Banner
Daily Sahafat Quetta
August 31, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
طلباء کے جائز مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، حبیب الرحمن کاکڑعلماء کرام خانقاہوں اور حجروں سے نکل کر امن کا پیغام عام کریں، مولانا محمد طاہر توحیدیسرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہیں، ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی، ڈپٹی کمشنر لورالائیچوری، ڈکیتی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں فوری روکی جائیں، مولانا عبدالرحمن رفیقعوامی مسائل کا حل اور پسماندگی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، سردار زادہ فیصل خان جمالیغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، عوامی مشکلات برداشت سے باہر ہیں، حمل خان مریسکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی دہشت گردی کے خلاف ثبوت ہے، سرفراز بگٹیریاست پشتونوں کے آئینی حقوق تسلیم کرے، محمود خان اچکزئیپاکستان سے سعودی عرب زرعی اور غذائی برآمدات کے لیے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقررپاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگاطلباء کے جائز مسائل کا حل اور بنیادی سہولیات کی فراہمی ہماری بنیادی ذمہ داری ہے، حبیب الرحمن کاکڑعلماء کرام خانقاہوں اور حجروں سے نکل کر امن کا پیغام عام کریں، مولانا محمد طاہر توحیدیسرکاری زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کسی صورت قبول نہیں، ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی ہوگی، ڈپٹی کمشنر لورالائیچوری، ڈکیتی اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتیں فوری روکی جائیں، مولانا عبدالرحمن رفیقعوامی مسائل کا حل اور پسماندگی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے، سردار زادہ فیصل خان جمالیغیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ فوری ختم کی جائے، عوامی مشکلات برداشت سے باہر ہیں، حمل خان مریسکیورٹی فورسز کی مؤثر حکمت عملی دہشت گردی کے خلاف ثبوت ہے، سرفراز بگٹیریاست پشتونوں کے آئینی حقوق تسلیم کرے، محمود خان اچکزئیپاکستان سے سعودی عرب زرعی اور غذائی برآمدات کے لیے 3 ارب ڈالر کا ہدف مقررپاکستان، سعودی عرب، ترکیہ دفاعی معاہدے کے تحت پہلا اجلاس کل استنبول میں ہوگا

انگریز کی وفاداری سے پاکستان کے قیام تک، نواب محمد خان جوگیزئی اور تاریخ کی بدلتی حقیقت

احمدخان اچکزئی

انگریز کی وفاداری سے پاکستان کے قیام تک، نواب محمد خان جوگیزئی اور تاریخ کی بدلتی حقیقت

