Banner
Daily Sahafat Quetta
October 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
انصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغیانصاف لائرز فورم آئین کی بالادستی کےلئے جدوجہد جاری رکھے گا، عبدالحکیم زرینذوق، شوق اور تجسس زندگی کے تین چراغعبیرہ ضیاء نے پیرس میں گلوبل یوتھ فیسٹیول 2026 میں پاکستان کی نمائندگی کیINVITATION FOR BIDS: DAB/AB NO.491/30-10-2026گھر گرانے کے نوٹس کے بعد گارڈ روم مسمار کرنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں، کامران مرتضیٰکوئٹہ پولیس نے کم عمر لڑکوں کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا31 اکتوبر کو سریاب میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوگی، جمعیت علماء اسلاماسلام کے عادلانہ نظام کا نفاذ قومی و عالمی چیلنجز کا حل ہے، مولانا عبدالقادر لونیجمعیت علماء اسلام نظریاتی کے اختر آباد، بروری زون کے تنظیمی انتخابات مکملپولیو ویکسینیشن مہم میں بھرپور شرکت کی اپیل، صحت مند بچے اور محفوظ مستقبل ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے، صفدر خان باغی

تپِ دق کا عالمی دن — شعور، بروقت تشخیص اور SPO کے  بلوچستان میں مؤثر اقدامات

تپِ دق کا عالمی دن — شعور، بروقت تشخیص اور SPO کے  بلوچستان میں مؤثر اقدامات

تحریر : ظہیر رونجہ
وانگ بیلہ

ہر سال 24 مارچ کو دنیا بھر میں تپِ دق (ٹی بی) کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ اس مہلک مگر قابلِ علاج بیماری کے خلاف آگاہی پیدا کی جا سکے اور اس کے خاتمے کے لیے مشترکہ کوششوں کو فروغ دیا جا سکے۔ پاکستان اُن ممالک میں شامل ہے جہاں ٹی بی اب بھی ایک سنگین عوامی صحت کا مسئلہ ہے۔ ہر سال تقریباً 6 لاکھ 86 ہزار افراد اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جبکہ 49 ہزار کے قریب قیمتی جانیں ضائع ہو جاتی ہیں۔خصوصی طور پر بلوچستان میں ٹی بی کی صورتحال تشویشناک ہے صوبے کے وسیع رقبے، دور دراز آبادیوں اور صحت کی سہولیات تک محدود رسائی کے باعث بہت سے مریض بروقت تشخیص سے محروم رہ جاتے ہیں جس کے نتیجے میں بیماری کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں بروقت اسکریننگ، مؤثر علاج اور عوامی آگاہی کی اشد ضرورت ہے۔
یہ واضح ہے کہ ٹی بی ایک مکمل طور پر قابلِ علاج مرض ہے بشرطیکہ اس کی بروقت تشخیص ہو اور مریض علاج کا کورس باقاعدگی سے مکمل کرے۔ تاہم بدنامی، شعور کی کمی اور علاج میں تاخیر اس کے خاتمے میں بڑی رکاوٹیں ہیں۔ اکثر افراد ابتدائی علامات، جیسے مسلسل کھانسی، بخار اور وزن میں کمی کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں بیماری شدت اختیار کر لیتی ہے اور دوسروں تک اس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
بلوچستان کے چھ اضلاع میں SPO (Strengthening Participatory Organization) ٹی بی کے انسداد کے لیے سرگرمِ عمل ہے، جن میں لسبیلہ اور حب بھی شامل ہیں۔ ان اضلاع میں SPO نہایت منظم اور مؤثر انداز میں تشخیص، علاج اور آگاہی کی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔
لسبیلہ اور حب میں SPO کے منتخب شدہ کلینکس عوام کو اُن کی دہلیز پر سہولیات فراہم کر رہے ہیں، تاکہ ہر تحصیل اور گاؤں کا فرد اپنے ہی علاقے میں باآسانی تشخیص اور علاج حاصل کر سکے یہ اقدام مریضوں کے وقت اور اخراجات کی بچت کے ساتھ ساتھ علاج کے تسلسل کو یقینی بنانے میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ان مراکز میں ٹی بی کی مفت تشخیص اور علاج کی سہولیات دستیاب ہیں جہاں ہر ماہ بڑی تعداد میں مریض رجوع کرتے ہیں۔ مریضوں کو ادویات باقاعدگی سے فراہم کی جاتی ہیں جبکہ SPO کے ڈسٹرکٹ سپروائزرز مسلسل فالو اَپ کے ذریعے اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مریض علاج ادھورا نہ چھوڑیں اور مکمل صحت یابی حاصل کریں۔مزید برآں، SPO کی ٹیمیں محکمۂ صحت کے تعاون سے ہر ماہ لسبیلہ اور حب کے دور دراز علاقوں میں باقاعدگی سے چیسٹ اسکریننگ کیمپس منعقد کرتی ہیں، تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد کی بروقت اسکریننگ ممکن ہو سکے اور بیماری کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ جب کسی مریض میں ٹی بی کی تشخیص ہوتی ہے تو اس کے قریبی افراد (کانٹیکٹس) کی بھی باقاعدہ اسکریننگ کی جاتی ہے اور ڈاکٹرز کی ہدایت کے مطابق انہیں TPT (TB Preventive Treatment) پر رکھا جاتا ہے تاکہ بیماری کو پھیلنے سے پہلے ہی روکا جا سکے۔ یہ حکمتِ عملی ٹی بی کے مؤثر کنٹرول میں نہایت اہم کردار ادا کر رہی ہے
اس کے ساتھ ساتھ آگاہی سیشنز، کمیونٹی میٹنگز اور گھر گھر رابطہ مہمات کے ذریعے عوام کو ٹی بی کی علامات، احتیاطی تدابیر اور علاج کی اہمیت سے مسلسل آگاہ کیا جا رہا ہے جس سے نہ صرف بروقت تشخیص میں بہتری آ رہی ہے بلکہ معاشرتی بدنامی میں بھی کمی واقع ہو رہی ہے۔تپِ دق کے عالمی دن کا پیغام واضح ہے: “ٹی بی کا خاتمہ ممکن ہے”  مگر اس کے لیے اجتماعی اور ذاتی دونوں سطحوں پر کوششیں ناگزیر ہیں۔آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ علامات ظاہر ہونے پر فوری ٹیسٹ کروائیں، علاج کو مکمل کریں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں، تاکہ ایک صحت مند ٹی بی سے پاک معاشرہ قائم کیا جا سکے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *