Banner

عید الاضحی اور ہماری صفائی

Share

Share This Post

or copy the link


عید الاضحی اور ہماری صفائی
از قلم : محمد احسان

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اسلام دینِ فطرت ہے جو انسان کی زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے نہ صرف عبادات کی تعلیم دی ہے بلکہ اخلاقیات، معاشرتی آداب، طہارت اور صفائی جیسے اہم امور پر بھی خصوصی توجہ دلائی ہے۔

حدیثِ شریف میں ہے: “بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے۔” ( صحیح مسلم ، 91 )

علمائے کرام اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی ظاہری و باطنی صفائی کے ساتھ اپنے اردگرد کے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھے۔

اگر اسلام کا دیگر مذاہب سے تقابل کیا جائے تو یہ بات بالکل عیاں ہو جاتی ہے کہ دیگر مذاہب زیادہ تر ظاہری صفائی پر زور دیتے ہیں، جبکہ اسلام میں دل و نیت کی پاکیزگی، ماحول کی صفائی اور جسمانی طہارت تینوں کو یکساں اہمیت حاصل ہے۔

صفائی محض صحت کی ضمانت ہی نہیں بلکہ دوسروں کو تکلیف سے بچانے کا بھی ذریعہ ہے۔ ایک پاکیزہ انسان نہ صرف اپنے ماحول کو صاف رکھتا ہے بلکہ معاشرے میں بھی خوشگوار اثرات مرتب کرتا ہے۔

چند دنوں بعد عیدالاضحیٰ آنے والی ہے۔ اس موقع پر ہر صاحبِ استطاعت مسلمان قربانی کرکے سنتِ ابراہیمی کو زندہ کرے گا، مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس بابرکت موقع پر ہمارے معاشرے میں صفائی کا فقدان نمایاں نظر آتا ہے۔ سڑکوں، شاہراہوں، گلی محلوں اور عوامی مقامات پر گندگی پھیل جاتی ہے۔ ہر طرف جانوروں کے فضلات اور آلائشیں پڑی نظر آتی ہیں، جس سے لوگوں کو نہ صرف اذیت ہوتی ہے بلکہ اس غفلت کے باعث کئی حادثات بھی رونما ہوتے ہیں۔

پنجاب بھر میں بھی ان حالات سے نمٹنے کے لیے ایئرپورٹس اور ایئر بیسز کے گرد دفعہ 144 نافذ کی گئی، کیونکہ لوگ چھتوں اور کھلے میدانوں میں جانوروں کی آلائشیں اور گوشت پھینک دیتے ہیں، جس سے گوشت خور پرندے جمع ہوتے ہیں اور طیاروں سے ٹکرانے کے واقعات پیش آتے ہیں۔

لہٰذا تمام حضرات حکومت کی متعین کردہ جگہوں پر کچرا پھینکنے کا اہتمام کریں اور صفائی کو اپنی دینی و معاشرتی ذمہ داری سمجھیں۔

ہمارے استادِ محترم حضرت مولانا مفتی محمود اشرف عثمانی رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: “اگر آپ نے اسی ہزار روپے کا جانور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربان کیا ہے، اور قصائی کو سات، آٹھ ہزار روپے دیے ہیں، تو اپنے گھر کے باہر صفائی کے لیے پانچ سو یا ایک ہزار روپے بھی خرچ کر دیں، کیونکہ پاکیزگی نصف ایمان ہے۔” ( سابق استاد الحدیث جامعہ دارالعلوم کراچی)

صفائی میں کوتاہی کی وجہ سے بسا اوقات ازدواجی تعلقات بھی متاثر ہوتے ہیں۔ یہ ایک ریکارڈ شدہ حقیقت ہے کہ طلاق کی بہت سی وجوہات میں سے ایک وجہ صفائی پر عدم توجہ بھی ہے۔

صفائی نہ صرف فرد کی ذاتی ضرورت ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے بھی ناگزیر ہے۔

از قلم : محمد احسان
فون نمبر : 03108049517

عید الاضحی اور ہماری صفائی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us