Banner

افغانستان سے مذاکرات، پاکستان کا چین کو انکار

featured
Share

Share This Post

or copy the link

اسلام آباد: پاکستان نے چین کو واضح کیا ہے کہ وہ افغانستان کی طالبان حکومت کے ساتھ عدم رابطہ کی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا کیونکہ کابل حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد گروپوں کی افغان سرزمین پر موجودگی کے حوالے سے اپنا مؤقف تبدیل کرنے میں ناکام رہی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کی حالیہ سفارتی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ زمینی حقائق میں تبدیلی کے بغیر کابل کے ساتھ معمول کی سفارتی سرگرمیوں کی بحالی ممکن نہیں۔

چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو کابل اور اسلام آباد بھیجا ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ چینی وزارت خارجہ کے مطابق وزیر خارجہ وانگ یی نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

بیجنگ نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں ممالک تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلد براہ راست مذاکرات کریں گے اور تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔ چین نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام نے چین کو آگاہ کیا کہ اسلام آباد پہلے ہی مختلف سفارتی ذرائع اور دوست ممالک کے ذریعے طالبان حکومت کو ٹی ٹی پی اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کے حوالے سے اپنے تحفظات سے آگاہ کر چکا ہے، تاہم طالبان قیادت نے اپنے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

طالبان حکام کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کا معاملہ پاکستان کا اندرونی مسئلہ ہے اور افغان سرزمین کسی ہمسایہ ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی، تاہم پاکستانی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی رپورٹس افغانستان میں ٹی ٹی پی کی موجودگی کی تصدیق کرتی ہیں۔

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ جب تک کابل حکومت اسلام آباد کے تحفظات دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں کرتی، بامعنی سفارتی پیش رفت کی گنجائش کم ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بھی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ بعض دوست ممالک کی جانب سے طالبان سے مذاکرات کے مطالبات کے باوجود پاکستان افغانستان کے حوالے سے اپنی موجودہ پالیسی برقرار رکھے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو افغانستان کی جانب سے قابلِ تصدیق یقین دہانی درکار ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہوگی، اور جب تک ایسی یقین دہانی نہیں ملتی موجودہ پالیسی جاری رہے گی۔

افغانستان سے مذاکرات، پاکستان کا چین کو انکار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us