Banner

بلوچستان ہائیکورٹ کا کراچی کوئٹہ روڈ کی تعمیر میں سست روی پر برہمی کا اظہار

featured
Share

Share This Post

or copy the link

بلوچستان ہائیکورٹ کے ڈویژنل بینچ نے کراچی-کوئٹہ روڈ کی تعمیر میں تاخیر اور حب شہر میں صفائی و پانی کی قلت سے متعلق آئینی پٹیشنز کی سماعت کی۔ چیف جسٹس جناب کامران ملاخیل اور جسٹس جناب نجم الدین مینگل پر مشتمل بینچ کے روبرو الہی بخش مینگل ایڈووکیٹ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) کے حکام اور دیگر متعلقہ افسران پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران عدالت نے روڈ کی تعمیر میں سستی پر سخت برہمی کا اظہار کیا اور سکیورٹی کے بہانے کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ این ایچ اے حکام صوبائی حکومت سے سکیورٹی کے معاملات خود طے کریں، عدالت کو ہر حال میں روڈ کی تعمیر مکمل چاہیے۔عدالت نے حکم دیا کہ شاہراہ پر ہر 50 کلومیٹر کے فاصلے پر جدید سہولت مراکز تعمیر کیے جائیں، جہاں طعام و قیام، طبی امداد، ایمبولینس اور خواتین کے لیے علیحدہ واش رومز کی سہولیات میسر ہوں۔ پٹیشنر کی نشاندہی پر عدالت نے نمی بیلہ کے خستہ حال پل، مستونگ-قلات کے درمیان سڑک پر موجود ملبے اور روڈ پر موجود خطرناک موڑوں کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ این ایچ اے حکام نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ مذکورہ پل کی تعمیر اور ملبے کی صفائی کا کام جلد مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ مختلف مقامات پر روڈ کو سیدھا کرنے سے مسافت میں 20 کلومیٹر کی کمی متوقع ہے۔مزید برآں، حب شہر کی صفائی اور پانی کی قلت سے متعلق پٹیشنز میں ڈپٹی کمشنر حب، اے ڈی سی، چیف افسر اور ڈی ایس پی ٹریفک سمیت دیگر افسران کی غیر حاضری اور رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں نوٹسز جاری کر دیے۔ ساکران روڈ کی خستہ حالی اور پانی کی قلت پر ایکسیئن ایریگیشن اور ٹھیکہ دار کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔ مقدمے کی اگلی سماعت 12 مارچ کو ہوگی۔

بلوچستان ہائیکورٹ کا کراچی کوئٹہ روڈ کی تعمیر میں سست روی پر برہمی کا اظہار

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us