ، 2 ڈاکو ہلاک، ایک زخمیدکی میں کنسٹرکشن کمپنی کے کیمپ پر حملہ، 11 مزدور اغواخیبرپختونخوا میں دہشتگردی کے 2 ہزار 456 واقعات، سیکیورٹی صورتحال پر سوالاتڈاکٹر گوہر خان نوشیروانی کے انتقال پر سردار منظور کاکڑ کا اظہار افسوس اور فاتحہ خوانیچاغی کی مریم بی بی نے MDCAT میں بلوچستان بھر میں اعزاز حاصل کرلیاکوئٹہ: بی این پی عوامی کی یونٹ سازی مہم جاری، ابتدائی یونٹ پارٹی کی بنیاد ہے، ڈاکٹر ناشناس لہڑیپانچ سالہ مدت میں حکماء کی خدمت پر حکیم سراج چانڈیو کو خراج تحسینپشتو زبان کو تخلیقی اور سائنسی زبان بنانے کیلئے عملی اقدامات ضروری ہیں، عبدالمتین اخونزادہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1553/25-9-2026

اشتہاری مجرم

اشتہاری مجرم
تحریر: زوبیہ انور

زندگی میں سکون کی تلاش اور خوشی کا حصول ہر انسان کی بنیادی خواہش ہے اور روٹی، کپڑا، مکان ،تعلیم بنیادی ضرورت۔ تمام لوگ خواہ وہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتے ہوں، اپنی جسمانی اور قلبی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دن رات مشقت کر رہے ہیں لیکن سکون اور خوشی دونوں کو حاصل کرنے میں ناکام۔ ایسا کیوں ہے؟ بہت دنوں انسان اور معاشرے پر غور و فکر کرنے کے بعد چند وجوہات اور کڑوے سچ میرے دل و دماغ میں روشنی کے دئیے کی مانند چمکنے لگے تو آج قلم کے ذریعے آپ سب سے محو گفتگو ہونے کی تمنا دل میں ابھری ۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ ہمارے معاشرے میں اعتبار کا فقدان کیوں ہے ؟ دراصل کسی کو بھی اپنی ذات پر اعتبار نہیں۔ اعتبار کا فقدان ہماری اپنی ذات سے شروع ہوتا ہے ۔ دوسروں پر اعتبار کرنے سے پہلے اپنی ذات پر اعتبار کرنا ضروری ہے۔ اعتبار کے لیے خود ی کے فلسفے پر دو اہم مفکر اور شاعر غالب اور اقبال نے اپنی شاعری میں ذات اور خودی کے حوالے سے سمندر کو کوزے میں بند کر دیا مگر ہم نے ان مفکرین کی شاعری کو کتابی شکل میں اپنے گھروں اور لائبریریوں میں تو سجا لیا مگر نہ تو اپنے دل میں جذب کیا اور نہ ہی اپنی نسلوں کو آگاہی دے سکے کیونکہ ہمیں اپنی زبان، نظریات اور خودی کے تصور کی نہ ضرورت رہی اور نہ ہی اعتبار ۔
میں آپ کی توجہ ایک بنیادی مسئلے کی طرف دلوانا چاہتی ہوں اور وہ یہ ہے کہ جس معاشرے میں ہم سانس لے رہے ہیں، یہ معاشرہ بنیادی تربیت میں سے سب سے پہلے اعتبار کو برباد کرتا ہے ، اس کے خلاف درس دیتا ہے۔ یہ معاشرہ انسان کو اپنی ذات پر اعتبار کرنے کی اجازت ہی نہیں دیتا اور نہ ہی موقع۔ یہ معاشرہ بچے کو جو اعتبار سکھاتا ہے وہ ان دیکھی اور ناممکن سچائیوں پر اندھا اعتبار کرنا ہے جن میں سب سے پہلے مذہب ہے، چرچ، مسجد ، مندر ، گردواروں پر اعتبار ، مزاروں ، دیوی دیوتاؤں، پادری گرو یا سادھو ، بھگتوں اور اوتاروں پر اعتبار کے بعد پھر والدین پر اعتبار اور آخر میں ریاست پر اعتبار ۔ یہ اعتبار ایک یقینی طور پر بنیادی اعتبار کو برباد کر دیتا ہے۔ آزاد انسان جب اپنی ذات پر اعتبار کرے گا اور اپنی عقل و مشاہدہ اور تجربات کے ذریعے اپنی ذات میں روشنی تلاش کرے گا تو پھر ہی اسے دوسروں کی سمجھ آئے گی۔ پھر جب وہ محبت کرے گا تو اعتبار کرے گا اور پھر اس اعتبار میں حیرت ناک شدت ہوگی، جس میں اصل سچائی ہوگی۔ اپنی ذات پر اعتبار کرنے والا انسان جب اپنی ذات سے باہر اعتماد کرتا ہے تو وہاں محبت کا طوفان پیدا کر دے گا۔ اس اعتبار کے بدلے لوگ اس پر یقین کرنے پر مجبور ہو جائیں گےجب کہ ہمارا معاشرہ ایک بے یقین معاشرہ ہے اور بے اعتبار معاشرہ اپنے لئے خود ہی جابر اور ظالم ڈھونڈ لاتا ہے۔ اگر اس معاشرے میں شادی شدہ خواتین کو اس مثال میں لے آؤں تو تشریح اور آسان ہو جائے گی۔
انسان ایک ایسے درخت کی طرح ہے جس کی جڑیں اس کی ہستی میں ہوتی ہیں۔ غیر ذہین اور غلام ذہن زندگی گزارنے والا انسان دنیا میں کامیاب ترین اور مشہور ترین تو بن سکتا ہے لیکن ایک حقیقی انسان نہیں بن سکتا۔ تو اپنے بچوں پر اعتماد کرنا اور ان کے نظریات اور خیالات کے مطابق ان کی ہستی کا ادراک ہی زندگی میں کامیابی کی پہلی سیڑھی ہے ۔ اعتبار کے بعد دوسری اہم اور بنیادی ضرورت محبت ہے۔ میں نے اکثر یہ مشاہدہ کیا ہے کہ لوگوں کی کثیر تعداد دوسروں کی خامیوں پر نظر رکھتی ہے اور خود سے محبت کرنے کے بھی اہل نہیں ہے ۔ جب تک خود سے محبت نہ ہو تو دوسروں سے محبت کیسے ہو سکتی ہے ؟ جب تک اپنے جسم و جان کی قدر نہ ہو، دوسروں کی حفاظت کیسے ہو سکتی ہے ؟ حیرت ہے کہ یہ معاشرہ خود سے محبت کو خود غرضی سمجھتا ہے جبکہ خود سے محبت ہی درحقیقت دوسروں سے محبت کی ابتدا ء ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص خود سے محبت کرتا ہے تو یہ محبت اس کی شخصیت کو نکھارتی ہے اور مثبت سوچ پروان چڑھاتی ہے اور پھروہ کسی دوسرے پر بے اعتباری نہیں کر سکتا، دھوکہ دینے والوں سے بھی نہیں۔ اعتبار کا معجزہ یہ ہے کہ جب کسی پر حقیقی اعتبار کریں تو اس اعتبار کی فریکوئنسی دوسرے کو اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔ جتنا آپ دوسروں پر اعتبار کرتے ہیں ، آپ کے سکون میں اتنا ہی اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک یہودی صوفی بلیل کے مطابق “اگر تم خود سے محبت نہیں کرو گے تو کوئی بھی تم سے محبت نہیں کرے گا، تم کسی ایسے شخص سے محبت ہی نہیں کر سکتے جو خود سے نفرت کرتا ہو”۔ جو لوگ خود سے محبت نہیں کر سکتے ، اپنی قدر نہیں کرتے، اپنی طاقت کا درست استعمال نہیں کرتے ، اپنی زندگی میں مقصد کا تعین نہیں کرتے تو وہ ساری عمر بے اعتباری اور انا کی زنجیروں میں قید صرف مٹی کے بت ہیں ۔ اسی لیے دنیا میں موجود محبت نام نہاد ہو کر رہ گئی ہے۔ اگر غور کریں تو ہر رشتے میں، خاوند و بیوی، عاشق و معشوق، مرد و عورت کے مابین بھی یہی محبت ہے جس میں انا پھنس گئی ہے۔ دراصل ایسے لوگ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ محبت کے قابل نہیں، وہ صرف نفرت کے اہل ہیں۔
