Banner

لفظوں کے چراغ اور فکر کی خوشبو ، میری آرزو اور لاکھوں کی جستجو ، نذیر قیصر کی نئی کتاب کی مہکتی تقریبِ رونمائی اور پذیرائی

Share

Share This Post

or copy the link

منشا قاضی
حسبِ منشا

ادب صرف لفظوں کا ہنر نہیں ہوتا بلکہ تہذیب، احساس، تاریخ اور روح کا ایسا سفر ہوتا ہے جو نسلوں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے۔ جب کوئی سچا شاعر اپنی فکر کے چراغ روشن کرتا ہے تو وہ محض کتاب نہیں لکھتا بلکہ زمانے کے اندھیروں میں معنی کی شمعیں جلاتا ہے۔ ایسی ہی ایک پُروقار، فکری اور روحانی تقریب معروف و ممتاز شاعر، ادیب اور دانشور نذیر قیصر کی نئی کتاب ” حرف سے کونپلیں نکل آئیں“ کی تقریبِ رونمائی کے سلسلے میں منعقد ہوئی، جس نے اہلِ علم و ادب کے دلوں کو اپنی معنویت، وقار اور محبت سے معطر کر دیا۔ ان کے چاہنے والوں کی آرزو جاگ اٹھی ،
یہ باوقار تقریب Constructive Thinkers Network (CTN) کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، جس کے روحِ رواں چیئرمین مسعود علی خان تھے، جو ماضی میں TDCP کے منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ تقریب ادب، دانش اور محبت کا ایسا حسین امتزاج تھی جہاں لفظ فقط بولے نہیں گئے بلکہ محسوس بھی کیئے گئے۔
تقریب کی صدارت معروف علمی و ادبی شخصیت ڈاکٹر محمد کامران نے کی، جبکہ نظامت کے فرائض نہایت شائستگی اور فکری وقار کے ساتھ شہزاد نیئر نے انجام دیے۔ ان کی گفتگو میں ادب کی لطافت اور محفل کی نزاکت یکجا دکھائی دی۔ آپ نے طوالت پر اختصار کو ترجیع دی گویا آپ کی نقابت کا دورانہ لذتِ وصل سے بھی مختصر تھا
اس تقریب کے مہمانِ خصوصی مسعود علی خان کے بچپن کے دوست اور بے تکلف یار تھے ۔ نہ قبلہ نہ قبلی میرے بھائی شبلی وہ انہیں کہہ سکتے ہیں وہ کون تھے پاکستان کے ممتاز کالم نگار، شاعر، دانشور اور مزاح نگار عطاء الحق قاسمی کی ذاتِ گرامی تھی وہ مہمانِ خاص کے طور پر شریک ہوئے، جن کی موجودگی نے تقریب کو ایک فکری وقار عطا کیا۔ عطاء الحق قاسمی نے اپنے مخصوص دلنشیں انداز میں نذیر قیصر کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نذیر قیصر اُن تخلیق کاروں میں سے ہیں جو لفظ کو محض اظہار نہیں بلکہ روح کی روشنی بنا دیتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبت کی نرمی، سماج کا شعور، اور انسان دوستی کی وہ مہک موجود ہے جو قاری کے باطن میں دیر تک اترتی رہتی ہے۔
تقریب میں معروف دانشور ڈاکٹر نجیب جمال اور ڈاکٹر کوثر جمال چیمہ اور دیگر معزز مقررین نے بھی اظہارِ خیال کیا اور نذیر قیصر کی ادبی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ مقررین نے کہا کہ نذیر قیصر کی تحریریں ہمارے عہد کے منتشر انسان کو باطن کی طرف لوٹنے کی دعوت دیتی ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ ہونے کے باوجود تہہ دار ہے اور ان کے استعاروں میں زندگی کی گہری رمزیت پوشیدہ ہے۔
نذیر قیصر کی شخصیت خود ایک چلتی پھرتی نظم محسوس ہوتی ہے۔ وہ ان ادیبوں میں شامل ہیں جو شہرت سے زیادہ تخلیق کی سچائی پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے لفظوں میں دھیمی روشنی کی وہ تاثیر ہے جو قاری کے دل میں خاموشی سے اترتی چلی جاتی ہے۔ ان کی شاعری اردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں انسانی احساسات کی ایک وسیع کائنات آباد کرتی ہے۔
تقریب کے میزبان اور CTN پاکستان کے سیکریٹری جنرل توقیر احمد شریفی نے تمام معزز مہمانوں، اہلِ قلم، دانشوروں اور شرکائے محفل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ادبی تقریبات معاشرے میں فکری روشنی پیدا کرتی ہیں اور نوجوان نسل کو ادب، شعور اور مثبت فکر سے جوڑتی ہیں۔
چیئرمین CTN مسعود علی خان نے بھی تمام معزز مہمانوں کی آمد پر دلی تشکر کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ادب زندہ معاشروں کی پہچان ہوتا ہے اور نذیر قیصر جیسے تخلیق کار ہماری تہذیبی شناخت کے روشن استعارے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ CTN مستقبل میں بھی ایسے علمی و ادبی پروگراموں کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے گا تاکہ معاشرے میں مثبت فکر، مکالمے اور تخلیقی شعور کو فروغ دیا جا سکے۔

گفتگو طرازی میں بے مثال ڈاکٹر کوثر جمال چیمہ نے اپنی گفتگو میں کہا نذیر قیصر صاحب سات دہائیوں سے لکھ رہے ہیں لیکن آج بھی کوئی دعویٰ نہیں ، آج بھی حرف سے کونپلیں نکلنے کی بات کرتے ہیں جبکہ آپ کا لکھا اور کہا ہوا ایک ایک حرف تناور سایہ دار اور سدا بہار درخت ہے ۔ آپ کا ہر شعر حقیقت نگاری کا مرقع ہے زبان اس قدر سادہ اور شستہ ہے کہ پڑھنے اور سننے والے پر بھاری بھر کم الفاظ کا بوجھ نہیں ہوتا اور میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایسی خوبی ہے جو شاعر اور قاری کے درمیان کا فاصلہ مٹا دیتی ہے ۔ شعر ملاحظہ ہوں۔

اسے کہو یہ ہیرے موتی پتھر ہیں

جل کی بوند اور پھول کی پتی دان کرئے

اور

یہ جو رب کے نام سے جنت بیچتے ہیں

کوئی فرشتہ ان کا بھی چالان کرئے

ایک پُر اثر شعر تخلیق کرنے کے لیئے جذبوں کی شدت ، عملی بصیرت، سماجی شعور و فکر اور اظہار کی روانی بہت ضروری ہے اور نذیر قیصر صاحب کا ہر ہر شعر اس کی واضع دلیل ہے ۔ اس بات پہ کوئی دو رائے نہیں کہ جناب قیصر صاحب محبت کے شاعر ہیں اور محبت ہی ان کا موسم ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ وہ ایک بے حد حساس انسان ہیں اور گہری سوچ رکھتے ہیں ۔

شہر جلتا ہے مگر خلقتِ شہر

آج کل شور مچاتی بھی نہیں

طاھر منظور نے یوں نذیر قیصر صاحب کے حضور نذرانہ ء عقیدت پیش کیا انہوں نے کہا کہ نذیر قیصر صاحب کا فن محض لفظ و بیان کا حسین مجموعہ نہیں بلکہ ان کی روح کی زرخیز کھیتی میں کی گئی وہ ایک ایسی الہامی کاشت ہے جس کے ہر ہر حرف سے سچائی اور بصیرت کی نئی نئی کونپلیں پھوٹتی دکھائی دیتی ہیں ان کی علم و آگہی اور فیض رسانی کے اس تابناک سفر کے حضور اپنے دلی احترام کے ساتھ یہ چند اشعار پیشِ خدمت کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں ۔

بساطِ ذہن میں مرشد کی صحبتیں جاگیں

قلم کی شاخ پر کیسی حلاوتیں جاگیں

وہ جس نے بنجر قرطاس کو نمو بخشی

اس کے لمس سے حرفوں میں کونپلیں جاگیں

ہنر کی راہ میں دستِ شفیق کا ہے کرم

ملی مراد تو کیسی یہ حکمتیں جاگیں

اسے چراغ سے، جگنو سے عشق ہے کتنا

جو مسکرائے تو معصوم رفعتیں جاگیں

سکوتِ شب میں جو پیڑوں سے بات کرتا ہے

اسی کے فیض سے پھر سب بصیرتیں جاگیں

وہ حرفِ حق کو نئے استعارے دیتا ہے

جو بولتا ہے تو کتنی حقیقتیں جاگیں

قدیم رشتوں کو ندرت کا پیرہن بخشا

شعور و فکر کی سونی جبلتیں جاگیں

وہ جس کے فن میں پرندوں کی بولیاں ٹھہریں

دلِ حزیں میں انوکھی لطافتیں جاگیں

کتابِ زیست کی خوشبو کا وہ ہے شاہ سوار

دکھائیں فن نے جو قیصر کرامتیں جاگیں

لگا کے پیڑ دعا کے لیئے ہاتھ اٹھے

میری زبان کو استاد نے ہنر بخشا

تبھی تو حرف میں طاہر یہ ندرتیں جاگیں

حلقہ ء اربابِ ذوق کے سابق صدر محترم غلام حسین ساجد ، محترمہ رابعہ رحمٰن ، محترمہ رخشندہ نوید نے بھی اظہارِ خیال کیا ۔

تقریب کے اختتام پر نہایت پرتکلف اور شاندار ہائی ٹی کا اہتمام کیا گیا، جہاں مہمانوں کی بھرپور محبت، خلوص اور روایتی مہمان نوازی کے ساتھ تواضع کی گئی۔ خوشگوار گفتگوؤں، ادبی تبادلۂ خیال اور قہقہوں کے درمیان یہ محفل ایک خوبصورت یاد بن گئی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے لفظ، خوشبو، موسیقی اور محبت سب ایک ہی فضا میں تحلیل ہو کر روح کی ضیافت بن گئے ہوں۔
یہ تقریب اس حقیقت کی ایک روشن مثال تھی کہ جب ادب زندہ ہو، شاعر بیدار ہو، اور اہلِ علم یکجا ہوں تو معاشرے کے فکری چراغ کبھی بجھ نہیں سکتے۔ نذیر قیصر کی نئی کتاب یقیناً اردو ادب کے افق پر ایک اور روشن ستارے کی مانند دیر تک اپنی روشنی بکھیرتی رہے گی۔

لفظوں کے چراغ اور فکر کی خوشبو ، میری آرزو اور لاکھوں کی جستجو ، نذیر قیصر کی نئی کتاب کی مہکتی تقریبِ رونمائی اور پذیرائی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us