Banner
Daily Sahafat Quetta
November 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
افغان طالبان حکومت بھارت کی پراکسی ہے، کرائے کے جنگجو استعمال کر رہےہیں، ڈی جی آئی ایس پی آرگردے، مثانے اور مردانہ امراض کے علاج کے لیے مستند یورالوجسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے، ڈاکٹر عمیر خانراولپنڈی: 60 لاکھ 50 ہزار روپے کے مبینہ ویزا فراڈ کا مقدمہ درج، پانچ افراد کے ملوث ہونے کا شبہبلیدی اور کھوسو برادریوں کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی ختم، قبائلی عمائدین کی کوششوں سے صلح ہوگئیبلوچستان میں مزید خاندانوں کا مسلح تنظیموں میں ملوث بھائیوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا تعداد 108 سے تجاوز کرگئیکچلاک، حاجی عیسی خان نورزی کا پشتونخوا میپ سے مستعفی ہو کر گرین پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلانبی ایس ڈی آئی فیز تھری کے تحت جاری ترقیاتی اسکیمات میں سست روی اور غیر معیاری کام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر سیویپی آئی اے کا پہلا جدید بوئنگ ڈریم لائنر طیارہ پاکستان پہنچ گیاایران امریکا کشیدگی؛ پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل، نیا فارمولا جاریحب ڈیم کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو نوجوان جاں بحقافغان طالبان حکومت بھارت کی پراکسی ہے، کرائے کے جنگجو استعمال کر رہےہیں، ڈی جی آئی ایس پی آرگردے، مثانے اور مردانہ امراض کے علاج کے لیے مستند یورالوجسٹ سے رجوع کرنا ضروری ہے، ڈاکٹر عمیر خانراولپنڈی: 60 لاکھ 50 ہزار روپے کے مبینہ ویزا فراڈ کا مقدمہ درج، پانچ افراد کے ملوث ہونے کا شبہبلیدی اور کھوسو برادریوں کے درمیان کئی ماہ سے جاری کشیدگی ختم، قبائلی عمائدین کی کوششوں سے صلح ہوگئیبلوچستان میں مزید خاندانوں کا مسلح تنظیموں میں ملوث بھائیوں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا تعداد 108 سے تجاوز کرگئیکچلاک، حاجی عیسی خان نورزی کا پشتونخوا میپ سے مستعفی ہو کر گرین پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلانبی ایس ڈی آئی فیز تھری کے تحت جاری ترقیاتی اسکیمات میں سست روی اور غیر معیاری کام کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر سیویپی آئی اے کا پہلا جدید بوئنگ ڈریم لائنر طیارہ پاکستان پہنچ گیاایران امریکا کشیدگی؛ پیٹرول کی قیمتوں کے تعین کا طریقہ کار تبدیل، نیا فارمولا جاریحب ڈیم کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے دو نوجوان جاں بحق

تبادلے معطلیاں اور پولیس کا ناٹک

تحریر : محمد عبیدالله میرانی
صدر کورنگی پریس کلب کراچی

کراچی میں بڑھتے ہوئے جرائم کے پس منظر میں سندھ پولیس نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر تبادلے اور معطلیاں کر دی ہیں مختلف اضلاع میں ایس پیز اور ایس ایس پیز کو اضافی چارجز دیے گئے ہیں جبکہ 22 پولیس اہلکاروں جن میں اہم تھانوں کے ایس ایچ اوز بھی شامل ہیں کو معطل کر کے محکمانہ کارروائی شروع کر دی گئی ہے مگر یہاں سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ اضافی چارجز آخر کس بنیاد پر دیے گئے ہیں کیا یہ افسران میرٹ پر تعینات کیے گئے ہیں یا پھر سفارش، دباؤ اور مالی لین دین بھی اس میں شامل ہے پولیس ذرائع کے مطابق محکمے کے اندر ایسی باتیں بھی گردش کر رہی ہیں کہ کچھ افسران اہم سیٹیں حاصل کرنے کے لیے پیسے تک دیتے ہیں اگر یہ الزامات درست ہیں تو یہ صرف جرائم کا نہیں بلکہ پورے نظام کی ساکھ کا مسئلہ ہے اور اگر یہ بے بنیاد ہیں تو قیادت کو کھل کر وضاحت دینا ہوگی کیونکہ ایک طرف کچھ افسران کو اضافی چارج دے کر اہم ذمہ داریاں سونپی جا رہی ہیں اور دوسری طرف اسی نظام سے 22 اہلکار معطل کیے جا رہے ہیں جو پالیسی میں واضح تضاد کو ظاہر کرتا ہے، چند روز قبل بھی اسی نوعیت کے تبادلے کیے گئے تھے مگر ان کا زمینی سطح پر کوئی اثر نظر نہیں آیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدامات مستقل حل کے بجائے عارضی ردعمل ہیں کراچی جو ملک کا معاشی مرکز ہے آج جرائم پیشہ عناصر کے رحم و کرم پر نظر آ رہا ہے جہاں اسٹریٹ کرائم ڈکیتیاں موبائل اور گاڑیاں چھیننے اور مزاحمت پر قتل کے واقعات معمول بن چکے ہیں اور مجرم بغیر کسی خوف کے دن دہاڑے وارداتیں کر رہے ہیں جو پولیس کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے، مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ شہر اب کچے کے علاقوں سے بھی زیادہ جرائم کا گڑھ بنتا جا رہا ہے جہاں غیرقانونی اسلحہ اور منشیات کا کاروبار کھلے عام جاری ہے اور یہ سب کچھ پولیس کی موجودگی کے باوجود ہو رہا ہے جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ یا تو پولیس مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے یا پھر کچھ کالی بھیڑیں جرائم پیشہ عناصر، اسلحہ مافیا اور منشیات فروشوں سے ملی بھگت میں ملوث ہیں، حقیقت یہ ہے کہ صرف افسران کو ہٹانے یا تعینات کرنے سے نظام تبدیل نہیں ہوتا جب تک پولیس کے اندر احتساب کرپشن کے خلاف سخت کارروائی اور جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف مستقل آپریشن نہیں ہوگا تب تک جرائم پر قابو پانا ممکن نہیں، آج کراچی کا عام شہری خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا ہے اور اعتماد کی بحالی کے لیے صرف تبادلوں اور معطلیوں سے زیادہ سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *