Banner
Daily Sahafat Quetta
August 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
اسلام آباد میں تعلیمی ادارے کل سے کھل جائیں گے، محکمہ تعلیم سندھ کا بھی اہم اعلانایم کیو ایم بہادر آباد مرکز میدان جنگ بن گیا، متعدد افراد زخمیکیا محکمہ جنگلات بلوچستان میں واقعی تبدیلی آ گئی؟سید غضنفر عباس کی برسی، قومی خدمات کو خراجِ عقیدتسکھر ریلوے تھانے کے چھوٹے منشی کے خلاف شکایات، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہسریاب نادرا سینٹر کی سیکنڈ شفٹ بند کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، مولانا محمد طاہر توحیدیجانوری برادری نے شیر افضل عرف وقار جانوری کو سرداری پگ کے لیے حمایت دے دیمحمد جنید مشتاق بھٹی نائب صدر مسلم لیگ لیبرونگ لاہور مقرر،نوٹیفکیش جاریغیر جمہوری طریقوں سے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، مولانا عبدالرحمن رفیقاقبال کی فکر میں انسانی آزادی، انصاف اور خودی بنیادی اصول ہیں، ڈاکٹر محمد عارف خاناسلام آباد میں تعلیمی ادارے کل سے کھل جائیں گے، محکمہ تعلیم سندھ کا بھی اہم اعلانایم کیو ایم بہادر آباد مرکز میدان جنگ بن گیا، متعدد افراد زخمیکیا محکمہ جنگلات بلوچستان میں واقعی تبدیلی آ گئی؟سید غضنفر عباس کی برسی، قومی خدمات کو خراجِ عقیدتسکھر ریلوے تھانے کے چھوٹے منشی کے خلاف شکایات، غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہسریاب نادرا سینٹر کی سیکنڈ شفٹ بند کرنا عوام کے ساتھ ناانصافی ہے، مولانا محمد طاہر توحیدیجانوری برادری نے شیر افضل عرف وقار جانوری کو سرداری پگ کے لیے حمایت دے دیمحمد جنید مشتاق بھٹی نائب صدر مسلم لیگ لیبرونگ لاہور مقرر،نوٹیفکیش جاریغیر جمہوری طریقوں سے اقتدار میں آنے والوں نے ملک کو نقصان پہنچایا، مولانا عبدالرحمن رفیقاقبال کی فکر میں انسانی آزادی، انصاف اور خودی بنیادی اصول ہیں، ڈاکٹر محمد عارف خان

زکوٰۃ کی رقم اور اس کے مستحقین شریعت میں متعین ہیں، ڈاکٹر راغب نعیمی

زکوٰۃ کی رقم اور اس کے مستحقین شریعت میں متعین ہیں، ڈاکٹر راغب نعیمی
صدقہ کپڑوں، اشیائےضرورت، طلبہ کی کتابوں یا کسی شخص کو روزگار کےلیے مشین یا سامان فراہم کرنے کی صورت میں دیا جاسکتا ہے

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین اور جامعہ نعیمیہ لاہور کے مہتمم ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا ہے کہ صدقہ اور زکوٰۃ میں بنیادی فرق ہے، زکوٰۃ کی رقم اور اس کے مستحقین شریعت میں متعین ہیں جبکہ صدقہ نفلی خیرات ہے جو اللہ کی رضا کے لیے کسی بھی مقدار میں دیا جا سکتا ہے۔

ایکسپریس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ صدقہ انسان کی جان اور مال دونوں کا ہوتا ہے اور اس کا مقصد مشکلات اور مصیبتوں کو دور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدقہ صرف رقم کی صورت میں ہی نہیں بلکہ کپڑوں، اشیائے ضرورت، طلبہ کی کتابوں یا کسی شخص کو روزگار کے لیے مشین یا سامان فراہم کرنے کی صورت میں بھی دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زکوٰۃ کے مستحقین کا ذکر قرآن مجید میں آٹھ طبقات کی صورت میں کیا گیا ہے جن میں مساکین، فقراء، قرض دار، اللہ کی راہ میں کام کرنے والے افراد اور دیگر مستحق طبقات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ زکوٰۃ انہی افراد کو دی جانی چاہیے جنہیں شریعت نے مستحق قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ ناجائز ذرائع سے کمائے گئے مال سے کی جانے والی نیکی اللہ کے ہاں قابل قبول نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص حرام آمدن سے خیرات یا زکوٰۃ دیتا ہے تو اس سے ثواب حاصل نہیں ہوتا بلکہ وہ گناہ کا باعث بنتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ معاشرے میں یہ رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے کہ کچھ لوگ صرف اس وجہ سے امداد لے لیتے ہیں کہ چیز مفت مل رہی ہے، حالانکہ وہ اس کے مستحق نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ زکوٰۃ دینے والے افراد کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستحقین کی درست جانچ پڑتال کریں تاکہ زکوٰۃ صحیح لوگوں تک پہنچ سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جو شخص خود صاحب حیثیت ہو اسے زکوٰۃ نہیں لینی چاہیے، البتہ نفلی صدقہ ضرورت کے مطابق لیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق پیشہ ور بھکاریوں کو صدقہ اور زکوٰۃ دینے سے گریز کرنا چاہیے اور ایسے سفید پوش افراد کو تلاش کرنا چاہیے جو اپنی ضرورت کے باوجود لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے۔

فطرانے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے کہا کہ جو بچہ عید کی نماز سے پہلے پیدا ہو جائے اس کا فطرانہ بھی ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عموماً باپ اپنے زیر کفالت بچوں کی طرف سے فطرانہ ادا کرتا ہے جبکہ عورت اپنا فطرانہ خود ادا کر سکتی ہے، تاہم اگر شوہر ادا کر دے تو وہ بھی درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ فطرانہ دراصل روزوں کی کوتاہیوں کی تلافی اور مستحق افراد کو عید کی خوشیوں میں شریک کرنے کا ذریعہ ہے تاکہ وہ بھی کھانے پینے اور ضروریات زندگی کا بندوبست کر سکیں۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *