Banner
Daily Sahafat Quetta
November 2, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
رند قبائل نے ہمیشہ امن و ترقی کے دشمنوں کا مقابلہ کیا، سردار یار محمد رندمنشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، حاجی محمد خان لہڑیمدارس کی رجسٹریشن کا بل فوری بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے،مولانا عبدالواسعبلوچستان کے 31 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگی، انعام الحقاصغر خان اچکزئی کو قید کیا جاسکتا ہے، ان کی سوچ کو نہیں، اے این پیچمن میں باکسنگ کلب کی مسماری اور نوجوانوں کے حقوق پر کھلا حملہراولپنڈی این سی سی آئی اے کی کارروائی، شہری سے فراڈ کے ذریعے ہتھیائی گئی 59 لاکھ روپے سے زائد رقم برآمدمیرپورخاص میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کی جائے، خلیل اللہ خانکلب کے آئین، اتحاد اور نظم و ضبط پر عمل ضروری ہے، نثار محمد مراد بھٹواسامہ بہانہ، افغانستان نشانہ اور ایک امریکن کی گواہیرند قبائل نے ہمیشہ امن و ترقی کے دشمنوں کا مقابلہ کیا، سردار یار محمد رندمنشیات فروشوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں، حاجی محمد خان لہڑیمدارس کی رجسٹریشن کا بل فوری بلوچستان اسمبلی میں پیش کیا جائے،مولانا عبدالواسعبلوچستان کے 31 اضلاع میں انسدادِ پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہوگی، انعام الحقاصغر خان اچکزئی کو قید کیا جاسکتا ہے، ان کی سوچ کو نہیں، اے این پیچمن میں باکسنگ کلب کی مسماری اور نوجوانوں کے حقوق پر کھلا حملہراولپنڈی این سی سی آئی اے کی کارروائی، شہری سے فراڈ کے ذریعے ہتھیائی گئی 59 لاکھ روپے سے زائد رقم برآمدمیرپورخاص میں پتنگ بازی پر مکمل پابندی عائد کی جائے، خلیل اللہ خانکلب کے آئین، اتحاد اور نظم و ضبط پر عمل ضروری ہے، نثار محمد مراد بھٹواسامہ بہانہ، افغانستان نشانہ اور ایک امریکن کی گواہی

دکی: چمالنگ کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے سے دو کان کن جاں بحق، تحقیقات کا آغاز

لورالائی (نامہ نگار) ضلع دکی کے علاقے چمالنگ میں واقع ایک کوئلہ کان میں زہریلی گیس بھرنے کے باعث دو کان کن جاں بحق ہو گئے۔ افسوسناک واقعہ دورانِ کانکنی پیش آیا، جس نے ایک بار پھر کوئلہ کانوں میں حفاظتی انتظامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
پولیس کے مطابق حادثہ اس وقت پیش آیا جب کان کن معمول کے مطابق کان کے اندر کام کر رہے تھے کہ اچانک زہریلی گیس بھر گئی، جس کے نتیجے میں دونوں مزدور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔ جاں بحق افراد کی شناخت گل ولد جمعہ خان اور نانئی ولد عبدالرحیم قوم علیزئی کے ناموں سے ہوئی ہے، جن کا تعلق افغانستان سے بتایا جاتا ہے۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی انتظامیہ، پولیس اور ریسکیو ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران کان کے اندر سے دونوں کان کنوں کی لاشوں کو نکال کر قریبی مرکز منتقل کیا گیا، جہاں ضروری قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد میتیں ورثاء کے حوالے کر دی گئیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ کان میں حفاظتی اقدامات کے فقدان کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق چمالنگ سمیت دیگر علاقوں میں واقع کوئلہ کانوں میں اکثر حفاظتی اصولوں کو نظر انداز کیا جاتا ہے، جس کے باعث اس نوعیت کے حادثات رونما ہوتے رہتے ہیں۔علاقہ مکینوں اور مزدور تنظیموں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کوئلہ کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی جانوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات سے بچا جا سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *