Banner
Daily Sahafat Quetta
September 14, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
ہرنائی کی کینسر مریضہ کے علاج کے لیے سرکاری فنڈز منظور، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کا مراسلہ جاریبلوچستان میں ایمبولینس سروسز کو جدید بنایا جا رہا ہے، بخت محمد کاکڑمستونگ آپریشن امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہے، میر ظہور بلیدیبیوٹمز کے طلباء و اساتذہ کا نیب بلوچستان کا دورہ، کرپشن کے خلاف آگاہی دی گئیمستونگ میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اہم کامیابی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانمستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اہم پیش رفت ہے، شاہد رندجمہوریت کی طاقت عوام کی مؤثر شرکت اور قانون کی بالادستی میں ہے، نوابزادہ زرین مگسیبلوچستان میں ملک دشمنوں کیلئے صرف تباہی ہے، مینا مجید بلوچاسلامیہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے ایک کروڑ روپے سیڈ منی دینے کا اعلانعوام کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، میر سلیم کھوسہہرنائی کی کینسر مریضہ کے علاج کے لیے سرکاری فنڈز منظور، وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر محکمہ صحت کا مراسلہ جاریبلوچستان میں ایمبولینس سروسز کو جدید بنایا جا رہا ہے، بخت محمد کاکڑمستونگ آپریشن امن دشمن عناصر کے لیے کاری ضرب ہے، میر ظہور بلیدیبیوٹمز کے طلباء و اساتذہ کا نیب بلوچستان کا دورہ، کرپشن کے خلاف آگاہی دی گئیمستونگ میں 3 دہشتگردوں کی ہلاکت اہم کامیابی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستانمستونگ میں فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائی اہم پیش رفت ہے، شاہد رندجمہوریت کی طاقت عوام کی مؤثر شرکت اور قانون کی بالادستی میں ہے، نوابزادہ زرین مگسیبلوچستان میں ملک دشمنوں کیلئے صرف تباہی ہے، مینا مجید بلوچاسلامیہ یونیورسٹی کے قیام کیلئے ایک کروڑ روپے سیڈ منی دینے کا اعلانعوام کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیح ہے، میر سلیم کھوسہ

بلوچستان میڈیا فورم کا تاریخی مرکزی سیشن

بلوچستان میڈیا فورم کا تاریخی مرکزی سیشن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئٹہ رائٹرز گلڈ ( برگ ) کی
جانب سے صحافیوں میں
شیلڈ اور کتب کی تقسیم،
میر عبدالرحیم جتک کا
خطاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈیجیٹل میڈیا پالیسی مسترد، میڈیا سے وابستہ کسی فرد سے ناانصافی برداشت نہیں کریں گے، قیوم بلوچ

رپورٹ: ذیشان بلوچ

کوئٹہ: بلوچستان کے صحافتی منظرنامے میں ایک اہم پیش رفت کے طور پر بلوچستان میڈیا فورم کا پہلا مرکزی سیشن کوئٹہ میں مرکزی صدر قیوم بلوچ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں بلوچستان کے مختلف اضلاع، ڈویژنوں اور دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، نامہ نگاروں، رپورٹرز، کالم نگاروں، فوٹوگرافرز، میڈیا کارکنوں اور فورم کے مرکزی و ڈویژنل عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔ مرکزی سیشن میں نہ صرف بلوچستان میڈیا فورم کے تنظیمی ڈھانچے کو مزید منظم اور فعال بنانے کے حوالے سے اہم فیصلے کئے گئے بلکہ صوبے بھر کے صحافیوں کو درپیش مسائل، آزادی صحافت، لوکل پرنٹ میڈیا کے تحفظ، میڈیا کارکنوں کے معاشی و پیشہ ورانہ حقوق اور مختلف علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مشکلات پر تفصیلی غور کیا گیا۔ اجلاس میں فورم کے آئین و منشور کی منظوری سمیت متعدد اہم تنظیمی امور پر بھی اتفاق رائے کیا گیا۔مرکزی سیشن میں مرکزی کابینہ، مرکزی عہدیداران، اراکین سینٹرل کمیٹی اور مختلف ڈویژنوں کے عہدیداران نے شرکت کی۔شرکاء میں مرکزی سینئر نائب صدر اللہ یار ڈومکی، مرکزی سیکرٹری جنرل اللہ داد رند، مرکزی نائب صدور شیخ فرید، ندیم بابر مغل، رمضان بھٹو، سلطان کرد، میر صفدر کھوسہ اور صداقت بلوچ، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد علی ہزارہ، مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری حافظ امداد حسین، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اصغر بلوچ، ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات ڈاکٹر رضا خان بابئی، مرکزی سیکرٹری فنانس احمر ندیم، مرکزی سیکرٹری دفتر ذیشان بلوچ، اراکین سینٹرل کمیٹی نعیم بلوچ، خرم شہزاد، عمران مرغزانی، ڈاکٹر وزیر خان مہر، حضور بخش کھوکھر، رمضان زیب، نادر خان رند اور لیاقت علی ڈومکی سمیت دیگر شامل تھے۔ ڈویژنل عہدیداران میں کوئٹہ ڈویژن کے صدر عامر بلوچ، میر عبدالمنان صلاحی، سبی ڈویژن کے صدر گووندا راہیجہ، جنرل سیکرٹری قاضی اسد سندیلہ، نائب صدر راحت حمزہ، ڈپٹی جنرل سیکرٹری رئیس حضور بخش، فنانس سیکرٹری محبوب علی ڈومکی، نصیر آباد ڈویژن کے صدر مشتاق عزیز کھوسہ، جنرل سیکرٹری اسد بلوچ، نائب صدر ارشاد علی ناوڑا، ڈپٹی جنرل سیکرٹری محمد مراد گولہ اور فنانس سیکرٹری رحمت اللہ کھوسہ سمیت دیگر عہدیداران شریک ہوئے۔ مرکزی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی صدر قیوم بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم کسی فرد، گروہ یا تنظیم کے خلاف نہیں بلکہ صوبے بھر سے وابستہ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے اجتماعی حقوق کے تحفظ، ان کے مسائل کے حل اور لوکل پرنٹ میڈیا کی بقا کے لئے قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان جیسے وسیع و عریض صوبے میں صحافت کا کردار انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہاں کے دور دراز علاقوں میں مقامی اخبارات، نامہ نگار اور رپورٹرز آج بھی عوامی مسائل کو اجاگر کرنے اور حکومت و انتظامیہ تک عوام کی آواز پہنچانے کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ قیوم بلوچ نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بلوچستان کے کسی بھی کونے میں میڈیا سے وابستہ کسی فرد کے ساتھ ناانصافی ہوئی تو بلوچستان میڈیا فورم اس کی آواز بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ صحافی خواہ کسی بڑے شہر سے تعلق رکھتا ہو یا کسی دور دراز تحصیل، ضلع یا دیہی علاقے میں اپنے فرائض انجام دے رہا ہو، اس کے بنیادی، قانونی اور پیشہ ورانہ حقوق یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی صحافی کے ساتھ صرف اس بنیاد پر ناانصافی نہیں ہونی چاہئے کہ وہ کسی دور دراز علاقے میں کام کرتا ہے یا کسی بڑے میڈیا ادارے سے وابستہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم صحافیوں کو تقسیم کرنے کے بجائے انہیں ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور فورم کا مقصد کسی کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ صحافیوں کے اجتماعی مفادات کا تحفظ ہے۔بلوچستان کے تمام صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو چاہئے کہ وہ ذاتی، گروہی اور علاقائی اختلافات سے بالاتر ہوکر اپنے پیشہ ورانہ حقوق کے لئے متحد ہوں۔مرکزی سیشن میں حکومت بلوچستان کی جانب سے نافذ کی گئی ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2026ء پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔مقررین نے پالیسی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ شکل میں اس پالیسی کے نتیجے میں لوکل پرنٹ میڈیا سے وابستہ ہزاروں صحافیوں، نامہ نگاروں، رپورٹرز، فوٹوگرافرز اور دیگر میڈیا کارکنوں کے معاشی مفادات اور روزگار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ صوبائی حکومت صحافتی تنظیموں، مقامی اخبارات کے مالکان، ایڈیٹرز، نامہ نگاروں اور میڈیا کارکنوں کے نمائندوں کو اعتماد میں لے کر پالیسی کا ازسرنو جائزہ لے اور ایسی پالیسی تشکیل دی جائے جس سے جدید ڈیجیٹل میڈیا کے ساتھ ساتھ لوکل پرنٹ میڈیا بھی مضبوط ہو۔ اجلاس میں کہا گیا کہ ڈیجیٹل دور کی ضرورتوں سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور جدید ذرائع ابلاغ وقت کی اہم ضرورت ہیں، تاہم ڈیجیٹل میڈیا کے فروغ کے نام پر مقامی اخبارات اور ان سے وابستہ ہزاروں میڈیا کارکنوں کے معاشی حقوق کو نظرانداز کرنا کسی صورت مناسب نہیں۔بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں مقامی اخبارات آج بھی عوامی مسائل کی موثر ترجمانی کر رہے ہیں، اس لئے پالیسی سازی میں زمینی حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ مقررین نے کہا کہ بلوچستان میں مقامی اخبارات محدود وسائل کے باوجود صحافت کا چراغ روشن رکھے ہوئے ہیں۔ ان اخبارات کے نمائندگان دشوار گزار علاقوں میں سفر کرکے خبریں جمع کرتے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرتے ہیں، سرکاری اداروں کی کارکردگی کو رپورٹ کرتے ہیں اور اپنے علاقوں کی آواز صوبائی دارالحکومت اور ملک کے دیگر حصوں تک پہنچاتے ہیں۔ ان نامہ نگاروں کو محض اخباری نمائندہ سمجھنے کے بجائے انہیں صحافتی نظام کا بنیادی ستون سمجھا جانا چاہئے۔اجلاس میں مختلف علاقوں میں صحافیوں کو انتظامیہ، بعض سرکاری افسران اور دیگر حلقوں کی جانب سے پیش آنے والے مسائل اور نامناسب رویوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔مقررین نے کہا کہ صحافی اور انتظامیہ معاشرے کے دو اہم ادارے ہیں اور دونوں کا مقصد عوامی مسائل کے حل اور ریاستی نظام کو بہتر بنانے میں کردار ادا کرنا ہے۔ صحافیوں کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آنا اور انہیں ان کے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے لئے سازگار ماحول فراہم کرنا متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ںمرکزی سیشن میں مختلف علاقوں کے پریس کلبز میں مخصوص گروہوں کی اجارہ داری کے مسئلے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔مقررین نے واضح کیا کہ پریس کلبز کسی فرد یا مخصوص گروہ کی ملکیت نہیں بلکہ صحافیوں کے اجتماعی ادارے ہیں۔ پریس کلبز میں تمام حقیقی اور فعال صحافیوں کے لئے مساوی مواقع ہونے چاہئیں اور کسی بھی صحافی کو ذاتی اختلافات یا گروہی سیاست کی بنیاد پر صحافتی اداروں سے دور رکھنا قابل قبول نہیں۔
مقررین نے اس امر پر بھی زور دیا کہ صحافتی اداروں اور پریس کلبز میں جمہوری روایات کو مضبوط بنایا جائے، انتخابات باقاعدگی سے ہوں، صحافیوں کی رائے کا احترام کیا جائے اور اختلاف رائے کو دشمنی میں تبدیل کرنے کے بجائے مثبت صحافتی ماحول کو فروغ دیا جائے۔ بلوچستان جیسے حساس اور وسیع صوبے میں صحافیوں کے درمیان اتحاد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اجلاس میں مختلف علاقوں کے نامہ نگاروں اور صحافیوں کے خلاف قائم مقدمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ فورم کے رہنماؤں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ صحافتی فرائض کی انجام دہی کے دوران قائم کئے گئے مقدمات کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر کسی صحافی کے خلاف مقدمہ صرف اس کی صحافتی سرگرمیوں کی بنیاد پر قائم کیا گیا ہے تو اسے فوری طور پر ختم کیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ صحافی کو خبر کی بنیاد پر دباؤ، دھمکی یا مقدمے کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے نہ صرف ایک فرد متاثر ہوتا ہے بلکہ مجموعی طور پر آزادی صحافت بھی متاثر ہوتی ہے۔ بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی سیکرٹری جنرل اللہ داد رند نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فورم کا مرکزی سیشن بلوچستان بھر کے صحافیوں کو ایک مربوط تنظیمی پلیٹ فارم فراہم کرنے کی جانب اہم قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ تنظیم کی مضبوطی صرف عہدیداران کے ناموں سے نہیں بلکہ فعال رابطے، باہمی اعتماد اور عملی جدوجہد سے ممکن ہے۔ بلوچستان کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں موجود صحافیوں کے مسائل کو مرکزی سطح پر اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لئے مربوط حکمت عملی اختیار کی جائے گی۔ مرکزی نائب صدور شیخ فرید، ندیم بابر مغل، رمضان بھٹو، سلطان کرد، میر صفدر کھوسہ اور صداقت بلوچ سمیت دیگر رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان کے صحافی مشکلات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہے ہیں۔دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے نامہ نگاروں کو مناسب معاوضہ، پیشہ ورانہ تحفظ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا اداروں، حکومت اور صحافتی تنظیموں کو مل کر ایسا نظام تشکیل دینا چاہئے جس میں صحافت سے وابستہ افراد کو معاشی عدم تحفظ کا سامنا نہ ہو۔ مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل محمد علی ہزارہ نے کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم کا دائرہ کار صوبے کے مختلف علاقوں تک پھیل چکا ہے اور اب ضرورت اس امر کی ہے کہ تنظیمی رابطے کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری حافظ امداد حسین نے تنظیمی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فورم کے آئین و منشور کے مطابق تمام فیصلے مشاورت اور اجتماعی اصولوں کے تحت کئے جائیں گے۔ ڈویژنل عہدیداران نے اپنے اپنے علاقوں میں صحافیوں کو درپیش مسائل سے مرکزی قیادت کو آگاہ کیا۔سبی، مچھ بولان، بھاگ، بختیار آباد، صحبت پور، ڈیرہ مراد جمالی، نصیر آباد، گوادر اور دیگر علاقوں سے آنے والے نمائندگان نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں صحافیوں کو الگ الگ نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے، تاہم ان سب کا بنیادی مسئلہ معاشی عدم تحفظ، پیشہ ورانہ مشکلات، سرکاری اداروں تک رسائی، نامہ نگاروں کے لئے مناسب معاوضہ اور صحافتی آزادی کا تحفظ ہے۔ مرکزی سیشن میں اس امر پر بھی زور دیا گیا کہ بلوچستان میں صحافت کو صرف کوئٹہ تک محدود سمجھنا درست نہیں۔ اصل صحافت ان دور دراز علاقوں میں بھی ہو رہی ہے جہاں محدود وسائل کے باوجود صحافی عوامی مسائل کو رپورٹ کرتے ہیں۔ کہیں پانی کا مسئلہ ہے، کہیں صحت اور تعلیم کی سہولیات کا فقدان، کہیں سڑکوں کی حالت خراب ہے، کہیں بجلی اور گیس کے مسائل ہیں، کہیں روزگار کا بحران ہے اور کہیں شہری بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ ان تمام مسائل کو سامنے لانے میں مقامی صحافی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اگر مقامی اخبارات کمزور ہوں گے تو دور دراز علاقوں کی آواز بھی کمزور ہوگی۔ اس لئے لوکل پرنٹ میڈیا کا تحفظ دراصل عوامی آواز کے تحفظ کے مترادف ہے۔حکومت کو اشتہارات اور دیگر سرکاری پالیسیوں میں اس حقیقت کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ مقامی اخبارات محدود وسائل میں عوامی خدمت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ مرکزی سیشن کے دوران بلوچستان میڈیا فورم کے تنظیمی مستقبل کے حوالے سے بھی مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ صوبے کے مختلف اضلاع اور ڈویژنوں میں تنظیمی رابطہ مزید فعال کیا جائے گا، صحافیوں کے مسائل کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، متعلقہ اداروں تک اجتماعی طور پر آواز پہنچائی جائے گی اور ضرورت پڑنے پر قانونی و آئینی طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ بلوچستان میڈیا فورم صحافیوں کے حقوق، آزادی صحافت، لوکل پرنٹ میڈیا کے تحفظ اور میڈیا کارکنوں کے معاشی و پیشہ ورانہ مفادات کے لئے آئین و منشور کے مطابق جدوجہد جاری رکھے گا۔ فورم کا موقف واضح کیا گیا کہ صحافیوں کے مسائل کو سیاسی یا ذاتی مفادات کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اسے ایک پیشہ ورانہ اور بنیادی حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ مرکزی سیشن کی ایک اہم خصوصیت بلوچستان رائٹرز گلڈ ’’برگ‘‘ کی جانب سے صحافت اور ادب کے شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کی حوصلہ افزائی بھی تھی۔تقریب میں معروف قبائلی شخصیت اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی رہنما میر عبدالرحیم جتک نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پر بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی صدر قیوم بلوچ، بلوچستان رائٹرز گلڈ ’’برگ‘‘ کے چیئرمین اور بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی نائب صدر شیخ فرید سمیت دیگر شخصیات بھی موجود تھیں۔ مہمان خصوصی میر عبدالرحیم جتک، قیوم بلوچ اور شیخ فرید نے صحافت اور ادب کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات میں شیلڈز اور کتب تقسیم کیں۔ اس موقع پر اہل قلم اور صحافیوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا گیا کہ معاشرے میں صحافت اور ادب کا کردار کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ اہل قلم اپنے الفاظ، فکر اور مشاہدے کے ذریعے معاشرے میں شعور اجاگر کرتے ہیں، مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں اور مثبت تبدیلی کے لئے فکری بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
میر عبدالرحیم جتک نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں صحافت اور ادب کے فروغ کے لئے بلوچستان رائٹرز گلڈ ’’برگ‘‘ کی کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحافی، ادیب اور قلم کار معاشرے کے اہم ستون ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی سے نہ صرف موجودہ اہل قلم کی خدمات کو تسلیم کیا جاتا ہے بلکہ نئی نسل کو بھی مطالعہ، ادب اور مثبت صحافت کی طرف آنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ادبی اور صحافتی سرگرمیوں کا فروغ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ صوبے میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ادب، صحافت، تحقیق اور تخلیقی سرگرمیوں سے وابستہ ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کی صلاحیتوں کو مناسب پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ انہوں نے بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی سیشن کو بھی صحافتی برادری کے مسائل کے حوالے سے ایک مثبت اور اہم قدم قرار دیا۔
قیوم بلوچ نے کہا کہ صحافت اور ادب کا ایک دوسرے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ صحافت معاشرے کے موجودہ مسائل کو سامنے لاتی ہے جبکہ ادب معاشرے کے فکری اور تہذیبی پہلوؤں کو محفوظ کرتا ہے۔ دونوں شعبے معاشرتی اصلاح، شعور کی بیداری اور عوامی مسائل کی نشاندہی میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم صحافیوں کے حقوق کے ساتھ ساتھ اہل قلم کی حوصلہ افزائی اور مثبت صحافتی و ادبی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے بھی اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ شیخ فرید نے کہا کہ بلوچستان رائٹرز گلڈ ’’برگ‘‘ کی ترجیحات میں اہل قلم، صحافیوں اور ادیبوں کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔شیلڈز اور کتب کی تقسیم کا مقصد صرف اعزاز دینا نہیں بلکہ معاشرے میں مطالعہ، ادب اور مثبت صحافت کی اہمیت کو اجاگر کرنا بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ کتاب معاشرے کی فکری تربیت کا اہم ذریعہ ہے اور نوجوان نسل کو کتاب، مطالعہ اور تحقیق سے جوڑنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
تقریب کے دوران میر عبدالرحیم جتک نے بلوچستان بھر سے آنے والے صحافیوں کے ساتھ خصوصی نشست میں مختلف موضوعات پر گفتگو بھی کی۔ انہوں نے صحافیوں کے مسائل سنے اور صحافتی برادری کے کردار اور صوبے کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس موقع پر انہوں نے صحافیوں کے اعزاز میں پرتکلف عصرانہ بھی دیا۔ بلوچستان میڈیا فورم کے پہلے مرکزی سیشن نے یہ واضح کیا کہ صوبے کی صحافتی برادری اپنے مسائل کے حل کے لئے ایک منظم اور اجتماعی آواز کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔ فورم کی جانب سے ڈیجیٹل میڈیا پالیسی 2026ء کی مخالفت، لوکل پرنٹ میڈیا کے تحفظ کا مطالبہ، نامہ نگاروں کے خلاف مقدمات کے خاتمے کی اپیل، صحافیوں کے ساتھ نامناسب رویوں کی مذمت، پریس کلبز میں اجارہ داری کے خلاف آواز اور صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کا اعلان اسی اجتماعی سوچ کا اظہار ہے۔ یہ مرکزی سیشن محض ایک تنظیمی اجلاس نہیں بلکہ بلوچستان کے صحافتی حلقوں میں نئے رابطے، نئے عزم اور نئی تنظیمی سمت کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع صوبے میں جہاں ایک طرف جدید ڈیجیٹل ذرائع ابلاغ تیزی سے فروغ پا رہے ہیں، وہیں دوسری طرف مقامی اخبارات اور ان سے وابستہ نامہ نگار آج بھی عوامی مسائل کی ترجمانی کا بنیادی ذریعہ ہیں۔ ایسے میں صحافت کے تمام شعبوں کے درمیان توازن، باہمی احترام اور پیشہ ورانہ حقوق کا تحفظ ناگزیر ہے۔
بلوچستان میڈیا فورم کے مرکزی سیشن میں شریک صحافیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ صحافت کی آزادی، صحافیوں کے بنیادی و قانونی حقوق، لوکل پرنٹ میڈیا کی بقا، نامہ نگاروں کے معاشی استحکام اور عوامی مسائل کو اجاگر کرنے کے لئے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔ فورم کی قیادت نے واضح کیا کہ تنظیم کا مقصد کسی فرد یا گروہ سے ٹکراؤ نہیں بلکہ صحافتی برادری کے اجتماعی مفادات کا تحفظ ہے اور جہاں کہیں کسی صحافی یا میڈیا کارکن کے ساتھ ناانصافی ہوگی، وہاں بلوچستان میڈیا فورم اس کی آواز بن کر سامنے آئے گا۔ مرکزی صدر قیوم بلوچ نے اجلاس کے اختتام پر کہا کہ بلوچستان میڈیا فورم کا سفر کسی ایک شخصیت یا ایک شہر تک محدود نہیں بلکہ یہ بلوچستان بھر کے صحافیوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ فورم کے دروازے تمام حقیقی اور فعال میڈیا کارکنوں کے لئے کھلے ہیں اور تنظیمی معاملات میں باہمی مشاورت، اتحاد اور جمہوری اصولوں کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے صحافیوں کے حقوق کے لئے جدوجہد طویل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، شرط صرف یہ ہے کہ صحافتی برادری اپنے اجتماعی مفاد پر متحد رہے۔ مرکزی سیشن کے اختتام پر شرکاء نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بلوچستان میڈیا فورم آئین و منشور کے مطابق آزادی صحافت، صحافیوں کے حقوق، لوکل پرنٹ میڈیا کے تحفظ، میڈیا کارکنوں کے معاشی و پیشہ ورانہ مفادات اور عوامی مسائل کے موثر ابلاغ کے لئے اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ سیشن نے بلوچستان کی صحافتی برادری کے درمیان باہمی رابطے، اتحاد اور مشترکہ جدوجہد کے ایک نئے مرحلے کی بنیاد رکھ دی، جس کے اثرات آنے والے دنوں میں صوبے کے صحافتی ماحول میں مزید نمایاں ہونے کی توقع ہے۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *