Banner

چمن میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش، مزید بہتری کی ضرورت ہے ، اسپیکر عبدالخالق اچکزئی

Share

Share This Post

or copy the link

ڈپٹی کمشنر چمن آفس میں اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیرِ صدارت ضلع میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اجلاس منعقد کیا گیا اجلاس میں چمن کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ڈی سی چمن حبیب احمد بنگلزئی نے اجلاس کے شرکاء کو پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور سیکیورٹی انتظامات کے حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ ضلع چمن ایک وسیع و عریض پہاڑی و میدانی علاقے پر پھیلا ہوا سرحدی ضلع ہونے کے ناطے خصوصی اہمیت کا حامل ہے یہاں امن و امان کی قیام کو یقینی بنانے کیلئے 24 گھنٹے الرٹ رہنا پڑتا ہے اور ضلع چمن کی تمام داخلی و خارجی راستوں پر اچانک سنیپ چیکنگ گشت کے دوران اور پولیس چوکیوں پر اچانک جامع تلاشی اور تفتیش کا سلسلہ شروع کیا جاتا ہے اور پیدل چلنے والے مشکوک افراد گاڑیوں اور موٹر سائیکل سواروں سے تفتیش کیا جاتا ہے جس کیلئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے افسران و اہلکاران بھیس بدل کر اور پولیس فورس کے جوان امن و امان کی استحکام کیلئے پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسپیکر بلوچستان اسمبلی کیپٹن ر عبدالخالق اچکزئی نے چمن میں امن و امان کی صورتحال کو تسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاہم امن و امان کی قیام میں مزید بہتری کی گنجائش موجود ہے انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی تحفظ ضلعی انتظامیہ کی اولین ذمہداریوں میں شامل ہے لہذا سیکیورٹی ادارے اور پولیس فورس ضلع چمن کو امن کا گہوارہ بنانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اجلاس میں امن و امان کو مزید بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا اجلاس میں ضلع کی تمام سیکیورٹی اداروں کے افسران و نمائندوں اور پولیس فورس کے افسران شریک تھے

چمن میں امن و امان کی صورتحال تسلی بخش، مزید بہتری کی ضرورت ہے ، اسپیکر عبدالخالق اچکزئی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us