Banner

اخلاقی دیوالیہ پن اور رشتوں کا زوال

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

محترم قارئین ۔ عصرِ حاضر میں مادی آسائشوں کی دوڑ اور ہوسِ زر نے انسانی ضمیر کو اس نہج پر لا کھڑا کیا ہے جہاں دردِ دل، صلہ رحمی اور خونی رشتوں کا تقدس محض کتابی باتیں بن کر رہ گئے ہیں۔ سماجی تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ ماضی کی وحشیانہ تہذیبوں میں بھی کم از کم اپنے قبیلے اور والدین کے تحفظ کا کوئی نہ کوئی غیر تحریری ضابطہ موجود رہتا تھا، مگر دورِ جدید کی نام نہاد مہذب دنیا میں ابنِ آدم جس سفاکی اور قساوتِ قلبی (پتھر دلی) کا مظاہرہ کر رہا ہے، اس کی مثال تاریخ کے بدترین تاریک ادوار میں بھی نہیں ملتی۔ یہ ایک تلخ حقیقت اور ٹھوس ثبوت ہے کہ انسان جوں جوں ٹیکنالوجی اور سرمائے کی چرم سیما (آخری حد) کو چھو رہا ہے، توں توں اس کے اندر کا اخلاقی وجود اتنی ہی تیزی سے مسخ ہو رہا ہے۔ اجداد اور والدین، جو کسی بھی معاشرے کا سب سے معزز اور محترم اثاثہ ہوتے ہیں، آج وہی اپنے ہی خون کے ہاتھوں بدترین تذلیل، تشدد اور تنہائی کا شکار ہیں۔پراپرٹی، جائیداد اور ذاتی مفادات کی خاطر رشتوں کا قتلِ عام اور اپنوں کو ہی قید و بند کی صعوبتوں میں دھکیل دینا اس اخلاقی دیوالیہ پن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ طاقتور اور متمول خاندانوں کے چشم و چراغ اپنے ہی بوڑھے والدین کو سالہا سال تک تاریک کمروں یا بیت الخلا جیسے غلیظ مقامات پر صرف اس لیے محبوس کر دیتے ہیں تاکہ ان کی املاک پر قبضہ کیا جا سکے۔ یہ حیران کن اور رونگٹے کھڑے کر دینے والی سچائی انسانیت کے ماتھے پر کلنک ہے کہ جہاں سو سو ایکڑ اراضی کے مالک وارث اپنے ہی والدین کو محض چند کوڑیوں کی خاطر اس حد تک فاقہ کشی پر مجبور کر دیتے ہیں کہ ان کا جسم محض ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جائے۔ اس سے بھی بڑھ کر شقاوتِ قلبی کی انتہا وہ شواہد ہیں جہاں بیرونِ ملک مراعات یافتہ زندگی یا گرین کارڈ کے حصول کی خاطر سگے بیٹے اپنے نحیف اور بسترِ علالت پر پڑے باپ کو چوہوں اور موذی جانوروں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر فرار ہو جاتے ہیں۔ یہ واقعات ثابت کرتے ہیں کہ جدید دور کا انسان اپنے ہی وجود کے خول میں بند ہو کر ایک ایسے بھیانک درندے کا روپ دھار چکا ہے جس کے لیے جذباتی وابستگی اور خونی تقدس کا اب کوئی وجود نہیں رہا۔اس بھیانک زوال کا دوسرا رخ وہ لاوارث اور بے سہارا لوگ ہیں جو سڑکوں، نالوں اور فٹ پاتھوں پر سسک سسک کر دم توڑ دیتے ہیں۔ سماجی بے حسی کی انتہا یہ ہے کہ کثیر آبادی والے شہروں میں ہزاروں انسان ایسے ہیں جنہیں شدید بیماریوں، برہنگی اور کسمپرسی کی حالت میں سڑکوں پر گلنے سڑنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ موت کے بعد بھی ان کی بے حرمتی کا سلسلہ نہیں رکتا؛ روزانہ درجنوں ایسی لاوارث لاشیں ہسپتالوں اور سرد خانوں میں جمع ہوتی ہیں جن کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا۔ تاریخی طور پر ہر تہذیب میں مردوں کی تدفین اور آخری رسومات کو ایک مقدس فریضہ مانا گیا ہے، لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ اولاد اپنے والدین کی موت کے بعد ان کی باقیات یا میت وصول کرنے تک نہیں آتی۔ اس بدترین صورتحال میں اگرچہ کچھ دردمند اور مخلص افراد اپنی مدد آپ کے تحت ان بے سہاروں کو پناہ، علاج اور موت کے بعد باعزت تدفین فراہم کرنے کی انسانی کوششیں کر رہے ہیں، مگر مجموعی طور پر ہمارا معاشرہ ایک ایسے نفسیاتی اور اخلاقی بحران کا شکار ہو چکا ہے جہاں انسانی ہمدردی کا جنازہ نکل چکا ہے اور رشتوں کی جگہ صرف اور صرف مادیت پرستی نے لے لی ہے۔

اخلاقی دیوالیہ پن اور رشتوں کا زوال

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us