جعلی مسکراہٹیں انسان کو تھکا دیتی ہیں ۔ یہ کاغذی پھول کی مانند ہیں اور جب یہ رشتے ایک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیں تو جھوٹے پن کو جان لیتے ہیں۔ یہی المیہ ہمارے بچوں، والدین ، معاشرے، ملا اور پنڈت ، عوام اور سیاست دانوں کے مابین ہے کہ سب بیہودہ اور بے ہمت مٹی ہو کر رہ گئے ہیں اور ہستی کی اہمیت کے ادراک سے عاری ہیں۔ اعتبار کے فقدان اور محبت کی پہچان کے بعد جو چیز میں نے دیکھی کہ لوگ خیالی پلاؤ پکانے میں مگن ہیں اور خیال کی سچائی کو جاننے کی کوشش میں محو لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔ خیال ایک بیج ہے ، ایک اشارہ ہے اور ایک نکتہ ہے جو انسان کو خواب کی منزل پر لا کر چھوڑ دیتا ہے اور انسان پھر ساری زندگی خواب دیکھتا اور پہیلیاں بوجھتا رہتا ہے۔ یہ ساری زندگی اور کائنات ایک ایسی پہیلی ہے جسے بوجھنے میں انسان کروڑوں سالوں سے مگن ہے۔ اگر انسان یہ تصور کر لے کہ تمام مادی اشیاء سب ایک خواب ہیں اور اس خیال کو اپنے اندر جذب کر لے تو اس حیرت ناک تکنیک کے نتیجے میں اس کی ہستی سے ایک ایسی شے باہر آ جائے گی جو انا کو ساتھ بہا کر لے جائے گی اور وہ ایک ایسی کیفیت میں تبدیل ہو جائے گا کہ وہ خود بھی ایک خواب ہے۔ جب آپ اپنے ذہن کو مکمل طور پر خالی کریں گے اور مادیت سے الگ کردیں گے تو پھر شعور میں شامل تمام اشیاء بھی مادی لگیں گی۔ جب یہ تصور حاوی ہوگا کہ ہر شے خواب ہے یا خواب جیسی ہے تو انسان اپنے ارد گرد، پاس سے گزرنے والوں ، دکانوں، مکانوں ، بسوں، گاڑیوں ، جہازوں ، سورج ، چاند ستاروں سبھی پر اسی انداز میں غور کرے گا کہ یہ سب خواب ہیں۔ تو پھر اس کے اندر یکدم تبدیلی رونما ہوگی کہ یہ دنیا فانی ہے اور اس حقیقت سے آشکار ہونے والا انسان اپنے اندر لالچ، حسد ، انا اور مادہ پرستی کے بت توڑ کر اپنی اصلی طاقت اور صلاحیت کو پہچان سکے گا ۔ مگر اس کے لیے اعتبار، محبت اور خیال کے ساتھ ساتھ آزادی بھی بنیادی حق ہے ۔ ذہنی آزادی نفسیاتی آزادی کو جنم دیتی ہے ۔
افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے سوچ اور نظریے کے حوالے سے ہماری قوم کو غلام بنانے کے لیے باقاعدہ سرمایہ کاری کی ہے۔ لہذا ہماری محبتیں ، جذبے سب مصنوعی اور جعلی ہیں۔ ہم گمراہی کے اس مقام پر ہیں کہ اپنی مرضی سے نہ سوچتے ہیں اور نہ ہی اپنی مرضی کے خلاف رائے قائم کرتے ہیں ۔ انسانیت کی خدمت کے لیے انا کی زنجیریں توڑنا پڑتی ہیں، جہاں ظلم ، جبر اور حکم ہو وہاں نہ تو آزادی ہوتی ہے نہ محبت ۔ شعور انسان کو آزادی سے ہمکنار کرتا ہے، شعور انسانی بلندی کی انتہا ہے۔ جب انسان اپنے اندر اعتبارو محبت کی شمع روشن کرتا ہے اور خیال و خواب کی حقیقت سے آشنا ہوتا ہے تو آزادی کی دہلیز پر کھڑا ہو کر اپنے شعور سے ملاقات کرتا ہے۔ اصل شعور ہے لمحۂ موجود کا ادراک۔ کبھی آپ نے محسوس کیا کہ اکثر لوگ ماضی میں مسلسل جھانکتے رہتے ہیں اور اپنے آباؤ اجداد کی کامیابیوں کے قصوں کو سنا کر محظوظ ہوتے رہتے ہیں اور حال تک پہنچ ہی نہیں پاتے ۔ یا پھر وہ لوگ ہیں جو اپنے حال سے خوفزدہ اور نالاں اور بے قرار ہیں اور مسلسل مستقبل کو اپنی سوچ پر مسلط کیے بیٹھے ہیں۔ وہ زندہ نہیں ہیں، ماضی تو موجود ہی نہیں، فنا ہے۔ مستقبل کا کسی کو کیا معلوم ؟ جو لوگ ماضی اور مستقبل سے آزاد اور حال میں زندہ ہوں ، اس کا ادراک رکھتے ہوں وہ حقیقت شناس ہیں کہ ماضی ایک یاد ہے اور مستقبل ایک خیال۔ تو اگر انسان اپنے حال میں خوش رہے اور آج کو بہتر بنائے اور آج محنت کرے تو ہر طلوع اور غروب ہوتا آفتاب اسے سکون اور کامیابی کی کرنوں سے اس کے آشیانے کو روشن کرتا رہے گا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل ترقی اور آگہی کی منزل کو مقصد حیات بنائے تو ہمیں اپنے بچوں کا دوست بننا ہوگا۔ ان کو اعتبار، یقین ، محبت ، آزادی کے تحائف دینا ہوں گے تاکہ سچ کی تلاش کے سفر میں وہ کلچر، مذہب، رسومات اور فرسودہ نظریات و نظام کی زنجیروں کو اپنے علم ، مشاہدے اور تحقیق کے ذریعے توڑتے ہوئے نئے آکاش تلے اخوت کا بیج بوتے ہوئے رنگ و نسل کے جھوٹ سے آزاد ہو کر آگہی کی دنیا میں قدم رکھیں ۔علم —- دانش و آگہی کے بغیر صرف ایک ادھوری ڈگری ہے۔ کتابی، نصابی اور سماجی سطح پر پہلا علم سچ ہے۔ ہر حال میں سچ بولنا ضروری ہے کیونکہ سچ خیر ہے اور جھوٹ شر ہے۔ شر سے بچنا ہی سکون ہے ۔ علم یہ ہے کہ کہاں سچ بولنا چاہئے اور دانش یہ ہے کہ کہاں خاموش رہنا ہے ۔ سچ بولنے کا نتیجہ، سچ کی حقیقت اور سچ کا فلسفہ کیا ہے ۔ یہ آگہی ہے۔ اور جب تک ہم اپنی نسلوں کو آزادانہ طور پر فلسفہ حیات کو جاننے کے لیے تحقیق کے سفر پر روانہ نہیں کریں گے تب تک سکون اور خوشی ہمارا مقدر نہیں ہوگی۔ میں نے اپنے دل کے کونے میں جلتے ہوئے دیئے کی مدد سے اور کائنات کی وسعتوں سے چند موتی چن کر آپ کی نذر کیے ہیں۔ شاید کچھ لوگ اس بات کو تسلیم کر لیں کہ ہمیں نئی نسل کا احترام کرنا ہے اور ان کو قلب کی آواز کی پیروی کی اجازت دینی ہے ۔ وہ آواز جو دل سے نکلتی ہے، دل کی آواز پر کان دھرنے کی ہمت دینی ہے کیونکہ دل کبھی جھوٹ نہیں بولتا۔ دماغ سے دل میں داخل ہونے کا سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ۔ دل کے راستے سے داخلی تنازعے سے باہر نکلنا ہے تاکہ قدرت کی عظیم عطا کردہ زندگی کا بھرپور لطف اٹھائیں۔ یہی سکون اور خوشی ہے ۔ یاد رکھو، سچ کے سفر میں ظرف اگر چھلک جائے تو روشنی کا سفر رک جاتا ہے اور ادھورے علم کے ساتھ پیر ،گرو ، ملا و پنڈت، سیاسی شعبدہ باز بن کر راہب کا روپ دھار کر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ سب بہروپیئے ہیں، اشتہاری مجرم ہیں، ان سب سے بچنا ہے۔ دانش کی تلاش میں تحقیق کے سفر پر روانہ ہونا پڑتا ہے اور دانشور سے ملاقات ہی آپ کا سکون ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *