Banner

اسرائیل کا خفیہ ہتھیار بے نقاب، اے آئی کے ذریعے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا بڑا انکشاف

featured
Share

Share This Post

or copy the link

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل ایران کے خلاف کارروائیوں میں جدید مصنوعی ذہانت پر مبنی خفیہ نظام استعمال کر رہا ہے، جس کے ذریعے ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے ایک جدید اے آئی پلیٹ فارم تیار کیا ہے جو بڑے پیمانے پر جمع کیے گئے ڈیٹا کا تجزیہ کر کے اہم اہداف کی نشاندہی کرتا ہے۔

اس نظام کو اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور فوج کے ایلیٹ سائبر یونٹ 8200 کی مشترکہ کاوش قرار دیا جا رہا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران اسرائیل نے ایران کے ڈیجیٹل نظام میں گہرائی تک رسائی حاصل کی اور حساس معلومات اکٹھی کیں۔

ان معلومات میں سکیورٹی اداروں، ٹریفک کیمروں، ادائیگی کے نظام اور سرکاری ڈیٹا بیس شامل ہیں، جنہیں بعد میں اے آئی سسٹم کے ذریعے تجزیہ کیا گیا۔

مزید کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کی جانب سے انٹرنیٹ کنٹرول کے سخت اقدامات بھی بالواسطہ طور پر اس جاسوسی کو ممکن بنانے میں معاون ثابت ہوئے، جس کے نتیجے میں ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام قائم ہوا جس تک رسائی حاصل کرنا نسبتاً آسان ہوگیا۔

اس اے آئی پلیٹ فارم کی مدد سے اسرائیلی فوج کو یہ صلاحیت حاصل ہو گئی ہے کہ وہ فوری طور پر اہداف کی نشاندہی کر کے حملے کرے، حتیٰ کہ دوران پرواز میزائلوں کا رخ بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نظام کے ذریعے اب تک 250 سے زائد ایرانی اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اسرائیل کا خفیہ ہتھیار بے نقاب، اے آئی کے ذریعے ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے کا بڑا انکشاف

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us