Banner

خلیج میں جنگی شعلے پاکستان سمیت عالم اسلام پر اثرات اور حل

عالمی منظرنامہ 2026 چیلنجز، امکانات اور انسانی بقاء
Share

Share This Post

or copy the link

خلیج میں جنگی شعلے پاکستان سمیت عالم اسلام پر اثرات اور حل

عالمی افق پر منڈلاتے جنگ کے گہرے بادل اور مشرقِ وسطیٰ میں بھڑکتی ہوئی آگ نے اس وقت پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے مشترکہ فضائی حملوں، جن میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی جان بحق ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، نے خطے میں ایک ایسی جنگ کا آغاز کر دیا ہے جس کے اثرات صرف سرحدوں تک محدود نہیں رہے۔ یہ تنازع اب ایک باقاعدہ علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر چکا ہے۷ جس میں ایران نے جوابی کارروائی کے طور پر اسرائیل سمیت خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور کویت جیسے ممالک میں جہاں امریکی افواج موجود ہیں، وہاں ایرانی ڈرونز اور میزائل حملوں۸ نے سنگین صورتحال پیدا کر دی ہے۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بند کرنے کے اعلان اور عملی طور پر بحری ٹریفک کی معطلی نے عالمی توانائی کی منڈیوں میں زلزلہ برپا کر دیا ہے، کیونکہ دنیا کی کل خام تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔
جہاں تک خلیجی ممالک اور پاکستان کا تعلق ہے، پیٹرولیم مصنوعات کا بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ دبئی، عمان، سعودی عرب، قطر اور بحرین جیسے ممالک جو خود تیل پیدا کرتے ہیں، وہاں بھی سپلائی چین متاثر ہونے اور سمندری راستوں کی بندش کی وجہ سے مقامی سطح پر قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور ترسیل میں تعطل آ رہا ہے۔ خاص طور پر پاکستان کے لیے یہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے جہاں معیشت پہلے ہی کمزور تھی، اب مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی درآمد میں رکاوٹ اور عالمی منڈی میں قیمتوں کے 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر جانے کے باعث ملک میں پیٹرول کا شدید فقدان پیدا ہو گیا ہے، جس سے مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا ہو رہا ہے۔ جن ممالک پر ایران نے جوابی حملے کیے ہیں، ان میں متحدہ عرب امارات کے ہوائی اڈوں، کویت کے تیل کے ذخائر اور بحرین کے ڈی سیلینیشن پلانٹس (پینے کے پانی کے کارخانے) کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس سے وہاں کی سویلین زندگی اور بنیادی ڈھانچہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ ان ممالک میں خوف و ہراس کی فضاء ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکالنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔یہ جنگ کب تک جاری رہے گی، اس سوال کا جواب تاحال کسی کے پاس نہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اگر عالمی طاقتوں نے فوری مداخلت نہ کی تو یہ طویل المدتی گوریلا جنگ اور پراکسی وار میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ امریکہ کا مقصد ایران میں نظام کی تبدیلی (Regime Change) اور اس کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ ہے، جبکہ ایران اسے اپنے وجود کی بقاء کی جنگ قرار دے رہا ہے۔ اس جنگ کے عالمی اثرات انتہائی بھیانک ہو سکتے ہیں، جن میں عالمی کساد بازاری (Global Recession)، خوراک کی قلت اور توانائی کا ناقابلِ برداشت بحران شامل ہے۔ اس کا واحد حل صرف اور صرف سفارت کاری اور فوری جنگ بندی میں پوشیدہ ہے۔ اقوامِ متحدہ اور چین جیسے ممالک کو غیر جانبدارانہ کردار ادا کرتے ہوئے فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہوگا، ورنہ یہ چنگاری تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے جس کا خمیازہ پوری انسانیت کو بھگتنا پڑے گا۔

خلیج میں جنگی شعلے پاکستان سمیت عالم اسلام پر اثرات اور حل

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us