Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقات

تربت کے نواحی دیہات بنیادی سہولیات سے محروم

تربت کے نواحی دیہات بنیادی سہولیات سے محروم
رپورٹ: سوشل ایکٹوسٹ ماہ نور شاہ

تربت شہر کو مکران ڈویژن کا ایک ترقی یافتہ اور اہم شہر سمجھا جاتا ہے، لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کے نواحی کئی دیہات آج بھی زندگی کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ حالیہ دوروں اور مقامی افراد سے ملاقاتوں کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ متعدد دیہی علاقوں میں پینے کے صاف پانی، تعلیم، صحت اور آمدورفت جیسی بنیادی ضروریات کا شدید فقدان ہے۔
پانی، جو ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے، کئی دیہات کے مکینوں کے لیے آج بھی ایک خواب بنا ہوا ہے۔ خواتین، بچے اور بزرگ گدھوں پر سوار ہو کر یا پیدل کئی کلومیٹر دور سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ بعض گھروں میں پینے کے لیے ایک بوند پانی تک میسر نہیں، جس کی وجہ سے لوگ شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تعلیم کی صورتحال بھی نہایت تشویشناک ہے۔ کئی علاقوں میں پرائمری سطح کے بعد بچوں خصوصاً بچیوں کے لیے تعلیم جاری رکھنے کے مواقع موجود نہیں۔ یونین کونسل گوکدان دیہات کی ایک بچی نے انتہائی درد بھرے لہجے میں بتایا:
“میں نے آٹھویں جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے، لیکن گزشتہ سات سال سے مزید تعلیم حاصل نہیں کر پا رہی۔ میں آگے پڑھنا چاہتی ہوں، مگر ہمارے علاقے میں گرلز ہائی اسکول موجود نہیں۔”
اس بچی کی بات سن کر دل انتہائی افسردہ ہوا۔ ایک ایسے دور میں جب تعلیم کو ترقی کی بنیاد قرار دیا جاتا ہے، وہاں سینکڑوں بچیاں صرف سہولیات کی کمی کی وجہ سے اپنے خواب ترک کرنے پر مجبور ہیں۔
صحت کے شعبے کی حالت بھی تشویشناک ہے۔ متعدد دیہات میں نہ کوئی اسپتال موجود ہے، نہ بی ایچ یو (Basic Health Unit) اور نہ ہی ڈسپنسری۔ اگر کوئی مریض اچانک بیمار ہو جائے یا کسی خاتون کو زچگی کے دوران طبی امداد درکار ہو تو اسپتال تک پہنچنے سے پہلے ہی جان کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔ مناسب سڑکوں اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
اسی طرح طلبہ و طالبات کے لیے شہر یا قریبی تعلیمی اداروں تک پہنچنے کے لیے بھی کوئی مناسب ٹرانسپورٹ سسٹم موجود نہیں۔ غریب خاندانوں کے بچے صرف اس وجہ سے تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں کہ ان کے پاس روزانہ سفر کے اخراجات برداشت کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا۔
یہ صورتحال نہ صرف تشویشناک بلکہ فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ اگر آج ان بچوں کی تعلیم، صحت اور بنیادی ضروریات کا خیال نہ رکھا گیا تو آنے والی نسلیں بھی انہی محرومیوں کا شکار رہیں گی جن سے ان کے والدین گزرے ہیں۔
تربت کے تمام متعلقہ اداروں، منتخب نمائندوں، سماجی کارکنوں، مخیر حضرات اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے پرزور اپیل ہے کہ وہ ان پسماندہ علاقوں پر خصوصی توجہ دیں۔ ایسے دیہات کا جامع سروے کیا جائے جہاں لوگ پینے کے پانی، صحت، تعلیم اور آمدورفت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان علاقوں میں پانی کے منصوبے، اسکول، صحت مراکز اور ٹرانسپورٹ کی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ وہاں رہنے والے بچوں کو بھی بہتر مستقبل اور ترقی کے مساوی مواقع میسر آ سکیں۔
کیونکہ ہر بچے کو خواب دیکھنے اور انہیں پورا کرنے کا حق حاصل ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *