Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
امریکی مداخلت سے مسلم دنیا پراکسی جنگوں اور معاشی بحران کا شکار ہے، مولانا عبدالقادر لونیحنفیاء کاکڑ اور ان کے بیٹے ولی کاکڑ کی شہادت پر دلی افسوس ہے، مولانا قاری مہراللہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2283/04-11-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2279/04-11-2026آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات خوش آئند ہیں،ڈاکٹر ناشناس لہڑیچیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں لائیو ای۔کچہری کا انعقادایف ایف سی نے سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کا بہترین ای ایس جی رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاسردار منظور احمد خان کاکڑ کی سردار حسین اسلم بھٹی سے ملاقات، دادی کے انتقال پر تعزیتسید محمد آغا کی فلاحی، قبائلی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سردار منظور احمد خان کاکڑسردار منظور احمد خان کاکڑ نے سردار حسین اسلم بھٹی کو گولڈ میڈل پیش کردیاامریکی مداخلت سے مسلم دنیا پراکسی جنگوں اور معاشی بحران کا شکار ہے، مولانا عبدالقادر لونیحنفیاء کاکڑ اور ان کے بیٹے ولی کاکڑ کی شہادت پر دلی افسوس ہے، مولانا قاری مہراللہTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2283/04-11-2026TENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.2279/04-11-2026آل بلوچستان گورنمنٹ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات خوش آئند ہیں،ڈاکٹر ناشناس لہڑیچیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد کا بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں لائیو ای۔کچہری کا انعقادایف ایف سی نے سی ایف اے سوسائٹی پاکستان کا بہترین ای ایس جی رپورٹنگ ایوارڈ 2025 جیت لیاسردار منظور احمد خان کاکڑ کی سردار حسین اسلم بھٹی سے ملاقات، دادی کے انتقال پر تعزیتسید محمد آغا کی فلاحی، قبائلی اور سماجی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، سردار منظور احمد خان کاکڑسردار منظور احمد خان کاکڑ نے سردار حسین اسلم بھٹی کو گولڈ میڈل پیش کردیا

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ۔کفایت شعاری اور گڈ گورننس کے ذریعے نئے دور کا آغاز

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی ۔کفایت شعاری اور گڈ گورننس کے ذریعے نئے دور کا آغاز

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں صوبائی حکومت نے معاشی استحکام اور وسائل کے منصفانہ استعمال کی جانب ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے وسیع تر کفایت شعاری پیکج کا اعلان کیا ہے جس کا عملی آغاز خود چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے 800 کے لگ بھگ غیر ضروری اسامیوں کو تحلیل کرکے کیا گیا ہے جو کہ انتظامی اصلاحات کی جانب ایک جرات مندانہ پیش رفت ہے۔ 11 مارچ 2026 کو منعقدہ صوبائی کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل، اسپیکر صوبائی اسمبلی اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کی موجودگی میں یہ واضح کر دیا کہ موجودہ عالمی و علاقائی معاشی تناظر میں سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت وقت کی اہم ترین ضرورت ہے جس کے لیے حکومت نے خود اپنی ذات سے ایثار و قربانی کی مثال قائم کی ہے۔ اس مہم کے تحت تمام صوبائی وزراء، مشیران اور پارلیمانی سیکرٹریز نے دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی اور گریڈ 20 سے اوپر کے افسران کی تنخواہ سے دو دن کی کٹوتی کی جائے گی تاہم عوامی مفاد کو مقدم رکھتے ہوئے تعلیم اور صحت کے شعبوں کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے جو وزیراعلیٰ کی عوام دوست ترجیحات کا عکاس ہے۔ حکومتی امور میں جدید طرزِ عمل اپناتے ہوئے اجلاسوں کو ویڈیو لنک تک محدود کرنے، غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں پر پابندی اور سیمینارز کو صرف سرکاری عمارتوں تک محدود کرنے کے فیصلے انتظامی نظم و ضبط کو بہتر بنانے کی کڑی ہیں جبکہ چار روزہ دفتری ہفتہ اور 50 فیصد عملے کے لیے ورک فرام ہوم کی پالیسی توانائی کی بچت کے ساتھ ساتھ ملازمین کی کارکردگی کو جدید خطوط پر استوار کرے گی۔ تعلیمی اداروں میں 23 مارچ تک موسم بہار کی تعطیلات کا اعلان اور سماجی تقریبات میں مہمانوں کی تعداد 200 تک محدود کرنے سمیت ون ڈش کی پابندی جیسے اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ میر سرفراز بگٹی نہ صرف انتظامی بلکہ سماجی سطح پر بھی اسراف کے کلچر کا خاتمہ چاہتے ہیں تاکہ صوبے کے محدود وسائل کو پسماندہ طبقات کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکے۔ وزیراعلیٰ کی کارکردگی کا یہ تسلسل ثابت کرتا ہے کہ وہ بلوچستان کو ایک ایسے خود انحصار صوبے میں بدلنے کے لیے کوشاں ہیں جہاں میرٹ کی حکمرانی اور وسائل کی شفاف تقسیم یقینی ہو اور ان کے ان اقدامات کو گورنر بلوچستان نے بھی قومی معیشت کے استحکام کے لیے ایک مینارِ نور قرار دیا ہے جو مستقبل میں صوبے کی ترقی کی ضمانت بنے گا۔ میر سرفراز بگٹی نے جس طرح چیف منسٹر سیکرٹریٹ سے اصلاحات کا آغاز کیا ہے اس سے یہ پیغام عام ہوا ہے کہ قیادت جب خود مثال بنتی ہے تو پورا نظام حرکت میں آجاتا ہے اور ان کی یہ دور اندیش حکمت عملی بلوچستان میں گورننس کے ایک نئے معیار کو متعارف کروا رہی ہے جس کا مقصد صرف اعداد و شمار کی حد تک بچت نہیں بلکہ عوام کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنا اور سرکاری مشینری کو حقیقی معنوں میں خادمِ خلق بنانا ہے تاکہ بلوچستان معاشی بحرانوں سے نکل کر خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن ہو سکے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *