Banner

لندن کی ڈگریاں اور فریبِ قناعت

Share

Share This Post

or copy the link


محترم قارئین ۔ کسی بھی قوم کے زوال کا سفر اس وقت نقطہِ عروج کو چھونے لگتا ہے جب اس کی فکری قیادت اور اشرافیہ کے قول و فعل کے درمیان خلیج اتنی وسیع ہو جائے کہ وہ عام فہم منطق سے ماورا ہو جائے۔ ہمارے معاشرے میں، بالخصوص پشتون علاقوں اور پسماندہ طبقات میں، ایک ایسی نفسیاتی تقسیم دانستہ طور پر پیدا کر دی گئی ہے جہاں “حقائق” اور “تقاریر” دو الگ الگ جزیرے بن چکے ہیں۔ منبر و محراب سے لے کر سیاسی اسٹیج تک، عوام کے کانوں میں مسلسل یہ رس گھولا جاتا ہے کہ غربت ایک الٰہی امتحان ہے اور دنیاوی آسائشوں کی طلب روحانیت کے منافی ہے۔ یہ “صبر کی تلقین” دراصل اس مفلوج طرزِ فکر کا حصہ ہے جس کا مقصد عوام کو ان کے بنیادی انسانی و سیاسی حقوق سے غافل کر کے ایک ایسے حصار میں قید کرنا ہے جہاں وہ اپنی محرومی کو “رضائے الٰہی” سمجھ کر قبول کر لیں۔ یہ ایک المیہ ہے کہ جو طبقہ عوام کو انگریزی تعلیم اور مغربی تہذیب سے بیزاری کا درس دیتا ہے، اسی طبقے کی اگلی نسلیں لندن، آکسفورڈ اور کیمبرج کی راہداریوں میں اپنی علمی و سیاسی بالادستی کی بنیادیں استوار کر رہی ہوتی ہیں۔ جب غریب کا بچہ اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے تو اسے مذہبی یا روایتی تقدس کے لبادے میں لپٹی “درویشی” کا واسطہ دے کر خاموش کرا دیا جاتا ہے، جبکہ اشرافیہ کے چشم و چراغ لندن کی سڑکوں پر گریجویشن کی ٹوپیاں ہوا میں اچھال کر اپنی کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں۔ یہ دہرا معیار صرف ایک سماجی تفاوت نہیں بلکہ ایک گہری منظم سازش ہے جس کے ذریعے شعوری طور پر ایک طبقے کو غلام اور دوسرے کو حاکم بنائے رکھنے کا انتظام کیا گیا ہے۔
اس استحصالی نظام کا سب سے تاریک پہلو وہ “ذہن سازی” ہے جس کا شکار پشتون قوم کو بنایا گیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی ریاست کو اپنے مخصوص مفادات کے لیے ایندھن کی ضرورت پڑی، انہی پسماندہ طبقات کے جذبات کو مذہب اور جہاد کے نام پر ابھارا گیا۔ انہیں جنت کے سہانے خواب دکھا کر میدانِ جنگ کی نذر کر دیا گیا، مگر حیرت انگیز طور پر ان “مقدس تحریکوں” کے سرخیلوں کے اپنے بچے کبھی ان محاذوں پر نظر نہیں آئے۔ ان کے لیے دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے اور محفوظ ترین پناہ گاہیں وقف تھیں، جبکہ غریب کے مقدر میں صرف “فتویٰ” اور “جذباتیت” آئی۔ یہ وہی نوآبادیاتی ہتھکنڈے ہیں جو کبھی انگریز سامراج نے برصغیر کے لوگوں کو ذہنی غلام بنانے کے لیے استعمال کیے تھے، مگر آج یہ کام “مقدس لبادوں” میں چھپے وہ لوگ کر رہے ہیں جو خود تو جدیدیت کے تمام ثمرات سے مستفید ہو رہے ہیں لیکن عوام کے لیے علم کے دروازے بند رکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ دینِ اسلام نے (علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے) کا آفاقی پیغام دیا تھا، جس میں لندن یا پشاور کی کوئی قید نہیں تھی، مگر یہاں علم کو بھی طبقاتی رنگ دے دیا گیا۔ جب تک عوام اس تضاد کو نہیں پہچانیں گے اور یہ سوال نہیں اٹھائیں گے کہ “اگر مغرب کی تعلیم آپ کے بچوں کے لیے حلال اور ہمارے لیے شجرِ ممنوعہ کیوں ہے؟” تب تک یہ ذہنی غلامی کی زنجیریں نہیں ٹوٹیں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم اس فریبِ قناعت سے باہر نکلیں اور یہ سمجھیں کہ حقیقی شعور اور معیاری تعلیم ہی وہ واحد ہتھیار ہے جو ہمیں اس دوہرے معیار کے چنگل سے نجات دلا سکتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ظلم پر خاموشی بندگی نہیں بلکہ خودکشی ہے، اور علم پر صرف ایک مخصوص طبقے کی اجارہ داری کے خلاف آواز اٹھانا ہی اصل جہاد ہے۔ ہماری نجات کسی کے دستِ شفقت میں نہیں بلکہ اپنے حقوق کی شناخت اور جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تعلیم و شعور کے حصول میں پوشیدہ ہے۔

لندن کی ڈگریاں اور فریبِ قناعت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us