محترم قارئین، بلوچستان کی تاریخ میں قبائلی و سیاسی طاقت کے توازن کو سمجھنے کے لیے نواب محمد خان جوگیزئی کا دور انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ قلعہ سیف اللہ کے کاکڑ پشتونوں کی معروف شاخ جوگیزئی قبیلے سے تعلق رکھنے والے نواب محمد خان، سردار بہادر خان جوگیزئی کے فرزند اور موجودہ سیاست دان نواب ایاز خان جوگیزئی کے دادا تھے۔ ان کا دورِ اقتدار انگریز سرکار کی مراعات سے شروع ہو کر پاکستان کے اوائل تک محیط ہے۔ 1879 کی پہلی افغان جنگ کے بعد انگریزوں نے بلوچستان کے علاقے سندھ-پشین پر قبضہ جمایا تو سردار بہادر خان نے انگریزی فوج کو خطے سے گزرنے اور رسد کی فراہمی میں مکمل معاونت فراہم کی۔ اس وفاداری کا ثمر 1906 میں محمد خان کو والد کی جگہ کاکڑ قبیلے کا “سردار” اور “سردار بہادر” تسلیم کیے جانے کی صورت میں ملا۔ بعد ازاں، 1919 کی تیسری افغان جنگ میں انگریز سرکار کی عسکری مدد کرنے، افغان فوج کو اپنے علاقے سے گزرنے سے روکنے اور چمن بارڈر کی حفاظت کرنے کے صلے میں انگریزوں نے انہیں باقاعدہ “نواب” کے لقب اور ایک بڑی موروثی جاگیر سے نوازا۔ یوں یہ نوابی قبیلے کی موروثی روایت کے بجائے انگریز کی عسکری و سیاسی معاونت کا انعام تھی۔ 1933 میں برٹش بلوچستان کے “چیف آف کاکڑ” بننے کے بعد وہ شاہی جرگہ کے بااثر رکن کی حیثیت سے سامنے آئے۔
انگریز حکومت کی جانب سے اس نوابی کے ساتھ ساتھ بے تحاشا مالی و سیاسی مراعات بھی فراہم کی گئیں، جو اس دور میں اقتدار اور طاقت کا اصل مظہر تھیں۔ 1930 سے 1947 کے دوران نواب محمد خان جوگیزئی کو 18,000 روپے سالانہ کا سرکاری وظیفہ (پینشن) ملتا تھا، جو اس دور کے حساب سے سونے کی قدر کی بنیاد پر ایک خطیر رقم بنتی تھی۔ اس کے ساتھ قلعہ سیف اللہ اور ژوب کے علاقوں میں 1,20,000 ایکڑ کی وسیع و عریض جاگیر ان کے تصرف میں دی گئی، جہاں سے مالیہ وصول کرنے کا اختیار انہی کے پاس تھا۔ نواب کی حفاظت اور علاقے میں کنٹرول قائم رکھنے کے لیے 200 بندوق برداروں پر مشتمل “لیویز فورس” دی گئی، جس کی تنخواہ سرکاری خزانے سے ادا ہوتی تھی لیکن کمانڈ نواب کے پاس تھی۔ انہیں وائسرائے ہند تک براہِ راست رسائی حاصل تھی اور وہ شاہی جرگہ میں سیاسی فیصلے کرنے کی مکمل طاقت رکھتے تھے۔ اس دور میں ان کا کردار انگریز کے حق میں نمایاں رہا؛ چاہے وہ 1919 کی افغان جنگ ہو یا 1930 میں قصہ خوانی بازار کے خدائی خدمتگاروں کی تحریک کے خلاف سرکار کی مدد۔ انگریز کی مخالفت میں ان کا کوئی تاریخی ریکارڈ نہیں ملتا اور ان کا خاندان برطانیہ کے “وفادار نواب” کی فہرست میں ممتاز سمجھا جاتا تھا۔
جون 1947 میں جب برٹش بلوچستان کا شاہی جرگہ ہندوستان یا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کرنے کے لیے بٹھایا گیا، تو 54 ممبران کے اس جرگے میں نواب محمد خان جوگیزئی نے پاکستان کے حق میں ووٹ دیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ “ہم مسلمان ہیں، ہمارا فیصلہ پاکستان ہے”۔ تاہم، اس فیصلے کے ساتھ انہوں نے وائسرائے ماؤنٹ بیٹن سے یہ شرط بھی رکھی کہ ان کی نوابی، جاگیر اور لیویز کا نظام برقرار رکھا جائے گا، جس پر قائد اعظم محمد علی جناح نے زبانی یقین دہانی کرائی۔ یوں بلوچستان کی پاکستان میں شمولیت بلا مقابلہ ممکن ہوئی اور انہیں بانی پاکستان نوابوں میں شمار کیا گیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1947 سے 1950 تک ان کی نوابی اور 1.2 لاکھ ایکڑ جاگیر برقرار رہی، جبکہ لیویز پاکستانی حکومت کے ماتحت چلی گئی۔ تاہم، 1948 میں پاکستانی حکومت نے 18,000 روپے سالانہ وظیفہ یہ کہہ کر ختم کر دیا کہ اب جاگیر سے آمدنی حاصل کی جائے۔ نواب محمد خان برٹش بلوچستان کی ایڈوائزری کونسل کے رکن اور گورنر کے مشیر بنے رہے اور بغیر الیکشن لڑے علاقے میں اپنا سیاسی اثر قائم رکھا۔
اسی دور میں نوابی نظام اور عوام دوست سیاست کے درمیان ایک واضح نظریاتی تصادم دیکھنے کو ملا۔ ایک طرف نواب محمد خان جوگیزئی تھے جو نوابی و سرداری نظام کے حامی، شاہی جرگہ کے رکن اور وسیع جاگیروں کے مالک تھے، تو دوسری طرف پشتونخوا کے عبدالصمد خان قزلباش تھے جو “نوابی ختم کرو، عوامی راج لاؤ” کا نعرہ لگاتے تھے۔عبدالصمدخان شاہی جرگہ کو انگریز کے پٹھو اور اتنی بڑی جاگیروں کو غیر منصفانہ قرار دیتے تھے۔ مورخین اور تاریخ کی کتب، بالخصوص “یوسف عزیز مگسی…” (صفحہ 78) کے مطابق جوگیزئی نواب نے 1948 میں عبدالصمدخان کی گرفتاری پر خوشی کا اظہار بھی کیا تھا۔ 1950 میں نواب محمد خان جوگیزئی کا انتقال ہوا اور دستار ان کے بیٹے نوابزادہ محمد اکبر خان جوگیزئی کو باندھی گئی۔ بعد ازاں 1955 میں ون یونٹ کے قیام، اور 1958 میں ایوب خان کے دور میں نوابی و سرداری کے سرکاری القابات کی منسوخی کے ساتھ ہی اس طرزِ حکمرانی کا باقاعدہ سرکاری خاتمہ ہو گیا۔تاریخ کی اس ڈرامائی تبدیلی کا سب سے دلچسپ پہلو تین نسلوں کا فکری فرق ہے۔ جہاں دادا نواب محمد خان جوگیزئی انگریز سرکار کے دیے گئے “نواب” کے لقب، وسیع جاگیر اور نوابی نظام کے محافظ رہے اور عبدالصمدخان کے سیاسی مخالف تھے، وہیں ان کے پوتے نوابزادہ ایاز خان جوگیزئی نے 1970 کی دہائی میں نیشنل عوامی پارٹی (NAP) کے پلیٹ فارم سے عوامی سیاست کا آغاز کیا۔ انہوں نے 1973 میں بھٹو حکومت کی مخالفت کی اور اپنے دادا کی روایتی نوابی کے برخلاف عبدالصمد خان کے سیاسی فلسفے اور عوامی جمہوری جدوجہد کا راستہ اپنایا۔ نواب ایاز خان خود اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ “دادا کا دور اور تھا؛ انگریز کے وقت قبیلے کی بقا کے لیے ان کے ساتھ چلنا پڑتا تھا، لیکن پاکستان بننے کے بعد ہم نے نوابی کے بجائے عوامی خدمت کو اپنا شعار بنایا”۔ یوں تاریخ نواب محمد خان جوگیزئی کو ایک ایسے برطانوی وفادار نواب کے طور پر یاد رکھتی ہے جو قیامِ پاکستان کے وقت ریاست کے حامی بنے، جبکہ ان کی آنے والی نسل نے نوابی کلچر کو خیرباد کہہ کر خود کو عوامی سیاست سے جوڑ لیا۔

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *