Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جسٹس محسن اختر کیانی ’ضمیر کی آواز پر ‘ مستعفینواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیامن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچجسٹس محسن اختر کیانی ’ضمیر کی آواز پر ‘ مستعفینواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیامن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچ

امن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچ

امن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچ
تحریر: ندیم ملک

نارووال سپورٹس سٹی میں پاکستان رینجرز اور چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کی ہاکی ٹیموں کے مابین نمائشی میچ کا انعقاد ضلع نارووال کی تاریخ میں کھیلوں کے فروغ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس مقابلے نے نہ صرف شائقینِ ہاکی کو ایک دلچسپ کھیل دیکھنے کا موقع فراہم کیا بلکہ پاکستان اور چین کی دیرینہ دوستی، نوجوانوں کی صلاحیتوں اور کھیلوں کے ذریعے امن و ترقی کے پیغام کو بھی اجاگر کیا۔ پاکستان رینجرز نے شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے ہوئے گوانگ ڈونگ کی ٹیم کو ایک کے مقابلے میں تین گول سے شکست دے دی۔ میچ دیکھنے کے لیے طلبہ، نوجوانوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نارووال سپورٹس سٹی میں موجود تھی
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال چودھری نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ وفاقی وزیر انوار الحق چوہدری، صوبائی وزیر رانا منان، صوبائی وزیر احمد اقبال اور صوبائی وزیر خواجہ وسیم بٹ سمیت ضلعی انتظامیہ دیگر شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔ طلبہ اور شہریوں کی بڑی تعداد کی شرکت نے اس تقریب کو مزید اہمیت دی۔ شائقین نے دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی اور مقابلے کے دوران کھیل کے خوبصورت مناظر سے لطف اندوز ہوتے رہے
میچ کے آغاز سے قبل پاکستان اور چین کے قومی ترانے بجائے گئے، جس سے تقریب میں قومی جذبے، باہمی احترام اور دوستی کی فضا قائم ہوئی۔ دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ کھیل کے دوران کھلاڑیوں نے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا اور تماشائیوں نے ان کی کارکردگی کو سراہا۔ مقابلے کے اختتام پر پاکستان رینجرز نے تین گول اسکور کرکے کامیابی حاصل کی، جبکہ گوانگ ڈونگ کی ٹیم ایک گول کر سکی۔ بعدازاں کھلاڑیوں اور میچ آفیشلز میں انعامات اور شیلڈز تقسیم کی گئیں
یہ میچ دو ٹیموں کے درمیان ایک نمائشی مقابلہ نہیں تھا بلکہ نارووال کے نوجوانوں کے لیے ایک مثبت پیغام بھی تھا کہ کھیلوں کے میدان آباد ہوں تو معاشرے میں صحت مند سرگرمیوں کو فروغ ملتا ہے۔ کسی بھی قوم کی ترقی میں تعلیم، صحت اور کھیلوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ تعلیم انسان کو شعور دیتی ہے، جبکہ کھیل جسمانی صحت کے ساتھ نظم و ضبط، برداشت، خود اعتمادی اور ٹیم ورک کا جذبہ پیدا کرتے ہیں۔ یہی خوبیاں نوجوانوں کو عملی زندگی میں کامیابی کے لیے تیار کرتی ہیں
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی پروفیسر احسن اقبال چوہدری نے اپنے خطاب میں پاکستان ہاکی کے سنہری دور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب اولمپکس میں پاکستان کی ہاکی ٹیم کی شرکت کو گولڈ میڈل کے حصول کی مضبوط امید سمجھا جاتا تھا۔ پاکستان ہاکی کی تاریخ عالمی کامیابیوں، شاندار کھلاڑیوں اور ناقابل فراموش مقابلوں سے عبارت ہے۔ قومی ٹیم نے دنیا کے بڑے میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور ملک کا نام روشن کیا۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ قومی کھیل کو مختلف چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث پاکستان کی عالمی سطح پر سابقہ حیثیت متاثر ہوئی
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان ہاکی کو دوبارہ اس مقام پر پہنچانے کے لیے سنجیدہ اور مستقل اقدامات کیے جائیں۔ صرف ماضی کی کامیابیوں کو یاد کرنا کافی نہیں، بلکہ نوجوان کھلاڑیوں کو جدید سہولیات، معیاری تربیت، تجربہ کار کوچز اور بین الاقوامی مقابلوں کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کی سطح پر ہاکی کو فروغ دینا بھی ضروری ہے تاکہ نئی نسل اس قومی کھیل سے وابستہ ہو اور مستقبل میں قومی ٹیم کے لیے باصلاحیت کھلاڑی میسر آ سکیں
پاکستان میں ہاکی کی بحالی کے لیے کھیلوں کی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور متعلقہ حکومتی اداروں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو پہچاننے، انہیں تربیت دینے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لیے ایک مؤثر نظام ضروری ہے۔ اگر چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں بھی کھیلوں کی معیاری سہولیات مہیا کی جائیں تو وہاں سے ایسے کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں جو قومی اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی نمائندگی کریں۔ نارووال سپورٹس سٹی اسی حوالے سے ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے
پروفیسر احسن اقبال چوہدری نے نارووال سپورٹس سٹی کے حوالے سے اپنے ذاتی تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی تعمیر کے باعث انہیں جھوٹے مقدمے کا سامنا کرنا پڑا اور جیل کی کال کوٹھڑی میں بھی رکھا گیا۔ ان کے مطابق آج نوجوانوں کے چہروں پر خوشی دیکھ کر انہیں اپنے دکھوں پر مرہم محسوس ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نارووال میں عالمی ٹیموں کے مقابلے منعقد کروانے کا خواب اب حقیقت کی صورت اختیار کر رہا ہے۔ ان خیالات سے اس منصوبے کے ساتھ ان کی وابستگی اور نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے مواقع پیدا کرنے کی خواہش کا اظہار ہوتا ہے
کسی بھی ترقیاتی منصوبے کی کامیابی کا اصل معیار یہ ہوتا ہے کہ اس سے عام شہریوں کو کتنا فائدہ پہنچتا ہے اور نئی نسل کے لیے کتنے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔ نارووال سپورٹس سٹی کو بھی اسی معیار پر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر اس مرکز میں باقاعدگی سے کھیلوں کے مقابلے، تربیتی کیمپ اور نوجوان کھلاڑیوں کے لیے سرگرمیاں منعقد کی جائیں تو یہ ضلع نارووال کے لیے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی کھلاڑیوں کی صلاحیتیں نکھریں گی بلکہ نارووال کو کھیلوں کے حوالے سے ایک نئی شناخت بھی ملے گی
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ نارووال سپورٹس سٹی نوجوانوں، بالخصوص بچوں اور بچیوں کو اپنے خوابوں کی تعبیر حاصل کرنے کے مواقع فراہم کرے گا۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جسے عملی شکل دینے کے لیے مسلسل توجہ اور منصوبہ بندی درکار ہے۔ بچوں اور نوجوانوں کو کھیلوں کی سہولیات فراہم کرنا محض تفریح کا انتظام نہیں بلکہ ان کی شخصیت سازی اور مستقبل پر سرمایہ کاری ہے۔ کھیل نوجوانوں کو محنت، صبر، نظم و ضبط اور ناکامی کے بعد دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں۔ یہی خوبیاں زندگی کے ہر شعبے میں کامیابی کے لیے اہم ہیں
ہمارے معاشرے میں اکثر کھیلوں کو تعلیم کے مقابل سمجھ لیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ تعلیم اور کھیل ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو مناسب جگہ دی جائے تو طلبہ کی جسمانی اور ذہنی نشوونما بہتر ہو سکتی ہے۔ اسی طرح کھیلوں میں حصہ لینے والے نوجوان وقت کی پابندی، اجتماعی ذمہ داری اور مقصد کے حصول کے لیے مسلسل کوشش کرنے کا سبق سیکھتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور متعلقہ ادارے نوجوانوں کو تعلیم کے ساتھ کھیلوں میں حصہ لینے کی بھی حوصلہ افزائی کریں
پروفیسر احسن اقبال چوہدری نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ زندگی کے کسی بھی شعبے کا انتخاب کریں، اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے محنت اور لگن کو اپنا شعار بنائیں اور پاکستان کا نام روشن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یہ پیغام صرف کھلاڑیوں کے لیے نہیں بلکہ ہر طالب علم اور نوجوان کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ قومیں اس وقت ترقی کرتی ہیں جب ان کے نوجوان اپنی صلاحیتوں کو پہچان کر مثبت مقاصد کے حصول کے لیے کام کرتے ہیں۔ حکومت اور معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ انہیں آگے بڑھنے کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا جائے
اس نمائشی میچ کا ایک اہم پہلو پاکستان اور چین کے دوستانہ تعلقات بھی تھے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون ان روابط کو مضبوط بناتا رہا ہے۔ چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کی ٹیم کی نارووال آمد نے کھیلوں کے ذریعے عوامی سطح پر رابطوں کو فروغ دینے کا موقع فراہم کیا۔ قومی ترانوں کی گونج اور دونوں ٹیموں کی میدان میں موجودگی نے اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ کھیل محض مقابلے کا نام نہیں بلکہ مختلف قوموں کے درمیان باہمی احترام، دوستی اور تعاون کا ذریعہ بھی ہیں
پاکستان اور چین کے تعلقات کا ذکر عموماً اقتصادی تعاون، تجارت اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے، لیکن کھیلوں کے میدان میں تعاون بھی اپنی اہمیت رکھتا ہے۔ جب مختلف ممالک کے کھلاڑی ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہیں تو ان کے درمیان مثبت روابط قائم ہوتے ہیں اور عوام کو ایک دوسرے کی ثقافت اور صلاحیتوں کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایسے مقابلے نوجوان نسل کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ صحت مند مقابلہ، برداشت اور باہمی احترام ایک ترقی یافتہ معاشرے کی بنیادی اقدار ہیں
نارووال جیسے ضلع میں بین الاقوامی نوعیت کی کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد اس لحاظ سے اہم ہے کہ عموماً بڑے مقابلے ملک کے بڑے شہروں تک محدود رہتے ہیں۔ اس وجہ سے چھوٹے شہروں کے نوجوانوں کو عالمی معیار کے کھیل قریب سے دیکھنے کے مواقع کم ملتے ہیں۔ نارووال سپورٹس سٹی میں ایسے مقابلوں کا انعقاد مقامی نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بن سکتا ہے۔ جب نوجوان اپنے علاقے میں معیاری کھیل دیکھتے ہیں تو ان میں بھی آگے بڑھنے اور اپنی صلاحیتوں کو آزمانے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے
تاہم یہ بھی ضروری ہے کہ اس سرگرمی کو ایک روزہ تقریب تک محدود نہ رکھا جائے۔ نارووال سپورٹس سٹی میں باقاعدہ ہاکی ٹورنامنٹس، سکولوں اور کالجوں کے مقابلے، نوجوان کھلاڑیوں کے تربیتی کیمپ اور کوچنگ کے پروگرام شروع کیے جانے چاہئیں۔ کھیلوں کی سہولیات کی دیکھ بھال، معیاری آلات کی فراہمی اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی پر خصوصی توجہ دی جائے۔ خواتین اور بچیوں کو بھی کھیلوں میں حصہ لینے کے مناسب مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ معاشرے کا ہر طبقہ ان سہولیات سے فائدہ اٹھا سکے
حکومت، کھیلوں کی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے نارووال سپورٹس سٹی مسلسل فعال رہے۔ کھیلوں کے میدانوں کو آباد رکھنے کے لیے مستقل سرگرمیاں، مؤثر انتظامی نگرانی اور نوجوانوں کی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔ اگر اس مرکز کو باقاعدہ قومی اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے استعمال کیا جائے تو اس سے نارووال کی شناخت بہتر ہونے کے ساتھ مقامی معیشت اور متعلقہ سرگرمیوں کو بھی فائدہ پہنچنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں۔
امن، تعلیم اور ترقی کسی بھی معاشرے کی مضبوط بنیادیں ہیں۔ کھیل ان تینوں شعبوں سے مختلف انداز میں جڑے ہوئے ہیں۔ کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کو مثبت مصروفیات فراہم کرتی ہیں، تعلیمی اداروں کے ماحول کو بہتر بناتی ہیں اور مختلف طبقات کے درمیان میل جول بڑھاتی ہیں۔ کھیل کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جس اتحاد، نظم و ضبط اور برداشت کی ضرورت ہوتی ہے، وہی خوبیاں معاشرے میں ہم آہنگی پیدا کرنے میں بھی معاون ثابت ہوتی ہیں
نارووال سپورٹس سٹی میں پاکستان رینجرز اور چین کے صوبے گوانگ ڈونگ کی ٹیم کے مابین نمائشی ہاکی میچ اس امید کی علامت ہے کہ ضلع نارووال میں کھیلوں کے فروغ کے لیے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔ پاکستان رینجرز کی تین ایک سے کامیابی، دونوں ٹیموں کی شرکت، طلبہ اور شہریوں کا جوش و خروش اور کھلاڑیوں میں انعامات و شیلڈز کی تقسیم اس تقریب کے نمایاں پہلو رہے۔ اس سرگرمی نے قومی کھیل ہاکی کی اہمیت اور پاکستان و چین کے دوستانہ روابط کو بھی نمایاں کیا۔
نارووال سپورٹس سٹی کو نوجوانوں کی تربیت، قومی کھیل کی بحالی اور بین الاقوامی کھیلوں کے فروغ کا مرکز بنایا جائے۔ اگر نوجوانوں کو جدید سہولیات، معیاری تربیت اور مسلسل مواقع فراہم کیے جائیں تو نارووال کے میدانوں سے ایسے باصلاحیت کھلاڑی سامنے آ سکتے ہیں جو مستقبل میں پاکستان کا نام روشن کریں۔
نارووال کی ترقی کا خواب صرف سڑکوں، عمارتوں اور منصوبوں کی تکمیل سے پورا نہیں ہوگا، بلکہ اس وقت حقیقت بنے گا جب یہاں کے نوجوانوں کو تعلیم، کھیل، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔ نارووال سپورٹس سٹی میں منعقد ہونے والا یہ نمائشی ہاکی میچ اسی سفر کا ایک اہم قدم ہے۔ امید ہے کہ اس سرگرمی کے بعد بھی کھیلوں کا سلسلہ جاری رہے گا، نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں گے اور پاکستان ہاکی کی بحالی کے لیے مقامی سطح سے قومی سطح تک ایک مضبوط بنیاد فراہم کی جائے گی
امن، تعلیم اور ترقی کے پیغام کو عام کرنے کے لیے ضروری ہے کہ نوجوانوں کے خوابوں کو اہمیت دی جائے اور انہیں آگے بڑھنے کے حقیقی مواقع فراہم کیے جائیں۔ نارووال سپورٹس سٹی میں ہاکی کا یہ مقابلہ اسی امید کو تقویت دیتا ہے کہ اگر ارادہ مضبوط اور کوشش مسلسل ہو تو چھوٹے شہروں سے بھی بڑی کامیابیوں کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر نارووال کھیلوں کے میدان میں اپنی الگ پہچان بنا سکتا ہے اور پاکستان کا قومی کھیل ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کی جانب بڑھ سکتا ہے

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *