Banner

پاکستان کو پروفیشنل فٹبال کی ضرورت ہے

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر: ابوبکر دانش میروانی بلوچ

دنیا بھر میں فٹبال صرف ایک کھیل نہیں بلکہ ایک صنعت، ایک ثقافت اور نوجوانوں کی ترقی کا مؤثر ذریعہ بن چکا ہے۔ یورپ، جنوبی امریکہ، افریقہ اور ایشیا کے متعدد ممالک نے فٹبال کے ذریعے نہ صرف عالمی سطح پر اپنی شناخت قائم کی بلکہ لاکھوں نوجوانوں کو روزگار، شہرت اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع بھی فراہم کیے۔ بدقسمتی سے پاکستان، جہاں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں، آج بھی فٹبال کے میدان میں اپنی حقیقی صلاحیتوں کے مطابق مقام حاصل نہیں کر سکا۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ ملک میں پروفیشنل فٹبال کے مضبوط اور مستقل نظام کا فقدان ہے۔
پاکستان کے گلی کوچوں، دیہاتوں اور شہروں میں بے شمار نوجوان فٹبال کھیلتے ہیں۔ بلوچستان، سندھ، پنجاب خیبر پختونخوا اور دیگر علاقوں میں فٹبال سے محبت رکھنے والے لاکھوں کھلاڑی موجود ہیں جو محدود وسائل کے باوجود اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہیں۔ تاہم ان نوجوانوں کے لیے آگے بڑھنے کا کوئی واضح اور منظم راستہ موجود نہیں۔ بیشتر باصلاحیت کھلاڑی مناسب تربیت، مالی معاونت، جدید سہولیات اور پیشہ ورانہ مواقع نہ ہونے کی وجہ سے گمنامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
پروفیشنل فٹبال لیگ کسی بھی ملک میں کھیل کی ترقی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ایک مضبوط لیگ نہ صرف کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کو نکھارتی ہے بلکہ کوچز، ریفریز، مینیجرز اور کھیل سے وابستہ دیگر شعبوں کے لیے بھی مواقع پیدا کرتی ہے۔ پاکستان میں اگر باقاعدہ پروفیشنل فٹبال لیگ کا مستقل انعقاد کیا جائے، کلبوں کو مضبوط بنایا جائے اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے ترقی کے واضح مراحل متعین کیے جائیں تو ملکی فٹبال میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔
دنیا کے کئی ممالک اس کی زندہ مثال ہیں۔ جاپان، قطر، سعودی عرب اور ازبکستان نے چند دہائیوں کے اندر اپنی فٹبال لیگوں کو منظم کرکے بین الاقوامی سطح پر شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔ ان ممالک نے کھیل کو صرف تفریح نہیں سمجھا بلکہ ایک قومی سرمایہ تصور کرتے ہوئے اس میں سرمایہ کاری کی۔ نتیجتاً ان کی قومی ٹیمیں عالمی مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے لگیں۔ پاکستان بھی اگر سنجیدہ منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی کے ساتھ فٹبال کے شعبے پر توجہ دے تو کامیابی کا سفر ناممکن نہیں۔
ملک میں فٹبال کے فروغ کے لیے ضروری ہے کہ اسکولوں، کالجوں اور جامعات کی سطح پر باقاعدہ مقابلوں کا انعقاد کیا جائے۔ ضلعی، صوبائی اور قومی سطح پر مربوط نظام قائم کیا جائے تاکہ باصلاحیت کھلاڑی آسانی سے قومی دھارے میں شامل ہو سکیں۔ اس کے ساتھ جدید فٹبال اکیڈمیوں، معیاری گراؤنڈز اور تربیت یافتہ کوچز کی فراہمی بھی ناگزیر ہے۔ نجی شعبے اور کارپوریٹ اداروں کو بھی فٹبال میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی جانی چاہیے تاکہ کھیل مالی طور پر مستحکم ہو سکے۔
پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ نوجوان اگر کھیلوں کی مثبت سرگرمیوں سے وابستہ ہوں تو نہ صرف معاشرتی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ ملک کو بین الاقوامی سطح پر نئی شناخت بھی ملے گی۔ فٹبال نوجوانوں میں نظم و ضبط، ٹیم ورک، برداشت اور قیادت جیسی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے، جو ایک مضبوط معاشرے کی تعمیر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
آج وقت کا تقاضا ہے کہ فٹبال کو محض شوق یا تفریح کے بجائے ایک پروفیشنل شعبے کے طور پر دیکھا جائے۔ حکومتی اداروں، کھیلوں کی تنظیموں، نجی شعبے اور عوام کو مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دینا ہوگا جہاں باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے بڑھنے کے مساوی مواقع حاصل ہوں۔ اگر پاکستان نے فٹبال کے میدان میں ترقی کرنی ہے تو پروفیشنل فٹبال کے قیام اور استحکام کو قومی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔
پاکستان کے نوجوانوں کے پاس جذبہ بھی ہے، صلاحیت بھی اور خواب بھی۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ انہیں ایک مضبوط پلیٹ فارم، جدید سہولیات اور پیشہ ورانہ مواقع فراہم کیے جائیں۔ جس دن پاکستان میں حقیقی معنوں میں پروفیشنل فٹبال کا نظام قائم ہو گیا، اس دن قومی فٹبال کے روشن مستقبل کی بنیاد بھی رکھ دی جائے گی۔ فٹبال کا میدان پاکستان کے لیے صرف کھیل نہیں بلکہ امید، ترقی اور عالمی شناخت کا دروازہ بن سکتا ہے۔

پاکستان کو پروفیشنل فٹبال کی ضرورت ہے

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us