Banner
Daily Sahafat Quetta
October 28, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جسٹس محسن اختر کیانی ’ضمیر کی آواز پر ‘ مستعفینواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیامن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچجسٹس محسن اختر کیانی ’ضمیر کی آواز پر ‘ مستعفینواں کلی کوئٹہ میں ریورنڈ برکت میموریل کرسچن قبرستان کی سالانہ دعائیہ تقریب، مرحومین کے لیے خصوصی دعاچودھری تنویر احمد میو کا بلدیاتی انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان، عوامی مسائل حل کرنے کا عزمگورنمنٹ ٹیچرز ایسوسی ایشن آئینی لورالائی ڈویژن کے انتخابات مکمل، سعید احمد ناصر ڈویژنل صدر منتخبلورالائی ڈویژن میں تعلیمی مسائل کے حل کے لیے سیسا وفد کی ڈویژنل ڈائریکٹر سکولز عبدالواسع کاکڑ سے اہم ملاقاتلورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے موقع پر گورنمنٹ بوائز ماڈل ہائی اسکول میں یکجہتی ریلیلورالائی میں میڈیکل اسٹورز کا معائنہ، غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ ادویات کے خلاف کارروائی کا عزمجامعہ لورالائی میں یومِ سیاہ کشمیر کے سلسلے میں پروقار تقریب، کشمیری عوام سے بھرپور اظہارِ یکجہتیخدمت کے چراغ، امید کی روشنیامن، تعلیم اور ترقی کے ضلع نارووال میں تاریخی ہاکی میچ

خدمت کے چراغ، امید کی روشنی

خدمت کے چراغ، امید کی روشنی
سوک سینٹر اینڈ سیماب پروڈیکشن گوجرانوالہ کے اشتراک سے فیملی شاپنگ میلے کی اختتامی تقریب میں ڈاکٹر وقار احمد نیاز کا تاریخی اعلان؛ گردوں کے مریضوں کے لیئے ایک کروڑ روپے مالیت کی پانچ ڈائیلاسز مشینوں کا تحفہ

منشا قاضی
حسبِ منشا

جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے سوک سینٹر اینڈ سیماب پروڈیکشنز کے تعاون سے منعقد ہونے والا تین روزہ فیملی شاپنگ میلہ محض خرید و فروخت، تفریح اور سماجی میل جول کی ایک سرگرمی نہیں تھا، بلکہ اس کی اختتامی تقریب نے اسے خدمتِ خلق، انسانی ہمدردی اور اجتماعی ذمہ داری کے ایک روشن استعارے میں تبدیل کر دیا۔ گوجرانوالہ کی تاجر برادری، سماجی و ادبی شخصیات اور شہریوں کی بھرپور شرکت سے سجنے والے اس میلے کے آخری لمحات میں اس وقت ایک نئی معنویت پیدا ہوئی جب رحمٰن فاؤنڈیشن کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز نے مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے شہر کے عوام کے لیئے ایک کروڑ روپے مالیت کی پانچ ڈائیلاسز مشینیں فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اعلان نہ صرف گردوں کے امراض میں مبتلا مریضوں کے لیئے امید کی ایک نئی کرن تھا بلکہ اس نے خدمتِ انسانیت کے اس تصور کو بھی اجاگر کیا جس میں وسائل کی اصل قدر ان کے انسانی زندگیوں پر مرتب ہونے والے اثرات سے متعین ہوتی ہے۔
سوک سینٹر میں تین روز تک جاری رہنے والے اس میلے نے گوجرانوالہ کے سماجی اور تجارتی حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ کاروباری سرگرمیوں، خاندانی تفریح اور باہمی روابط کے اس ماحول میں شہر کی مختلف نمایاں شخصیات کی شرکت نے تقریب کو ایک وسیع سماجی رنگ عطا کیا۔ مہمان خصوصی میاں ارشاد احمد پروجیکٹ پارٹنر کی شخصیت قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد دلا رہی تھی ۔ آپ نے ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی طبی کاوش کو اللہ تعالیٰ کی نوازش قرار دیا ۔ مرزا اسلم بیگ پروجیکٹ پارٹنر کے جذبات و احساسات گوجرنوالہ شہر کے شہریوں کے دل کی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑک رہے تھے، ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی تقریر تاثیر میں ڈوبی ہوئی خدمتِ انسانی کی مسیحائی کی شفا تھی ۔ شیخ غلام حسین جج صدر چیمبر آف کامرس گوجرانوالہ کی موجودگی جہاں ماحول میں آسودگی پیدا کر رہی تھی وہاں انہوں نے ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے مشن کو جشن کے طور پر لیا اور ان کی آمد کو گوجرانوالہ کے شہریوں کے لیئے مسیحا قرار دیا اور ان کے ساتھ پورا تعاون کرنے کے لیئے چیمبر آف کامرس کے ہر ممبر تک صرف پیغام ہی نہیں پہنچے گا بلکہ فنڈ ریزنگ کا آغاز بھی گوجرانوالہ سے ہو گا ، رانا فرحان وائس پریزیڈنٹ گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کی روحانی مسرت آپ کے چہرے سے ہویدا تھی ، نیر جمیل بھٹی کا عکس جمیل رنگ و نور کی جرنیں بکھیر رہا تھا ۔ ارشد مغل سینیئر نائب صدر گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس کا خدمتِ انسانی کا شغل ایک مشن میں بدل گیا ، مہمانِ اعزاز خاکسار راقم نے منتظمین کو نویدِ مسرت دی کہ عجوبہ ء روزگار معالج فضیلت مآب ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی یہاں آمد گوجرانوالہ کی خوش نصیبی اور شہریوں کے لیئے شفایابی کی کلید ثابت ہو گی ، محمد شبیر، محمد قاسم، عدنان اسلم اور ابتسام شہریار تھے ۔ سٹال کمپنیز صوفی گروپ آف کمپنیز، مرحبا ، صوفرا کاسمیٹکس، گلوٹا ود ائی جی پونڈولا کوسمتکس ، جسکو پروفیشنل ، ڈی لاڈی گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے خصوصی معاونت نے میلے کو چار چاند لگا دیئے ۔ بچوں کے لیئے تفریحی کارٹون، گول گپے ، بریانی، چائے کے سٹال اور عوام کا جم غفیر قابل اعتماد تھا ۔ رحمٰن فاؤنڈیشن کا خاص تعاون کار فرما تھا ، ڈاکٹر وقارم نیاز اور راقم کی شاندار تقریر اور ان کا شاندار استقبال ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ منزہ قدیم بولیک جیولری، یونیک جیولری ، بنیالہ ہینڈی کرافٹ مختلف پرفیوم کے سٹال مش پرفیوم ایس کے جمال مادام زرتاش ایس کے جمال کی سی ای او جمشید اکبر کا خاص تعاون تھا ۔ نظامت و نقابت کے فرائض سر انجام دینے والی خوبصورت ہستی اسلم سیماب تھے پپٹ شو ، میجک شو، موسیقی، میگا لکی ڈرا ، واشنگ مشین، ہیر ڈائر، بڑا انعام اختتام پر سکوٹی ، گوجرانوالہ پورا شہر فیملی میلے میں بدل گیا ۔ بین الاقوامی شہرت یافتہ کرکٹر شاھد اعوان اور عدنان اسلم کی فرض شناسی کی بلائیں لینے کو جی چاہتا تھا ۔ گوجرانوالہ کے تاجر، سماجی کارکن اور ادبی حلقوں سے وابستہ افراد اس میلے میں شریک ہوئے۔ ایسی تقریبات کسی بھی شہر کی معاشرتی زندگی میں اس لیے اہمیت رکھتی ہیں کہ یہ روزمرہ کی مصروفیات سے ہٹ کر لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے، باہمی تعلقات مضبوط بنانے اور اجتماعی ترقی کے نئے امکانات تلاش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
تاہم اس تین روزہ میلے کی اختتامی تقریب کا سب سے نمایاں اور یادگار پہلو ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی آمد اور ان کا انسان دوست اعلان تھا، جس نے ایک تجارتی و تفریحی اجتماع کو خدمتِ خلق کے ایک بامقصد پیغام میں ڈھال دیا۔
تقریب کی نظامت معروف نقیبِ محفل اسلم سیماب نے انجام دی۔ بڑے اجتماعات میں نقابت محض مقررین کے ناموں کا اعلان کرنے یا پروگرام کے مختلف حصوں کو باہم مربوط کرنے کا نام نہیں؛ یہ حاضرین کی توجہ برقرار رکھنے، ماحول کو متوازن رکھنے، مقررین کو مناسب انداز میں متعارف کرانے اور تقریب کے تسلسل کو خوش اسلوبی سے قائم رکھنے کا فن بھی ہے۔ بالخصوص ایسے اجتماعات میں، جہاں حاضرین کی تعداد زیادہ ہو اور مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد موجود ہوں، نقیب کی صلاحیتوں کا حقیقی امتحان ہوتا ہے۔
اسلم سیماب نے اپنی خوش بیانی، برجستگی اور تجربے سے اس ذمہ داری کو خوش اسلوبی کے ساتھ نبھایا۔ بڑے ہجوم کے درمیان نظم و ضبط برقرار رکھنا، حاضرین کی دلچسپی قائم رکھنا اور تقریب کو اس کے بنیادی مقصد سے ہم آہنگ رکھنا ان کی پیشہ ورانہ مہارت کا مظہر تھا۔ ان کی نقابت نے محفل کے ماحول کو مربوط رکھا اور مہمانِ خصوصی کے تعارف کے لیئے ایک موزوں فضا پیدا کی۔
ڈاکٹر وقار احمد نیاز کا تعارف کراتے ہوئے اسلم سیماب نے رحمٰن فاؤنڈیشن کی خدمات کا ذکر کیا اور گردوں کے مریضوں کے لیئے قائم ڈائیلاسز مراکز کے حوالے سے حاضرین کو آگاہ کیا۔ انہوں نے ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی انسان دوست کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ وہ گوجرانوالہ کے عوام کے لیے بھی کوئی خوش خبری لے کر آئے ہیں۔ ان کے یہ الفاظ گویا اس اعلان کی تمہید ثابت ہوئے جس نے چند ہی لمحوں بعد تقریب کے شرکا کو خوش گوار حیرت سے دوچار کر دیا۔
جب ڈاکٹر وقار احمد نیاز خطاب کے لیے اسٹیج پر تشریف لائے تو ان کی گفتگو کا مرکزی نکتہ خدمتِ انسانیت اور گوجرانوالہ کے عوام کے لیے ایک عملی تحفہ تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ شہر کے لیے ایک کروڑ روپے مالیت کی پانچ ڈائیلاسز مشینیں فراہم کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے مقامی انتظامیہ اور متعلقہ حلقوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ سوک سینٹر میں ان مشینوں کے لیے مناسب عمارت مہیا کی جائے، جبکہ اس مرکز کو مستقل بنیادوں پر چلانے اور اس کے انتظامی و عملی اخراجات پورے کرنے کے لیے مقامی سطح پر فنڈز کی فراہمی کا اہتمام کیا جائے۔
یہ اعلان اپنی نوعیت میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ ڈائیلاسز کا عمل گردوں کے ایسے مریضوں کے لیے زندگی کی ایک ناگزیر ضرورت بن جاتا ہے جن کے گردے خون سے فاسد مادے خارج کرنے کی صلاحیت کھو دیتے ہیں۔ ایسے مریضوں کو باقاعدگی سے علاج کے لیے طبی مراکز جانا پڑتا ہے، جبکہ علاج کے اخراجات، سفر کی دشواریاں اور مسلسل طبی نگہداشت کے تقاضے مریضوں اور ان کے اہلِ خانہ کے لیے ایک بڑا معاشی اور نفسیاتی بوجھ بن سکتے ہیں۔
ایسے میں پانچ ڈائیلاسز مشینوں کی فراہمی کا اعلان محض آلاتِ طب کی فراہمی نہیں، بلکہ ان خاندانوں کے لیے سہولت، امید اور حوصلے کا پیغام ہے جو روزانہ بیماری اور اخراجات کی دوہری آزمائش سے گزر رہے ہیں۔ اگر اس منصوبے کو مناسب عمارت، تربیت یافتہ عملے، طبی نگرانی اور پائیدار مالی وسائل کے ساتھ عملی شکل دی جاتی ہے تو یہ گوجرانوالہ اور اس کے گردونواح کے مستحق مریضوں کے لیے ایک اہم سہولت ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے اعلان کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انہوں نے اس منصوبے کو محض انفرادی عطیے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اس کی کامیابی کے لیے مقامی تعاون کی ضرورت بھی واضح کی۔ ان کا پیغام یہ تھا کہ مشینیں فراہم کرنا ان کی جانب سے خدمت کا حصہ ہے، جب کہ ان کے لیے جگہ مہیا کرنا اور مرکز کے مسلسل اخراجات پورے کرنے کا انتظام کرنا شہر کے صاحبِ ثروت افراد، تاجروں اور سماجی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہو سکتی ہے۔
رحمٰن فاؤنڈیشن کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے اس کے چیئرمین ڈاکٹر وقار احمد نیاز نے جس عزم اور جذبے کی نمائندگی کی، وہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ فلاحی اداروں کی اصل کامیابی ان کے اعلانات میں نہیں، بلکہ ان کے ذریعے فراہم کی جانے والی مستقل سہولتوں میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ فلاح و بہبود کے شعبے میں طبی خدمات کی فراہمی ایک ایسی ذمہ داری ہے جس کے لیے مالی وسائل کے ساتھ ساتھ انتظامی صلاحیت، طبی مہارت اور انسانی درد مندی بھی درکار ہوتی ہے۔
گردوں کے مریضوں کے لیے ڈائیلاسز کی سہولت فراہم کرنا ایک مسلسل عمل ہے۔ اس میں مشینوں کی تنصیب، ان کی دیکھ بھال، بجلی اور دیگر ضروری سہولتوں کا انتظام، مستند طبی عملے کی دستیابی اور مریضوں کے علاج کے معیار کو برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی جانب سے پانچ مشینوں کی فراہمی کے اعلان کے ساتھ مقامی سطح پر عمارت اور فنڈز کے انتظام کی ضرورت پر زور دینا بھی قابلِ توجہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی فلاحی منصوبے کو دیرپا بنانے کے لیے عطیہ اور اجتماعی ذمہ داری کا باہمی اشتراک ناگزیر ہے۔ یہ منصوبہ گوجرانوالہ کے شہریوں کے لیے ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنے شہر میں صحتِ عامہ کی سہولتوں کو بہتر بنانے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔ تاجر برادری اپنے وسائل، سماجی شخصیات اپنے روابط اور اہلِ خیر اپنے عطیات کے ذریعے اس مرکز کو ایک مستحکم ادارے میں تبدیل کرنے میں معاون بن سکتے ہیں۔ یوں ایک فرد کی نیک نیتی اجتماعی تعاون کے ذریعے ایک ایسے نظام کی صورت اختیار کر سکتی ہے جس کے ثمرات طویل عرصے تک ضرورت مند انسانوں تک پہنچتے رہیں۔
سوک سینٹر گوجرانوالہ کا یہ فیملی شاپنگ میلہ اس اعتبار سے بھی قابلِ ذکر رہا کہ اس نے تجارت اور سماجی خدمت کے درمیان ایک بامعنی تعلق کو اجاگر کیا۔ کاروبار کسی بھی معاشرے کی معاشی ترقی کا اہم ذریعہ ہے، لیکن جب معاشی سرگرمیوں سے وابستہ افراد اپنی کامیابیوں اور وسائل کو انسانی فلاح کے لیے بھی بروئے کار لاتے ہیں تو معاشرتی ترقی کا دائرہ وسیع ہو جاتا ہے۔
گوجرانوالہ اپنی کاروباری سرگرمیوں، صنعت و تجارت اور محنتی شہریوں کے باعث ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ایسے شہر میں اگر تاجر برادری اور مخیر حضرات صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی انسانی ضروریات کے لیے منظم انداز میں کردار ادا کریں تو بہت سے مسائل کے حل میں مدد مل سکتی ہے۔ ڈاکٹر وقار احمد نیاز کی جانب سے ڈائیلاسز مشینوں کی فراہمی کا اعلان اسی اجتماعی امکان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
اس موقع پر گوجرانوالہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور شہر کی تاجر و سماجی برادری کے لیے بھی یہ ایک مثبت پیغام ہے کہ وہ اس منصوبے کو محض ایک اعلان سمجھ کر نظرانداز نہ کریں، بلکہ اسے اپنی اجتماعی فلاح کے ایک اہم موقع کے طور پر دیکھیں۔ عمارت کی فراہمی، فنڈز کی تشکیل، انتظامی نگرانی اور شفاف نظامِ کار کے ذریعے اس اقدام کو ایک کامیاب اور پائیدار منصوبے میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
کسی بھی تقریب کی کامیابی کا اندازہ صرف حاضرین کی تعداد، سجاوٹ یا کاروباری سرگرمیوں سے نہیں لگایا جا سکتا؛ اس کا اصل معیار وہ مثبت اثرات ہیں جو اس کے نتیجے میں معاشرے تک پہنچتے ہیں۔ سوک سینٹر کے تین روزہ فیملی شاپنگ میلے کی اختتامی تقریب میں ڈاکٹر وقار احمد نیاز کا اعلان اسی اعتبار سے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے کہ اس نے تفریح اور تجارت کے ماحول میں زندگی، صحت اور انسانی ہمدردی کا ایک اہم سوال سامنے رکھا۔
ایک طرف اسلم سیماب کی رواں نقابت نے محفل کو مربوط رکھا، تو دوسری طرف ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے اعلان نے اس اجتماع کو ایک ایسے مقصد سے وابستہ کر دیا جس کی اہمیت کسی بھی کاروباری کامیابی سے بڑھ کر ہے۔ پانچ ڈائیلاسز مشینوں کی فراہمی کا یہ اعلان اب ایک عملی منصوبے کی صورت اختیار کرنے کا منتظر ہے، جس کے لیے مقامی تعاون، مناسب انتظامات اور مسلسل مالی معاونت بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔
اگر سوک سینٹر میں اس مقصد کے لیے جگہ فراہم ہو جاتی ہے اور اس مرکز کو چلانے کے لیے مطلوبہ وسائل جمع کرنے کا مؤثر انتظام کر لیا جاتا ہے تو یہ اقدام گوجرانوالہ میں طبی سہولتوں کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے نہ صرف گردوں کے مریضوں کو علاج کی سہولت میسر آنے کی امید پیدا ہوگی، بلکہ شہر میں فلاحی کاموں کے لیے اجتماعی تعاون کی ایک مثبت مثال بھی قائم ہو سکتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی خدمت کے لیے اٹھایا جانے والا ہر قدم اپنی جگہ ایک چراغ ہے۔ کچھ چراغ راستوں کو روشن کرتے ہیں اور کچھ ان زندگیوں میں امید جگاتے ہیں جو بیماری، محرومی اور بے بسی کے اندھیروں میں گھر جاتی ہیں۔ ڈاکٹر وقار احمد نیاز کا اعلان بھی اسی امید کی علامت ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ گوجرانوالہ کی تاجر برادری، صاحبِ ثروت شہری اور سماجی ادارے اس اعلان کو عملی حقیقت میں بدلنے کے لیے آگے بڑھیں، تاکہ ایک کروڑ روپے مالیت کی پانچ مشینوں کا یہ تحفہ محض ایک تقریب کی خبر نہ رہے، بلکہ ضرورت مند مریضوں کے لیے سہولت، ان کے اہلِ خانہ کے لیے آسودگی اور پورے شہر کے لیے خدمتِ انسانیت کی ایک روشن مثال بن جائے۔ ایک بات یاد رہے کہ ڈاکٹر وقار احمد نیاز صاحب نے ایک کروڑ کی ڈائیلائسز کی مشینوں کا جو اعلان کیا ہے یہ ڈونیٹ کی گئی ہیں اور آپ نے بڑی فراخ دلی سے اسی طر ح گوجرانوالہ کے لوگوں کے لیئے فراہم اس وقت کی جائیں گی جب سوک سینٹر میں گردوں کی صفائی کے مرکز کے لیئے عمارت فراہم کی جائے گی ۔ اس سلسلے میں رحمٰن فاؤنڈیشن کے برانڈ ہم بیسٹ اسلم سیما رابطے میں رہیں گے اور ان کے رابطے بڑے مضبوط ہوا کرتے ہیں اسلم سیماب کو اللہ تعالی نے ذہانت و فطانت کا ایک ایسا پیکر متحرک بنایا ہے جس کے دل کی دھڑکنیں انسانی خدمت کے اس مقام پر فائز ہیں جہاں پہنچنا زورِ بازو سے نہیں بلکہ یہ سارے خزینے سعادت سے ملتے ہیں ۔ اسلم سیماب نے گوجرانوالہ کے لوگوں کو بآور کرایا کہ رحمٰن فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام 11 گردوں کی صفائی کے مراکز میں گردوں کے امراض میں مبتلا مریض اپنے بسترِ علالت سے لے کر آسماں کی نیلگوں وسعتوں تک آپ کی راہ تک رہے ہیں اور انہیں گردوں کی بیماریوں میں مبتلا مریضوں کی دعائیں ڈاکٹر وقار احمد نیاز کا بھی تعاقب کر رہی ہیں جس کی وجہ سے وہ اور راقم واپسی پر ایک بہت بڑے حادثے سے بال بال بچ گئے ۔ ڈاکٹر وقار احمد نیاز کے دونوں سعادت مند بیٹے جن کی سعادت مندی ضرب المثل ہے میری مراد ڈاکٹر عبداللہ وقار اور اویس علی سے ہے. جن کی سریع الحرکت کارکردگی کا اعتراف نہ کیا جائے تو ناانصافی ہو گی ۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *