Banner

اسلامی تاریخ کا علمی عروج و زوال دینی و عصری علوم کے اتحاد کی ضرورت

featured
Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

اسلامی تاریخ کا علمی عروج و زوال دینی و عصری علوم کے اتحاد کی ضرورت

محترم قارئین! ​تاریخِ عالم اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ظہورِ اسلام کے بعد تقریباً تین صدیوں تک اسلامی مدارس اور تعلیمی مراکز پوری دنیا کے لیے علم و حکمت کے سب سے بڑے منبع رہے جہاں دینی علوم اور سائنسی فنون ایک ہی چھت تلے لازم و ملزوم کی حیثیت سے پڑھائے جاتے تھے۔ اس عہدِ زریں میں مدرسہ محض فقہ، تفسیر اور حدیث کا مرکز نہیں تھا بلکہ یہ طب، الجبرا، فلکیات، کیمیاء اور انجینئرنگ جیسی انقلابی ایجادات کی آماجگاہ بھی تھا جس نے انسانیت کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشنی کی نئی راہ دکھائی۔ بغداد کا “بیت الحکمت” (House of Wisdom) اس علمی ہم آہنگی کی بہترین مثال تھا جہاں جابر بن حیان، الخوارزمی اور ابن سینا جیسے مفکرین پیدا ہوئے جنہوں نے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں تجرباتی سائنس کے آلات تھام کر کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھایا۔ بدقسمتی سے جب سائنسی علوم کو مدرسے کے نصاب سے جدا کر کے انہیں “غیر شرعی” یا “دنیاوی” قرار دے دیا گیا اور سقوطِ بغداد جیسے دلخراش حوادث کے دوران مسلمانوں کے عظیم کتب خانے جلا کر راکھ کر دیے گئے تو امتِ مسلمہ کا وہ علمی و معلوماتی تسلسل بری طرح ٹوٹ گیا جو صدیوں کی محنت سے استوار ہوا تھا۔ اسی دوران مغرب میں پرنٹنگ مشین کی ایجاد نے علم کی دنیا میں انقلاب برپا کر دیا جس کی ابتدائی طور پر تمام مذاہب کے روایتی پیشواؤں نے شدید مخالفت کی تاہم وقت گزرنے کے ساتھ عیسائی دنیا نے کلیساء اور شاہی دربار کے حقوق کو دستوری طور پر تقسیم کر کے پریس کو آزادی فراہم کر دی جس نے مغربی دنیا میں جدید سائنسی علوم کے فروغ کی بنیاد رکھی اور انہیں نشاۃ الثانیہ کی طرف لے گئی۔ اس کے برعکس اسلامی دنیا میں کتب خانوں کے ضیاع، سیاسی انتشار اور کئی صدیوں تک نئے علمی ذخائر کی اشاعت پر توجہ نہ دینے کی وجہ سے مسلمانوں نے الجبرا، طب، خلا نوردی اور انجینئرنگ جیسی اپنی ہی ایجادات کی علمی وراثت کھو دی اور ان کے پاس صرف وہی مذہبی علم باقی رہا جو سینہ بہ سینہ یا قدیم محفوظ نسخوں کی صورت میں موجود تھا۔ علمائے وقت نے حالات کے جبر اور استعماری قوتوں کے خوف کے تحت اس محدود علمی ڈھانچے کو ہی کل علم قرار دے کر قوم کی فکر کو صرف عبادات تک محدود کر دیا حالانکہ قرآنِ کریم کی متعدد آیات انسان کو مشرقین و مغربین کی تسخیر، اجرامِ فلکی کے مشاہدے اور زمین میں گھوم پھر کر رزق و حکمت تلاش کرنے کی بار بار دعوت دیتی ہیں۔ اس فکری جمود اور علمی تقسیم کا ہولناک نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا پڑھا لکھا طبقہ تارکِ دنیا ہو گیا اور ہم عہدِ حاضر کے تقاضوں، ایجادات اور صنعتی انقلاب سے مکمل طور پر کٹ کر رہ گئے جس نے ہمیں معاشی اور دفاعی لحاظ سے اغیار کا محتاج بنا دیا۔ آج من حیث القوم ہماری بقاء اور عالمی وقار کی بحالی اسی میں ہے کہ ہم اپنی تعلیمی ترجیحات کی اصلاح کریں اور ماضی کے اسلاف کی طرح دینی علوم کے ساتھ ساتھ عصری علوم، جدید سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو دوبارہ گلے لگائیں۔ ہمیں یہ انقلابی حقیقت تسلیم کرنی ہوگی کہ اسلام میں دین اور دنیا کی کوئی مصنوعی تفریق نہیں ہے بلکہ کائنات کی ہر مادی قوت کو مسخر کرنا اور جدید ٹیکنالوجی کا حصول دراصل اللہ کے احکامات کی عملی تعمیل اور مسلم امہ کو ناخواندگی، غربت اور پسماندگی کے اندھیروں سے نکالنے کا واحد اور ناگزیر ذریعہ ہے۔

اسلامی تاریخ کا علمی عروج و زوال دینی و عصری علوم کے اتحاد کی ضرورت

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us