Banner
Daily Sahafat Quetta
July 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) دینے کی منظوریاے ٹی سی کوئٹہ کا فیصلہ، سردار اختر مینگل کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ کالعدم قرارکوئٹہ، کان حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 32 ہوگئی، صدر،وزیر اعظم کا اظہار افسوسدہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دیامن بورڈ نے حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلاء کا معاہدہ کر لیا، صدر ٹرمپموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟جنرل سید عامر رضا کو نشانِ امتیاز (ملٹری) دینے کی منظوریاے ٹی سی کوئٹہ کا فیصلہ، سردار اختر مینگل کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ کالعدم قرارکوئٹہ، کان حادثے میں جاں بحق افراد کی تعداد 32 ہوگئی، صدر،وزیر اعظم کا اظہار افسوسدہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دیامن بورڈ نے حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے انخلاء کا معاہدہ کر لیا، صدر ٹرمپموسیٰ خیل: 4 کلومیٹر سڑک کی تعمیر و مرمت کا 5.97 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریجمہوریہ بیلاروس کے اعلیٰ سطحی دفاعی وفد کی سربراہ پاک فضائیہ سے ملاقاتجھل مگسی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ ایک شخص قتلدفاتر میں تاخیر، عوام کی تذلیل اور گرتا ہوا نظامِ حکمرانیبلوچستان میں امن کیسے قائم ہوگا؟

ڈاکٹر محمد احسان بھٹہ سیکریٹری کے زیر نگرانی محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب میں اصلاحات کی ایک جھلک تحریر معین الحق علوی


ڈاکٹر محمد احسان بھٹہ سیکریٹری کے زیر نگرانی
محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب میں اصلاحات کی ایک جھلک
تحریر معین الحق علوی
برصغیر پاک و ہند میں اولیائے کرام اور صوفیائے عظام نے اسلام کو تلوار کے زور پر نہیں بلکہ اپنے کردار، محبت، اخلاص اور حسنِ اخلاق کے ذریعے عام کیا۔ اس خطے کے گوشے گوشے کو نورِ ہدایت سے منور کرنے میں ان عظیم ہستیوں کے کردار سے کوئی صاحبِ شعور انکار نہیں کر سکتا۔
رشد و ہدایت کا یہ مبارک سلسلہ آج بھی جاری ہے، مہتاب و آفتاب کی مانند اپنی روشنی بکھیر رہا ہے اور ان شاء اللہ قیامت تک فروزاں و تاباں رہے گا۔ آج بھی کروڑوں افراد ان مقدس آستانوں سے وابستہ ہیں اور اس وابستگی کو اپنے لیے باعثِ سعادت اور باعثِ فخر سمجھتے ہیں۔
پاکستان کی بیشتر بڑی درگاہوں کا انتظام و انصرام محکمہ اوقاف و مذہبی امور کے سپرد ہے۔ محکمہ اوقاف پنجاب کی مجموعی کارکردگی اور انتظامی ڈھانچے کا تفصیلی جائزہ کسی آئندہ کالم میں پیش کیا جائے گا، تاہم اس وقت ایک خوشگوار تجربہ قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
بچپن سے مجھے اپنے والدِ مرحوم کے ہمراہ مختلف مزاراتِ اولیاء پر حاضری کا شرف حاصل رہا ہے۔ شعور کی منزلیں طے کرنے کے ساتھ ساتھ ان مقدس ہستیوں سے میری عقیدت اور وابستگی مزید گہری ہوتی گئی۔ میری ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ان آستانوں پر آنے والے زائرین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، ان کے لیے بہترین سہولیات فراہم کی جائیں اور انہیں ایک پُرسکون اور روح پرور ماحول میسر آئے، لیکن بدقسمتی سے اکثر ایسا دیکھنے میں نہیں آتا۔
حال ہی میں سالانہ عرس مبارک کے موقع پر پاکپتن شریف حاضر ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ موجودہ سیکرٹری اوقاف پنجاب، ڈاکٹر احسان بھٹہ، کی جانب سے محکمہ میں اصلاح و احوال کے لیے شروع کیے گئے اقدامات کی ایک جھلک وہاں نمایاں طور پر محسوس ہوئی۔
سب سے پہلے صحابیٔ رسول حضرت خواجہ عزیز مکیؓ کے دربار شریف پر حاضری دی۔ صفائی ستھرائی اور نظم و ضبط دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی۔ چونکہ مجھے سال میں متعدد مرتبہ وہاں حاضر ہونے کا موقع ملتا ہے، اس لیے ماضی اور حال کا موازنہ کرنا میرے لیے مشکل نہیں۔ اس مرتبہ نہ صرف ماحول خوشگوار تھا بلکہ وہ مناظر بھی دکھائی نہیں دیے جن میں بعض افراد جذباتی انداز اپناتے ہوئے زائرین کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے ہیں۔
بعد ازاں حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کے مزارِ اقدس پر حاضری دی اور ایک زائر کی حیثیت سے تعمیری انداز میں جائزہ لیا۔ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں حالات نمایاں طور پر بہتر محسوس ہوئے۔ صفائی کے بہترین انتظامات، عملے کی خوش اخلاقی، سکیورٹی کی مؤثر نگرانی اور زائرین کی رہنمائی کے لیے اہلکاروں کی موجودگی قابلِ تحسین تھی۔
ایک دلچسپ واقعہ بھی پیش آیا۔ میں نے اپنی خوشی سے ایک اہلکار کو کچھ رقم بطور میلہ پیش کرنا چاہی تو اس نے نہایت ادب سے معذرت کرتے ہوئے کہا: “جناب! اگر ہمارے افسران کو معلوم ہو گیا تو مجھے ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑ سکتے ہیں۔ ہمارے انتظامی افسران اس معاملے میں بہت سخت ہیں اور سیکرٹری صاحب کو بھی اس حوالے سے سختی سے ہدایات حاصل ہیں۔”
میں نے مختلف افراد سے اسی نوعیت کی کوشش کی لیکن کسی نے بھی رقم قبول نہیں کی۔ یہ میرے لیے نہایت خوش آئند اور حیران کن تبدیلی تھی۔
اس کے برعکس چند روز قبل بی بی پاک دامن کے مزار پر پیش آنے والا ایک واقعہ ذہن میں آیا، جہاں ایک خاتون نے میری ہمشیرہ کے بازو پر دھاگہ باندھ کر نذرانے کا مطالبہ کیا اور انکار پر ناراضگی کا اظہار بھی کیا۔ پاکپتن شریف میں ایسی صورتحال کا نہ ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ اگر انتظامیہ اپنی ذمہ داریاں خلوص اور دیانت داری سے ادا کرے تو زائرین کو ایک پُرسکون، باوقار اور روحانی ماحول فراہم کیا جا سکتا ہے۔
عرس کے انتظامات کا سہرا یقیناً زونل ایڈمنسٹریٹر پاکپتن شریف، ان کی ٹیم اور سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ کے سر جاتا ہے۔ اچھے کام کی حوصلہ افزائی معاشرے میں مثبت رجحانات کو فروغ دیتی ہے، اس لیے ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔
اس موقع پر پاکپتن شریف کے سجادگان میں سے دیوان احمد مسعود چشتی صاحب سے ملاقات بھی ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی مرتبہ محکمہ اوقاف مختلف مذہبی رسومات کی ادائیگی میں بھرپور تعاون کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں تمام تقریبات نہایت وقار اور خوش اسلوبی سے انجام پا رہی ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایسا منفرد عرس ہے جس میں ملک بھر سے مختلف سلاسل کے مشائخ عظام، علماء کرام، مذہبی شخصیات اور لاکھوں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔
میں امید کرتا ہوں کہ دس محرم الحرام تک یہی جذبہ، انہی اعلیٰ روایات اور اسی احساسِ خدمت کے ساتھ برقرار رکھا جائے گا تاکہ ملک بھر سے آنے والے لاکھوں زائرین اپنی حاضری اطمینان اور سکون کے ساتھ مکمل کر سکیں۔ بالخصوص سجادگانِ عظام، مشائخِ کرام، علماءِ کرام اور مختلف روحانی سلاسل سے وابستہ معزز شخصیات کا عزت و احترام، حسنِ استقبال اور مناسب پروٹوکول کے ساتھ خیر مقدم کیا جانا چاہیے تاکہ ان کے مریدین اور وابستگان بھی ایک خوشگوار تاثر لے کر واپس جائیں۔
البتہ ایک کمی محسوس ہوئی کہ شدید گرمی کے پیش نظر پانی کی سبیلوں کی تعداد میں اضافہ کیا جانا چاہیے۔ مقامی انتظامیہ، تاجروں اور مخیر حضرات کے تعاون سے اس ضرورت کو بخوبی پورا کیا جا سکتا ہے۔
میری تجویز ہے کہ سیکرٹری اوقاف ڈاکٹر احسان بھٹہ اپنے اصلاحاتی ایجنڈے کے تحت سکیورٹی گارڈز سے لے کر زونل ایڈمنسٹریٹرز تک تمام عملے کی باقاعدہ تربیت کا اہتمام کریں، تاکہ زائرین کے ساتھ حسنِ سلوک، خدمت اور تعاون کا جذبہ مزید مضبوط ہو۔
اگر پاکپتن شریف کے تجربے کو ایک ماڈل کے طور پر اختیار کرتے ہوئے دیگر مزارات پر بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کیا جائے تو یقیناً لاکھوں زائرین کی دعائیں انتظامیہ کے شاملِ حال ہوں گی، کیونکہ درباروں پر آنے والا ہر شخص دنیاوی مفادات سے بالاتر ہو کر روحانی سکون، محبت اور عقیدت کے جذبے کے ساتھ حاضر ہوتا ہے۔ ایسے زائرین کی خدمت درحقیقت ایک عبادت اور عظیم سعادت سے کم نہیں

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *