Banner
Daily Sahafat Quetta
November 3, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
حاجی محمد مالک کی خدمات کو خراجِ عقیدت، محترمہ نصرت سلیم سے تعزیتی ملاقاتہیلتھ ایڈوائزر خیبرپختونخوا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر نے ہیلتھ سیکرٹری کے ہمراہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کا خصوصی دورہحضرت پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ ایک معروف صوفی بزرگ اور مذہبی شخصیت ہیںنوجوانوں کو روزگار کی فراہمینیلسن منڈیلاایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیامسٹر پتلو کے پروگرام کے اجازت نامے کی اصل شرائط سامنے آگئیں، انتظامیہ کی غفلت پر سوالاتٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ، مگر ایک گھنٹے میں جوہری تنصیب پر حملے کی دھمکی بھی دے دیبیوی کو آگ لگانے کے الزام میں انٹیلی جنس بیورو کے ملازم کی اپیل خارجایک سال میں قوم پر واجب الادا قرض میں 6210 ارب روپے کا اضافہحاجی محمد مالک کی خدمات کو خراجِ عقیدت، محترمہ نصرت سلیم سے تعزیتی ملاقاتہیلتھ ایڈوائزر خیبرپختونخوا لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نگار جوہر نے ہیلتھ سیکرٹری کے ہمراہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اینڈ چلڈرن ہسپتال کا خصوصی دورہحضرت پیر سید عنایت علی شاہ بادشاہ ایک معروف صوفی بزرگ اور مذہبی شخصیت ہیںنوجوانوں کو روزگار کی فراہمینیلسن منڈیلاایران کے جزیرہ قشم پر امریکی حملے کی خبر کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا ہوگیامسٹر پتلو کے پروگرام کے اجازت نامے کی اصل شرائط سامنے آگئیں، انتظامیہ کی غفلت پر سوالاتٹرمپ کا ایران سے معاہدے کا عندیہ، مگر ایک گھنٹے میں جوہری تنصیب پر حملے کی دھمکی بھی دے دیبیوی کو آگ لگانے کے الزام میں انٹیلی جنس بیورو کے ملازم کی اپیل خارجایک سال میں قوم پر واجب الادا قرض میں 6210 ارب روپے کا اضافہ

نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی

نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی
تحریر: یاسر دانیال صابری

کسی بھی ملک کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہی ہے۔ کوئی ڈگری لے کر سرکاری دفتر کے چکر لگا رہا ہے، کوئی سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر نوکری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ کئی نوجوان مایوس ہو کر بیرونِ ملک جانے کا ارادہ کر لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے نوجوان کب تک نوکریوں کے انتظار میں اپنی زندگی کے قیمتی سال ضائع کرتے رہیں گے؟ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ریاست، نجی اداروں، کاروباری طبقے اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہر نوجوان سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی ہر تعلیم یافتہ شخص کے لیے سرکاری نوکری پیدا کرنا ممکن ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے وعدے دینے کے بجائے ایسے مواقع فراہم کرے جن سے وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان شرائط پر بلاسود یا کم شرح منافع کے قرضے دیے جائیں، نوجوانوں کو کاروباری تربیت دی جائے اور ان کے لیے مارکیٹ تک رسائی آسان بنائی جائے۔ ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ تعلیمی اداروں سے ڈگریاں تو حاصل ہو جاتی ہیں مگر عملی زندگی میں کام آنے والی مہارتیں بہت کم نوجوانوں کے پاس ہوتی ہیں۔ اس لیے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہوگا۔ آئی ٹی، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت، الیکٹریشن، سولر ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور ہنرمندی کے دیگر شعبوں میں مفت تربیتی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ نوجوان اپنے علاقے میں رہتے ہوئے بھی باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ خصوصاً گلگت بلتستان جیسے خطے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ یہاں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، مقامی دستکاری، پھلوں کی پیداوار، زراعت، معدنی وسائل اور ڈیجیٹل کاروبار کو فروغ دے کر ہزاروں خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ہمارے پہاڑ، دریا، جھیلیں اور قدرتی حسن صرف سیاحوں کی توجہ کا مرکز نہیں بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سیاحت کے شعبے میں مقامی نوجوانوں کو ترجیح دے، انہیں ٹور گائیڈ، ہوٹل مینجمنٹ، زبانوں اور مہمان نوازی کی تربیت فراہم کرے اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور خصوصی افراد کو بھی روزگار کے برابر مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ گھریلو صنعت، آن لائن کاروبار، سلائی کڑھائی، دستکاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین باعزت طریقے سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی میں سیاسی سفارش، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ جب ایک قابل نوجوان اپنی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جائے اور کسی دوسرے شخص کو سفارش کی بنیاد پر موقع مل جائے تو صرف ایک نوجوان کا حق نہیں مارا جاتا بلکہ پورے معاشرے کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ سرکاری اور نجی اداروں میں بھرتیوں کا نظام شفاف ہونا چاہیے اور ہر ضلع میں روزگار کے مواقع کی معلومات فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ روزگار مراکز قائم کیے جانے چاہئیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر سال نوجوانوں کے لیے مختص بجٹ، تربیتی پروگراموں اور روزگار کے مواقع کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے اور یہ بھی بتائے کہ کتنے نوجوانوں کو حقیقت میں روزگار ملا۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نوجوان صرف نوکری مانگنے والے نہیں بلکہ وہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔ آج کا نوجوان اگر ایک چھوٹا کاروبار شروع کرتا ہے اور اس کے ساتھ دو افراد کو ملازمت دیتا ہے تو یہ بھی ملک کی معیشت میں ایک مثبت اضافہ ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو مایوسی، بے روزگاری اور سفارش کے کلچر سے نکال کر خود اعتمادی، ہنر اور عملی میدان کی طرف لانا ہوگا۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، اعلانات ہوتے رہتے ہیں، مگر نوجوانوں کی زندگی صرف وعدوں سے نہیں بدلتی۔ انہیں مواقع، تربیت، سرمایہ اور میرٹ پر مبنی نظام چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جس ملک کا نوجوان بے روزگار ہو، وہاں ترقی کے دعوے ادھورے رہتے ہیں، اور جس ملک کا نوجوان ہنرمند، بااختیار اور پُرامید ہو، اس ملک کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار دینا کسی پر احسان نہیں بلکہ ان کا حق اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف مستقبل کا معمار کہنے کے بجائے آج کے پاکستان اور گلگت بلتستان کی تعمیر میں عملی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، کیونکہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں روزگار ہوگا تو ان کے گھروں میں خوشحالی، معاشرے میں امن اور ملک میں ترقی ہوگی۔

Hide quoted text

On Tue, 3 Nov 2026, 1:27 pm Yasir Daniyal Sabirii, <daniyalsabiri395@gmail.com> wrote:
نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی
تحریر: یاسر دانیال صابری (منزلِ عقاب)

کسی بھی ملک کا اصل سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں، لیکن افسوس کہ ہمارے ہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد تعلیم مکمل کرنے کے باوجود روزگار کی تلاش میں دربدر پھر رہی ہے۔ کوئی ڈگری لے کر سرکاری دفتر کے چکر لگا رہا ہے، کوئی سفارش اور تعلقات کی بنیاد پر نوکری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ کئی نوجوان مایوس ہو کر بیرونِ ملک جانے کا ارادہ کر لیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر ہمارے نوجوان کب تک نوکریوں کے انتظار میں اپنی زندگی کے قیمتی سال ضائع کرتے رہیں گے؟ نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ ریاست، نجی اداروں، کاروباری طبقے اور معاشرے سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہر نوجوان سرکاری ملازمت حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی ہر تعلیم یافتہ شخص کے لیے سرکاری نوکری پیدا کرنا ممکن ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے وعدے دینے کے بجائے ایسے مواقع فراہم کرے جن سے وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے لیے آسان شرائط پر بلاسود یا کم شرح منافع کے قرضے دیے جائیں، نوجوانوں کو کاروباری تربیت دی جائے اور ان کے لیے مارکیٹ تک رسائی آسان بنائی جائے۔ ہمارے ہاں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ تعلیمی اداروں سے ڈگریاں تو حاصل ہو جاتی ہیں مگر عملی زندگی میں کام آنے والی مہارتیں بہت کم نوجوانوں کے پاس ہوتی ہیں۔ اس لیے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بنانا ہوگا۔ آئی ٹی، فری لانسنگ، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، مصنوعی ذہانت، الیکٹریشن، سولر ٹیکنالوجی، سیاحت، زراعت اور ہنرمندی کے دیگر شعبوں میں مفت تربیتی مراکز قائم کیے جائیں تاکہ نوجوان اپنے علاقے میں رہتے ہوئے بھی باعزت روزگار حاصل کر سکیں۔ خصوصاً گلگت بلتستان جیسے خطے میں نوجوانوں کے لیے روزگار کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ یہاں سیاحت، ہوٹل انڈسٹری، ٹرانسپورٹ، مقامی دستکاری، پھلوں کی پیداوار، زراعت، معدنی وسائل اور ڈیجیٹل کاروبار کو فروغ دے کر ہزاروں خاندانوں کی معاشی حالت بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ ہمارے پہاڑ، دریا، جھیلیں اور قدرتی حسن صرف سیاحوں کی توجہ کا مرکز نہیں بلکہ مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بھی بن سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت سیاحت کے شعبے میں مقامی نوجوانوں کو ترجیح دے، انہیں ٹور گائیڈ، ہوٹل مینجمنٹ، زبانوں اور مہمان نوازی کی تربیت فراہم کرے اور چھوٹے کاروبار کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ خواتین اور خصوصی افراد کو بھی روزگار کے برابر مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ گھریلو صنعت، آن لائن کاروبار، سلائی کڑھائی، دستکاری اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے خواتین باعزت طریقے سے معاشی سرگرمیوں میں حصہ لے سکتی ہیں۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی میں سیاسی سفارش، اقربا پروری اور میرٹ کی پامالی سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔ جب ایک قابل نوجوان اپنی قابلیت کے باوجود پیچھے رہ جائے اور کسی دوسرے شخص کو سفارش کی بنیاد پر موقع مل جائے تو صرف ایک نوجوان کا حق نہیں مارا جاتا بلکہ پورے معاشرے کا اعتماد کمزور ہوتا ہے۔ سرکاری اور نجی اداروں میں بھرتیوں کا نظام شفاف ہونا چاہیے اور ہر ضلع میں روزگار کے مواقع کی معلومات فراہم کرنے کے لیے باقاعدہ روزگار مراکز قائم کیے جانے چاہئیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ہر سال نوجوانوں کے لیے مختص بجٹ، تربیتی پروگراموں اور روزگار کے مواقع کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھے اور یہ بھی بتائے کہ کتنے نوجوانوں کو حقیقت میں روزگار ملا۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ نوجوان صرف نوکری مانگنے والے نہیں بلکہ وہ صلاحیت رکھتے ہیں کہ اگر انہیں موقع دیا جائے تو وہ دوسروں کے لیے بھی روزگار پیدا کر سکتے ہیں۔ آج کا نوجوان اگر ایک چھوٹا کاروبار شروع کرتا ہے اور اس کے ساتھ دو افراد کو ملازمت دیتا ہے تو یہ بھی ملک کی معیشت میں ایک مثبت اضافہ ہے۔ ہمیں نوجوانوں کو مایوسی، بے روزگاری اور سفارش کے کلچر سے نکال کر خود اعتمادی، ہنر اور عملی میدان کی طرف لانا ہوگا۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، اعلانات ہوتے رہتے ہیں، مگر نوجوانوں کی زندگی صرف وعدوں سے نہیں بدلتی۔ انہیں مواقع، تربیت، سرمایہ اور میرٹ پر مبنی نظام چاہیے۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جس ملک کا نوجوان بے روزگار ہو، وہاں ترقی کے دعوے ادھورے رہتے ہیں، اور جس ملک کا نوجوان ہنرمند، بااختیار اور پُرامید ہو، اس ملک کا مستقبل روشن ہوتا ہے۔ نوجوانوں کو روزگار دینا کسی پر احسان نہیں بلکہ ان کا حق اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم نوجوانوں کو صرف مستقبل کا معمار کہنے کے بجائے آج کے پاکستان اور گلگت بلتستان کی تعمیر میں عملی کردار ادا کرنے کا موقع دیں، کیونکہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں روزگار ہوگا تو ان کے گھروں میں خوشحالی، معاشرے میں امن اور ملک میں ترقی ہوگی۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *