Banner
Daily Sahafat Quetta
November 5, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
بل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشلاوتھل نیشنل بینک ڈکیتی کیس میں بڑی پیش رفت، 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی واردات میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان گرفتارکوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکتگوادر کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچایم ٹی آئی صوابی کے وفد کی مشیرِ گورنر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے ملاقاتنثار احمد لغاری ڈسٹرکٹ مٹیاری کو نیا ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیشساہیوال کے رانا عرفان اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی پا گئے، اہلِ علاقہ کی مبارکبادبل پورے، سہولیات ادھوری!سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری کی پارلیمانی خدمات انسانی حقوق کے تحفظ اور بلوچستان کی ترقی کے لیے سرگرم کردار قابلِ تحسیناینٹی کرپشن بلوچستان کی کارروائی ،ڈی جی پی آرکا ملازم کو گرفتارنئے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے مسلسل تربیت ناگزیر ہے، فیلڈ مارشلاوتھل نیشنل بینک ڈکیتی کیس میں بڑی پیش رفت، 20 کروڑ 20 لاکھ روپے کی واردات میں ملوث مرکزی ملزم سمیت 3 ملزمان گرفتارکوئٹہ میں 70 لاکھ روپے کی وارداتیں کرنے والا پانچ رکنی گینگ گرفتار، پولیس اہلکار اور خواتین بھی گروہ میں شامل تھے،عمران شوکتگوادر کے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں، مولانا ہدایت الرحمان بلوچایم ٹی آئی صوابی کے وفد کی مشیرِ گورنر برائے صحت لیفٹیننٹ جنرل (ر) نگار جوہر سے ملاقاتنثار احمد لغاری ڈسٹرکٹ مٹیاری کو نیا ایکسپریس میڈیا گروپ کی جانب سے اعزازی شیلڈ پیشساہیوال کے رانا عرفان اے ایس آئی کے عہدے پر ترقی پا گئے، اہلِ علاقہ کی مبارکباد

بل پورے، سہولیات ادھوری!

تحریر: کاشف حیدر ی

کوئٹہ ایک ایسا شہر ہے جہاں شہری زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرنا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گیس، بجلی، پانی، صفائی اور دیگر شہری سہولیات کسی بھی مہذب معاشرے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں، مگر بدقسمتی سے کوئٹہ کے شہری ان بنیادی سہولیات کے حصول کے لیے مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ایک طرف مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ رکھی ہے تو دوسری طرف بجلی اور گیس کے بھاری بلوں نے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کر دیا ہے، جبکہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کے لیے بھی شہریوں کو اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب شہری ہر ماہ بجلی، گیس اور دیگر یوٹیلیٹی بل باقاعدگی سے ادا کرتے ہیں، ٹیکسوں کا بوجھ برداشت کرتے ہیں اور روزمرہ ضروریات کے لیے اپنی محدود آمدنی خرچ کرتے ہیں تو انہیں ان کے بدلے میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کیوں یقینی نہیں بنائی جا رہی؟ موسم سرما کا آغاز ہوتے ہی کوئٹہ کے شہریوں کے لیے گیس کا مسئلہ ایک بار پھر سنگین صورت اختیار کرتا دکھائی دے رہا ہے۔ کوئٹہ کا شمار ملک کے سرد ترین علاقوں میں ہوتا ہے، جہاں سردیوں میں گیس محض کھانا پکانے کا ذریعہ نہیں بلکہ گھروں کو گرم رکھنے اور بچوں، بزرگوں سمیت اہل خانہ کو شدید سردی سے محفوظ رکھنے کی بنیادی ضرورت ہے۔ ایسے موسم میں گیس کی عدم دستیابی یا کم پریشر شہریوں کے لیے محض ایک معمولی پریشانی نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا ایک بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ موسم سرما کے آغاز ہی میں شہریوں کو گیس کے غیر معمولی بھاری بل موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ایک چھوٹے سے کرائے کے مکان کے گیس بل بھی 15 ہزار سے 20 ہزار روپے سے شروع ہونے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، جبکہ بعض صارفین کو لاکھوں روپے تک کے بل موصول ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایسے حالات میں جب عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدنی کے مسائل سے دوچار ہے، وہاں اتنے بھاری بلوں کی ادائیگی اس کے لیے کسی بڑے معاشی امتحان سے کم نہیں۔ یہاں سوال صرف بھاری بلوں کا نہیں بلکہ گیس کی فراہمی اور وصول کیے جانے والے بلوں کے درمیان واضح فرق کا بھی ہے۔ پائپ لائنوں کی مرمت کے نام پر گیس لوڈ مینجمنٹ یا لوڈ ٹائمنگ کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس کے تحت مبینہ طور پر روزانہ تقریباً چھ سے سات گھنٹے گیس فراہم کی جاتی ہے۔ لیکن کئی ماہ گزرنے اور موسم سرما کے آغاز کے باوجود اس شیڈول میں خاطر خواہ بہتری نظر نہیں آ رہی۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ گیس کی فراہمی کے مقررہ اوقات میں بھی پریشر نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔ یوں شہریوں کو نہ مطلوبہ وقت پر مناسب گیس میسر آتی ہے اور نہ ہی بھاری بلوں سے کوئی ریلیف ملتا ہے۔ اگر گیس کی فراہمی چند گھنٹوں تک محدود ہے اور ان اوقات میں بھی پریشر مطلوبہ سطح پر نہیں تو متعلقہ ادارے کو واضح کرنا چاہیے کہ صارفین سے بھاری رقوم کس بنیاد پر وصول کی جا رہی ہیں؟ کیا بلوں کا تعین گیس کی حقیقی فراہمی اور استعمال کے مطابق کیا جا رہا ہے یا صارفین کو ایسی سہولت کے عوض بھی ادائیگی کرنا پڑ رہی ہے جو انہیں میسر ہی نہیں؟ گیس کی عدم دستیابی نے شہریوں کو متبادل ایندھن استعمال کرنے پر بھی مجبور کر دیا ہے، لیکن یہاں بھی عام آدمی کے لیے کوئی آسان راستہ موجود نہیں۔ ایل پی جی کی قیمت مبینہ طور پر 700 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے۔ جب گھروں میں پائپ لائن کے ذریعے گیس دستیاب نہیں ہوگی تو شہری لازماً مہنگے داموں ایل پی جی خریدنے پر مجبور ہوں گے۔ یوں ایک طرف انہیں گیس کے بھاری بل ادا کرنے پڑ رہے ہیں اور دوسری طرف گھریلو ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل ایندھن پر بھی خطیر رقم خرچ کرنا پڑ رہی ہے۔ اس صورتحال میں بلوچستان کی سرحدی تجارت اور تفتان بارڈر کی بندش سے متعلق خدشات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر سرحدی آمدورفت اور سپلائی کے مسائل کے باعث ایل پی جی کی ترسیل متاثر ہوتی رہی اور متعلقہ حکام نے بروقت اقدامات نہ کیے تو اس کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ ہے، حتیٰ کہ ایک کلو ایل پی جی کی قیمت ایک ہزار روپے سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر عام شہری، مزدور، کم آمدنی والے خاندان اور متوسط طبقہ ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایک عام شہری کے لیے اپنے گھر میں کھانا پکانا بھی اتنا مہنگا ہو جانا چاہیے کہ وہ اپنی محدود آمدنی کا بڑا حصہ صرف ایندھن خریدنے پر خرچ کرے؟ یہ صورتحال آنے والے دنوں کے حوالے سے مزید تشویش پیدا کرتی ہے۔ اگر موسم سرما کے ابتدائی مرحلے میں ہی گیس کی فراہمی کا یہ حال ہے تو شدید سردی کے مہینوں میں شہریوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ کوئٹہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد تک پہنچ جاتا ہے اور ایسے حالات میں گیس کی عدم دستیابی گھریلو زندگی کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے۔ خصوصاً بچے، بزرگ اور بیمار افراد سردی کی شدت سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ہر شہری مہنگے متبادل ذرائع سے گھروں کو گرم رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ لکڑی، کوئلہ اور دیگر ایندھن کی قیمتیں بھی عام آدمی کے لیے اضافی بوجھ بن چکی ہیں۔ کیا یہ مناسب ہے کہ ایک شہری گیس کے بل بھی ادا کرے، ایل پی جی بھی خریدے، متبادل ایندھن پر بھی رقم خرچ کرے اور اس کے باوجود اسے بنیادی سہولت میسر نہ ہو؟
بجلی کی صورتحال بھی شہریوں کے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں۔ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، طویل دورانیے کی بجلی بندش اور مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی سے متعلق شکایات معمول بنتی جا رہی ہیں۔ ایک عام دکاندار کے لیے بجلی محض روشنی کا ذریعہ نہیں بلکہ اس کے کاروبار کا بنیادی سہارا ہے۔ چھوٹے کاروباری مراکز، ورکشاپس، دکانیں اور دیگر تجارتی سرگرمیاں بجلی کی عدم دستیابی سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں۔ بجلی بند ہونے سے کاروباری اوقات ضائع ہوتے ہیں، مشینری متاثر ہوتی ہے اور بعض اوقات کاروباری نقصان کا بوجھ بھی تاجر کو خود برداشت کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف گھریلو صارفین بھی بھاری بلوں کی ادائیگی کے باوجود لوڈشیڈنگ سے محفوظ نہیں۔ یہ صورتحال ایک اہم سوال کو جنم دیتی ہے کہ جب بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ ہوتا ہے تو اس کے ساتھ فراہمی کے معیار اور تسلسل میں بہتری کیوں نظر نہیں آتی؟
پانی کا مسئلہ بھی کوئٹہ کے شہریوں کے لیے ایک مستقل آزمائش بن چکا ہے۔ شہر کے کئی علاقوں میں شہریوں کو پینے اور گھریلو استعمال کے لیے پانی حاصل کرنے کی خاطر اضافی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ ہزارہ ٹاؤن سمیت مختلف علاقوں میں پانی کی قلت اور فراہمی سے متعلق شکایات اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہیں کہ شہری آبادی کی ضروریات اور دستیاب انتظامات کے درمیان ایک بڑا خلا موجود ہے۔ جہاں سرکاری سطح پر پانی کی فراہمی کی ذمہ داری واسا اور متعلقہ اداروں پر عائد ہوتی ہے، وہاں شہریوں کا مہنگے داموں نجی ذرائع سے پانی خریدنے پر مجبور ہونا ایک سنجیدہ انتظامی مسئلہ ہے۔ پانی کوئی ایسی سہولت نہیں جسے صرف صاحبِ استطاعت افراد کی پہنچ تک محدود کر دیا جائے۔ یہ زندگی کی بنیادی ضرورت ہے اور اس کی منصفانہ فراہمی کو یقینی بنانا متعلقہ اداروں کی اولین ذمہ داری ہونی چاہیے۔ اگر کسی علاقے کے مکین برسوں سے پانی کی قلت کی شکایت کر رہے ہیں تو اس مسئلے کو وقتی طور پر ٹینکر فراہم کرکے حل شدہ قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ مستقل اور قابلِ عمل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ شہریوں کی مشکلات صرف گیس، بجلی اور پانی تک محدود نہیں۔ صفائی ستھرائی، ٹریفک کے مسائل، ٹوٹی ہوئی سڑکیں، نکاسی آب، تجاوزات اور دیگر شہری مسائل بھی کوئٹہ کے روزمرہ منظرنامے کا حصہ ہیں۔ شہر کی آبادی اور ضروریات میں اضافے کے ساتھ شہری منصوبہ بندی، بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی فراہمی میں بھی اسی تناسب سے بہتری آنی چاہیے تھی، لیکن زمینی حقائق کئی سوالات اٹھاتے ہیں۔ ایک شہری صبح گھر سے نکلتا ہے تو اسے سڑکوں پر ٹریفک کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کاروبار کے لیے نکلے تو بجلی اور دیگر سہولیات کی غیر یقینی صورتحال پریشان کرتی ہے، گھر واپس آئے تو پانی اور گیس کی فراہمی کا مسئلہ اس کا منتظر ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک عام شہری کی پوری زندگی بنیادی ضروریات کے حصول کی جدوجہد میں گزر رہی ہے۔ سب سے زیادہ قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ ان تمام مسائل کے باوجود عام آدمی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر صورت اپنے واجبات ادا کرے، ٹیکس دے، بل جمع کرائے اور اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شہریوں پر بھی قانون کی پابندی اور واجبات کی بروقت ادائیگی لازم ہے، لیکن حکومتی اور انتظامی اداروں کی ذمہ داریاں بھی اسی قدر اہم ہیں۔ شہری اور ادارے ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک ہی نظام کا حصہ ہیں۔ جب شہری اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے ہیں تو انہیں بھی یہ توقع رکھنے کا حق حاصل ہے کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے۔ کسی بھی شہر کی ترقی کا اندازہ صرف بڑی عمارتوں، سڑکوں یا سرکاری اعلانات سے نہیں لگایا جا سکتا بلکہ اصل ترقی یہ ہے کہ وہاں رہنے والے عام شہری کو صاف پانی، بجلی، گیس، بہتر سڑکیں، صفائی اور محفوظ ماحول میسر ہو۔ یہاں متعلقہ اداروں سے چند بنیادی سوالات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ گیس کی فراہمی کے اوقات میں پریشر کی کمی کا مستقل حل کیا ہے؟ پائپ لائنوں کی مرمت کے نام پر شروع کیے گئے لوڈ مینجمنٹ شیڈول کو ختم کرنے یا اس میں بہتری لانے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ بھاری بلوں کی شکایات کا جائزہ کون لے گا؟ کیا صارفین کے بلوں اور انہیں فراہم کی جانے والی گیس کی مقدار کا شفاف آڈٹ ممکن ہے؟ اگر کسی صارف کو غیر معمولی بل موصول ہوتا ہے تو اس کی شکایت کا فوری اور غیر جانبدارانہ ازالہ کیسے ہوگا؟ اسی طرح ایل پی جی کی قیمتوں اور سپلائی کی صورتحال پر بھی متعلقہ حکام کو توجہ دینی چاہیے تاکہ شہریوں کو متبادل ایندھن کی خریداری میں ناجائز منافع خوری اور غیر معمولی قیمتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ یہ سوالات کسی ادارے کی مخالفت کے لیے نہیں بلکہ شہریوں کے جائز حقوق اور شفاف انتظامی نظام کے قیام کے لیے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر مسئلے کا ذمہ دار کسی ایک ادارے یا ایک فرد کو قرار دینا درست نہیں۔ کوئٹہ کے مسائل کی نوعیت مختلف ہے اور ان کے حل کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں اور متعلقہ محکموں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشترکہ حکمت عملی ناگزیر ہے۔ گیس کی فراہمی متعلقہ ادارے کی ذمہ داری ہے، بجلی کے نظام میں بہتری متعلقہ بجلی فراہم کرنے والے ادارے کا کام ہے، پانی کی منصفانہ تقسیم اور مستقل فراہمی واسا سمیت متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے، جبکہ صفائی، نکاسی آب اور شہری انتظام کے لیے بلدیاتی نظام کو مؤثر بنانا ضروری ہے۔ ہر ادارے کو اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنا ہوگا اور عوام کو بتایا جانا چاہیے کہ ان کے مسائل کے حل کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں، کتنے عرصے میں کیے جائیں گے اور ان پر عمل درآمد کی نگرانی کون کرے گا۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کو چاہیے کہ وہ شہری شکایات کو محض معمول کی درخواستیں سمجھ کر فائلوں میں محدود نہ کریں بلکہ انہیں پالیسی سازی اور انتظامی اصلاحات کی بنیاد بنائیں۔ ہر علاقے میں پانی، بجلی، گیس، صفائی اور دیگر مسائل کے حوالے سے باقاعدہ جائزہ لیا جائے، شکایات کے اندراج اور ان کے ازالے کا مؤثر نظام قائم کیا جائے اور عوام کو ان کے مسائل کے حل سے متعلق واضح معلومات فراہم کی جائیں۔ محض اعلانات، اجلاسوں اور وقتی اقدامات سے شہریوں کا اعتماد بحال نہیں ہوگا، اس کے لیے عملی نتائج دکھانا ہوں گے۔ دوسری جانب شہریوں کو بھی اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ پانی کا ضیاع روکنا، بجلی اور گیس کا غیر ضروری استعمال ترک کرنا، صفائی کا خیال رکھنا، ٹریفک قوانین کی پابندی کرنا اور سرکاری املاک کی حفاظت کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔ تاہم عوامی ذمہ داریوں کا ذکر کرتے ہوئے حکومتی اور ادارہ جاتی ذمہ داریوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ شہریوں سے تعاون کی توقع اسی وقت مؤثر ہو سکتی ہے جب انہیں بھی بنیادی سہولیات اور مناسب شہری ماحول فراہم کیا جائے۔ کوئٹہ بلوچستان کا دارالحکومت ہے اور اس شہر کی اہمیت محض انتظامی مرکز ہونے تک محدود نہیں بلکہ یہ لاکھوں لوگوں کی معاشی، سماجی اور تعلیمی زندگی کا محور بھی ہے۔ اس شہر کی حالت بہتر بنانا کسی ایک حکومت، ایک محکمے یا ایک سیاسی جماعت کا نہیں بلکہ تمام متعلقہ اداروں اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کوئٹہ کے شہری کوئی غیر معمولی مطالبات نہیں کر رہے، وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ انہیں وہ بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جن کے لیے وہ ہر ماہ بھاری بل ادا کرتے ہیں اور جن کا وعدہ ہر شہری نظام میں کیا جاتا ہے۔ آخر کب تک شہری بلوں کی ادائیگی میں باقاعدہ اور سہولیات کے حصول میں بے بس رہیں گے؟ کب تک پانی کے لیے اضافی رقم، بجلی کے لیے طویل انتظار، گیس کے لیے پریشانی اور ایل پی جی کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ ان کی زندگی کا معمول بنی رہے گی؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ متعلقہ حکام شہریوں کی آواز سنیں، مسائل کی سنگینی کو سمجھیں اور زبانی دعووں کے بجائے عملی اقدامات کریں۔ کیونکہ کسی بھی شہر کے شہریوں سے صرف بل وصول کرنا کافی نہیں، انہیں بنیادی سہولیات فراہم کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ کوئٹہ کے عوام کو مزید وعدوں کی نہیں بلکہ اپنے مسائل کے عملی حل کی ضرورت ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *