Banner
Daily Sahafat Quetta
September 19, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیتربت:تربت پریس کلب کی دو سالہ نئی کابینہ بلامقابلہ منتخب، حافظ صلاح الدین سلفی صدر اور ماجد صمد جنرل سیکرٹری منتخبچارسدہ میں اسٹیک ہولڈر کوآرڈینیشن اجلاس کا انعقادحرمین شریفین پوری امت مسلمہ کا مشترکہ روحانی مرکز ہیں، عبدالرحمن رفیقعوامی سہولت کو اولین ترجیح دے کر گرین بس سروس بہتر بنائی جائے، ذیشان لاشاریوالدین پولیو ٹیموں سے تعاون کرکے بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں، مہراللہ بادینیکیچی بیگ میں گھر کے اندر شدید دھماکا، 2 افراد جاں بحقTENDER NOTICE: DAB/AB NO.351/18-9-2026کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف کارروائی، 570 لیٹر دودھ اور 200 کلو دہی تلفسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدیتربت:تربت پریس کلب کی دو سالہ نئی کابینہ بلامقابلہ منتخب، حافظ صلاح الدین سلفی صدر اور ماجد صمد جنرل سیکرٹری منتخبچارسدہ میں اسٹیک ہولڈر کوآرڈینیشن اجلاس کا انعقادحرمین شریفین پوری امت مسلمہ کا مشترکہ روحانی مرکز ہیں، عبدالرحمن رفیقعوامی سہولت کو اولین ترجیح دے کر گرین بس سروس بہتر بنائی جائے، ذیشان لاشاریوالدین پولیو ٹیموں سے تعاون کرکے بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں، مہراللہ بادینیکیچی بیگ میں گھر کے اندر شدید دھماکا، 2 افراد جاں بحقTENDER NOTICE: DAB/AB NO.351/18-9-2026کوئٹہ میں ملاوٹی دودھ و دہی کے خلاف کارروائی، 570 لیٹر دودھ اور 200 کلو دہی تلفسینئر صحافی نصیر احمد خان کاکڑ پر حملہ اور تشدد کی شدید الفاظ مذمت، ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ مولانا محمد طاہر توحیدی

عام آدمی کو محفوظ و باوقار سفری ذرائع مہیا کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ترجیح اربن ٹرانسپورٹ

عام آدمی کو محفوظ و باوقار سفری ذرائع مہیا کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ترجیح اربن ٹرانسپورٹ

پیپلز ٹرین سروس ،
گرین و پنک بس سروس کے بعد وزیر اعلیٰ بلوچستان کی دوسری بڑی کامیابی ہے

تحقیق و تجزیہ -!!!

عبدالمتین اخونزادہ (کوئٹہ )
unreath17@gmail.com
What’s up 92 3337803221

نئے دور یعنی اکیسویں صدی کے اندر ترقی و ٹرانسپورٹ سیکٹر ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں کبھی صوبائی بجٹ میں محکمہ ٹرانسپورٹ کے لئے کچھ رقم ہی رکھا جاتا تھا مگر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی خصوصی توجہ و واضح ویژن سے اربن ٹرانسپورٹ اور بطور خاص نسل نو نوجوانوں و خواتین بچیوں اور عام آدمی کے سفر کو محفوظ و باوقار بنانے کے لئے خصوصی اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن میں گرین و پنک بس سروس کی کوئیٹہ و تربت میں کامیاب سروسز کے بعد کوئٹہ میں شہری ترقی و خوشحالی کے منزل کو پانے کے لئے وزیر اعلیٰ میر سرفراز احمد بگٹی نے خصوصی توجہ دی اور صوبائی بجٹ میں 2984.135, ملین روپے کی خطیر رقم رکھی گئی جس کے لئے صوبائی سیکرٹری ٹرانسپورٹ کی سربراہی میں
محکمہ ٹرانسپورٹ حکومت بلوچستان کی ماہرانہ ٹیم نے پاکستان ریلوے کے ساتھ مل کر پیپلز ٹرین پروجیکٹ تیار کی گئی مسلسل و مربوط کوششیں کی گئی جن میں وزیر اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی توجہ و دلچسپی سے وفاقی وزیر ریلوے و سیکرٹری ریلوے کوئٹہ تشریف لائے جس کے باعث آج کوئٹہ میں سریاب روڈ سے کچلاک تک سات ریلوے اسٹیشن کے ساتھ مل پیپلز ٹرین سروس کا آغاز کیا جارہا ہے جس میں دو پارلر کوچ ،پاور پلانٹ کے ساتھ 1400 ملین روپے کی خریداری کی گئی ہیں اور سریاب و کچلاک اسٹیشنوں پر ٹرن ٹیبل کی تنصیب کی گئی ہیں حالانکہ زیادہ بہتر ہوتا کہ نئی ٹیکنالوجی کی بنیاد پر ڈیزل ملٹی پل یونٹ (ڈی ایم یو) کی خریداری کا اہتمام کیا جائے تاکہ ممکنہ طور پر زیادہ تیز رفتار ایکسپریس ٹرین اور بہتر ٹائم ٹیبل پر لاکھوں شہریوں کی بنیادی ضرورت یعنی اربن ٹرانسپورٹ کا نظام چلایا جائے
سریاب اسٹیشن کے بعد یونیورسٹی آف بلوچستان کے عقب میں طلبہ و طالبات نوجوانوں اور خواتین و بچیوں کے لئے لوڑ کاریز اور شہر کوئٹہ کے وسط میں پوش علاقوں تک پہنچنے کی غرض سے جی او آر کالونی کے مقام پر دوسرا خوبصورت اور دلکش اسٹیشن تعمیر کئے گئے ہیں ان دو اسٹیشن پر 114 ملین روپے خرچ ہوئے ہیں ان دونوں مقامات پر زندگی کی خوبصورتی و شادابی اور زمینوں کے مارکیٹ ویلیو میں روز افزوں ترقی و پیشرفت کے ساتھ بڑی بڑی آبادیاں مستفید ہوسکیں گے
کوئٹہ کے مرکزی اسٹیشن کو بھی بہت زیادہ خوبصورت اور مسافروں کے لئے ہر لحاظ سے بہتر سے بہترین کی کوشش کی گئی ہے جہاں مرکزی اسٹیشن سے شہر کوئٹہ کے وسط تک پہنچنے میں آسانی رہتی ہے وہی جی او آر کالونی کے نئے اور جدید اسٹیشن سے نئے شہر یعنی ائیرپورٹ روڈ کوئٹہ اور خاص کر سریاب روڈ و کچلاک دونوں مضافاتی بڑی آبادیوں سے روزمرہ کی بنیاد پر ہزاروں افراد مرد و خواتین بچے و بوڑھے اور خاص کر طلبہ و طالبات اور اساتذہ کرام و مریضوں کو شیخ زاید ہسپتال اور نسٹ یونیورسٹی سے ملحقہ نیو ہیلتھ و ایجوکیشن سٹی تک پہنچنا ممکن ہوسکیں گا اور خاص کر سریاب و کچلاک دونوں مضافاتی علاقوں کے لاکھوں شہریوں کو ائیرپورٹ روڈ پر واقع بڑے بڑے شاپنگ مالز تک خریداری اور سیر و تفریح دونوں کے یکساں مواقع فراہم کئے جائیں گے اس پیپلز ٹرین سروس کے ذریعے اس طرح وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی عوام کے خراج تحسین کے مستحق ہونگے اور خواتین و بچیوں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں و بزرگوں کے لئے سفری سہولیات جدید انداز میں حکومتی وسائل و معاونت سے پیش کرنے پر -:
ہاں یہ ضرور ہے کہ اب مرکزی اسٹیشن سے شہر پہنچنے اور لوڑ کاریز اسٹیشن سے یونیورسٹی آف بلوچستان ڈگری کالج پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ ہلیپر ہسپتال تک پہنچنے کے لئے شٹل سروس کا آغاز کیا جائے اور اسی طرح ائیرپورٹ روڈ پر واقع بڑے شاپنگ مالز تک پہنچنے کے لئے بھی شٹل سروس درکار ہیں
پیپلز ٹرین سروس کے سات اسٹیشنوں میں شیخ ماندہ اسٹیشن ائیرپورٹ روڈ کوئٹہ کی خصوصی خوبصورتی و شادابی دیکھنے کے قابل ہیں جو سرسبز ہے اور درختوں کی بہاریں دیکھنے کے قابل ہیں جنھیں کوئٹہ پیکج کے تحت خوبصورت بنایا گیا ہے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے اہلکاروں کی خصوصی انتظامی صلاحیت کی بنیاد پر یہ خوبصورتی و شادابی برقرار رکھا جاسکتا ہے یہ امر بھی قابل تحسین ہے کہ ان تمام اسٹیشنوں پر پانی کے خصوصی بور کئے گئے ہیں اور مسافروں کے ساتھ سبزہ و شجر کاری کے لئے پانی کا ضروری و مستقل انتظام کیا گیا ہے
بلیلی اسٹیشن بھی تاریخی اہمیت رکھتا ہے جہاں روہڑی اسٹیشن تک کا فاصلہ 396.33 کلو میٹر مین اسٹیشن بورڈ پر سالوں سے آویزاں ہے جو ریلوے کے فاصلوں کی خصوصی توجہ و اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں یہ فاصلے دراصل بین الصوبائی ہم آہنگی اور رواداری پیدا کرنے کے باعث بنتے ہیں
بلیلی اسٹیشن کے آس پاس دو خوبصورت اور باوقار تعلیمی ادارے موجود ہیں جن تک پہنچنے کی رسائی کے لئے خصوصی توجہ و اہتمام درکار ہیں یعنی بیوٹمز یونیورسٹی کے کالونی اور مین کیمپس تک پہچنے کیلئے شٹل سروس کی ضرورت ہے جبکہ زرعی یونیورسٹی تک پہنچنے کے لئے مین روڈ کے اوپر واکنگ برج بنانے کا فیصلہ کیا جائے تاکہ اس اسٹیشن اور خاص کر پیپلز ٹرین سروس کی افادیت اور اہمیت نوجوانوں و خواتین بچوں و بچیوں اور بزرگوں و عام آدمی کے لئے حاصل کیا جائے بیوٹمز یونیورسٹی کے عقب میں ریلوے اسٹیشن کے ایریا تک خوبصورت اور دلکش پارک اور سبزہ زار بنایا جاسکتا ہے تاکہ ممکنہ طور پر یہ اسٹیشن اس علاقے میں خصوصی توجہ و اہمیت کا حامل بن سکیں اور دونوں اداروں کے ملازمین و نوجوانان تعلیم و تربیت اس سے استفادہ حاصل کرسکیں ـ
پیپلز ٹرین سروس کی اگلے اور آخری اسٹیشن کچلاک اسٹیشن ہے جو نہایت اہم اور وسیع اسٹیشن ہے جہاں سے بڑی آبادیاں شہر کوئٹہ تک پہنچنے کے لئے متنوع ٹرانسپورٹ سسٹم کے لئے منتظر رہتے ہیں کچلاک اسٹیشن کے ساتھ ہی گرین بس سروس کا اسٹاپ ہے جسے بہتر بنانے اور خواتین و بچیوں کے ساتھ ساتھ بزرگوں و عام آدمی کے سفر کے لئے زیادہ سہولت مند بنانے کی ضرورت ہیں کچلاک اسٹیشن پر ٹرن ٹنل کی تنصیب کی گئی ہے یعنی یہاں سے ریلوے انجن موڑنے کے لئے یہ مشینری نصب کی گئی ہے تاکہ ممکنہ طور پر 40/50 منٹوں کے وقفے کے بعد یہ ٹرین سروس دوبارہ کوئٹہ و سریاب روڈ کی طرف چلنا شروع کرسکیں لیکن ظاہر ہے کہ اس ٹرن ٹیبل سے زیادہ اب نئے تکینک ڈی ایم یو (ڈیزل ملٹی پل یونٹ) ریلوے سسٹم میں ایجاد ہوئے ہیں تاکہ کم وقت میں زیادہ مسافروں کی خدمت کرکے انھیں منزل مقصود تک پہنچنے کی سہولیات پیدا کیا جائے
بلیلی اسٹیشن اور کچلاک اسٹیشن کے درمیان زیادہ فاصلہ ہونے کے باعث غزہ بند سکاؤٹس کی آبادیاں مخلتف دیہات اور ڈی ایچ اے و پاکستان ہاؤسنگ سکیم کی بڑی آبادیاں پیپلز ٹرین سروس کی سہولیات سے محروم ہیں اس لئے ضروری ہے کہ اس درمیان میں ایک نئے اور خوبصورت اسٹیشن کا قیام عمل میں لایا جائے
سات اسٹیشنوں پر قیام کرتے ہوئے یہ پیپلز ٹرین سروس بتیس کلومیٹر کا سفر کرکے سریاب و کچلاک دونوں مضافاتی علاقوں کو آپس میں ملا کر روزمرہ کی بنیاد پر چار مرتبہ چلے گی اور ہزاروں افراد کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز احمد بگٹی کی
ویژن کے مطابق

,, باوقار سفر
محفوظ سفر ـ،،

سستے داموں فراہم کریں گے وزیر اعلیٰ بلوچستان کی ہدایت پر عمل درآمد کرتے ہوئے محکمہ ٹرانسپورٹ حکومت بلوچستان نے 36 کروڑ روپے کی خطیر رقم تین سالوں کے لئے پیشگی طور پر پاکستان ریلوے کو ادا کئے گئے ہیں تاکہ یہ ٹرین سروس تسلسل سے چلایا جائے جبکہ 94 ملین روپے سے ٹریک مرمت کی گئی جس میں پرانے سلیپر کے بجائے کنکریٹ و لوہے کے نئے اور مضبوط ٹریک کی بنیاد رکھی گئی ہے جبکہ برج و پھاٹک کی قیام و مرمت کے لئے 54 ملین روپے ادا کئے گئے ہیں –
مجموعی طور پر
یہ عوام دوست منصوبہ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی عام آدمی کی زندگی میں تبدیلی اور ترقی و خوشحالی کی بہاریں دیکھنے کا ویژن کی عکاسی کرتا ہے تاکہ ممکنہ طور پر صوبے کے تلخ و ترش حالات میں بھی شوق زندگی و سلامتی کی بحالی برقرار رکھا جاسکے اور عوام کے وسائل عوام پر خرچ کرنے کے جمہوری نظام انصاف کی فراہمی ممکن بنائیں کیونکہ
انسانی زندگیوں کی حفاظت و نگہداشت اور معاشی ترقی و خوشحالی کے لئے تگ و دو اور محنت و مشقت کے راستے کھولنے کا میکنزم تشکیل دینا لمحہ موجود میں سب سے مقدم و ضرری کام ہے آج کے بدلتی ہوئی دنیا میں ٹرانسپورٹ سیکٹر میں بے پناہ مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ یہ شعبہ عملاً معاشرتی و سماجی شعور کی بیداری اور انسانی زندگیوں کی حفاظت و معاشی ترقی کے لئے ٹرانسپورٹ سیکٹر میں چیلنج و سوال ایڈریس کرنے کی ضرورت ہیں چیف سیکرٹری بلوچستان کے ہدایات کی روشنی میں خوش قسمتی سے محکمہ ٹرانسپورٹ کے منتظمین اپنے شعبے میں اعلیٰ صلاحیتیں رکھنے والی ٹیم موجود ہیں جبکہ پہلے پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ مجید بادینی اور موجودہ پارلیمانی سیکرٹری ٹرانسپورٹ لیاقت لہڑی ہیں جبکہ عملاً وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی و چیف سیکرٹری ،سیکرٹری ٹرانسپورٹ کی سرپرستی میں ٹرانسپورٹ پالیسی کی تشکیل و تکمیل کے لئے ضروری اقدامات کیے جارہے ہیں تاکہ محفوظ زندگیوں کے لئے محفوظ و آرام دہ سفر اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک اکنامک گروتھ اور وسیع پیمانے پر اصلاحات و کاروباری مواقعوں کی مجموعی بصیرت و احساس دردمندی کا
ماحول پیدا کیا جائے ـ کیونکہ ٹیکنالوجی بیس بزنس گروتھ کے لئے ٹرانسپورٹ سیکٹر کی ترقی بنیادی ضرورت ہے ـپرامن بلوچستان اور محفوظ سفر کے لئے وزیر اعلیٰ و صوبائی حکومت پر عزم ہیں جس سے
بلوچستان میں
ٹرانسپورٹ سیکٹر کا مستقبل اور معاشی ترقی ،زندگی کا نقل و حمل اور انسانی زندگیوں کی حفاظت و بزنس گروتھ سے وابستہ رہی ہیں پہیہ ایجاد ہونے کے ساتھ ترقی و خوشحالی کا دور دورہ رہا اور ٹیکنالوجی و لمحہ موجود کے تیز رفتار ترقیاتی اپروچ اختیار کرنے سے دروس امکانات روشن رکھنے کا فیصلہ کیا جاسکتا ہیں ٹرانسپورٹ سیکٹر کی مشکلات و غلط فہمیاں دور کرکے ہم نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرسکتے ہیں اکیڈیماء اور سیاسی و انتظامی قیادتوں کا مل کر مستقبل قریب میں ٹرانسپورٹ پالیسی کی تشکیل و تعبیر نو کا راستہ ہموار کیا جاسکتا ہے چائنا اکنامک کوریڈور سے خطے کی تقدیر بدلنے والی ہے اور ترقی و توانائی لانے کے لئے سرمایہ کاری کرنے والوں کے لئے نرم و یکساں قوانین متعارف کرانے کا تیز رفتار میکنزم تشکیل دینا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں گرین بس سروس کے بعد پیپلز ٹرین سروس کا اجراء کوئٹہ کے عوام و جونواں کے لئے خوشگوار احساس کا آغاز قرار دیا جاسکتا ہے جبکہ پائپ لائن منصوبے تشکیل دینے کے بعد عام آدمی ریلیف و راحت محسوس کرسکتا ہیں ٹرانسپورٹ انجنئیرنگ کی تعلیم و تحقیق اور نصاب و نظام تشکیل دینے کا فیصلہ کیا جائے تو زیادہ بہتر طور پر معاشرتی و معاشی ترقی اور خوشحالی و اطمینان لانے کے وسیلے پیدا کیا جانا ممکن ہیں-
تاکہ نوجوان نسل کے اطمینان،آگاہی اور بھرپور حصہ داری و قابل عمل کاروباری ماحول پیدا کیا جائے ـ##@

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *