Banner
Daily Sahafat Quetta
September 1, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
سندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیTNDER NOTICE /dprq/prq No.1118/31-8-2026NOTICE INVITING TENDER Dprq/prq no.1106/31-08-2026باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، چاکر صدیق بلوچریاست مخالف عناصر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، سرفراز بگٹیاوگرا کا ستمبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاریبلوچستان میں باغات کاٹنا اور نقل مکانی کی باتیں ریاستی ناکامی ہیں، مولانا محمود الحسن قاسمیضلع اوستہ محمد کی طالبات کے لیے حکومت بلوچستان کا شاندار اقدام، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھاگیہ خان بلیدی کے لیے سکول بس منظورسندھ طاس معاہدہ برقرار، عالمی ثالثی عدالت کا فیصلہ پاکستان کے مؤقف کی کامیابی ہے،وزیراعلیٰ بلوچستانزیارت کراس پر مسلح افراد کا حملہ، فائرنگ کے بعد کسٹم ویئر ہاؤس میں آتشزدگی، 5 اہلکار جاں بحقکشمیر کی پکار اور ہماری خاموشیTNDER NOTICE /dprq/prq No.1118/31-8-2026NOTICE INVITING TENDER Dprq/prq no.1106/31-08-2026باشعور اور تعلیم یافتہ نوجوان بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، چاکر صدیق بلوچریاست مخالف عناصر سے کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے، سرفراز بگٹیاوگرا کا ستمبر 2026 کے لیے ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاریبلوچستان میں باغات کاٹنا اور نقل مکانی کی باتیں ریاستی ناکامی ہیں، مولانا محمود الحسن قاسمیضلع اوستہ محمد کی طالبات کے لیے حکومت بلوچستان کا شاندار اقدام، گورنمنٹ گرلز ہائی سکول بھاگیہ خان بلیدی کے لیے سکول بس منظور

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک 2026 کی افتتاحی تقریب، ماں اور بچے کی غذائیت کے فروغ کے عزم کا اعادہ

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت (WHO)، عالمی خوراک پروگرام (WFP) اور وزارتِ قومی صحت کے تعاون سے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز، اسلام آباد میں ماں کا دودھ پلانے کے عالمی ہفتہ کی افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں اعلیٰ سرکاری حکام، ترقیاتی شراکت دار اداروں کے نمائندوں، طبی ماہرین اور غذائیت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ماہرین نے شرکت کی اور ماں کا دودھ پلانے کے فروغ، تحفظ اور حوصلہ افزائی کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ ماں اور بچے کی صحت کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ ماں کا دودھ بچے کی زندگی کا بہترین آغاز ہے اور یہ ہر نومولود کا بنیادی حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماں کا دودھ پلانا بچوں کی بقا، خاندان کی خوشحالی، انسانی وسائل کی ترقی اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے۔ انہوں نے ماؤں پر زور دیا کہ وہ پیدائش کے بعد پہلے چھ ماہ تک بچوں کو صرف ماں کا دودھ پلائیں اور بلا ضرورت فارمولا دودھ اور فیڈر کے استعمال سے گریز کریں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو نے ہمیشہ خواتین اور بچوں کی صحت و بہبود کو خصوصی اہمیت دی۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام اسی وژن کا تسلسل ہے، جس کے ذریعے حاملہ خواتین، دودھ پلانے والی ماؤں اور کم عمر بچوں کو بہتر غذائیت، صحت سے متعلق آگاہی اور ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی نے حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین تک ان کی زندگی کے نہایت اہم مرحلے پر پہنچنے کے لیے ایک مؤثر نظام قائم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف مالی معاونت کافی نہیں ہوتی بلکہ ماؤں کو درست معلومات، مؤثر رہنمائی، مشاورت اور معیاری صحت و غذائیت کی سہولیات بھی فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ صحت مند مائیں اور صحت مند نسل پروان چڑھ سکے۔
اس موقع پر یونیسیف کی کنٹری نمائندہ پرنیل آئرن سائیڈ نے بینظیر نشوونما پروگرام کے ذریعے بی آئی ایس پی کی نمایاں خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماں کا دودھ پلانے کا عمل بچے کی پیدائش کے پہلے گھنٹے میں شروع ہونا چاہیے کیونکہ ماں کا پہلا دودھ بچے کی پہلی حفاظتی ویکسین ہے۔
ڈبلیو ایچ او پاکستان کی ڈپٹی کنٹری نمائندہ ایلن تھام نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام اس بات کی بہترین مثال ہے کہ کس طرح سماجی تحفظ کو صحت اور غذائیت کے اقدامات کے ساتھ مؤثر انداز میں مربوط کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے ماں اور بچے کی صحت کے فروغ کے لیے پاکستان کے ساتھ ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ورلڈ فوڈ پروگرام (WFP) پاکستان کے ڈپٹی کنٹری ڈائریکٹر تھامس کونن نے کہا کہ ماں کا دودھ پلانا ماں اور بچے کی بہتر صحت اور غذائیت کے لیے سب سے آسان، مؤثر اور کم خرچ سرمایہ کاری ہے، جو خواتین کو بااختیار بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بی آئی ایس پی اور ڈبلیو ایف پی کے درمیان شراکت داری کو سراہتے ہوئے کمیونٹی کی سطح پر ماں کا دودھ پلانے سے متعلق یکساں اور مؤثر پیغامات عام کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
اس سے قبل یونیسیف کی ڈاکٹر صبا شجاع نے ماں کا دودھ پلانے کے عالمی موضوع اور قومی آگاہی مہم پر تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے بچوں کی بہتر نشوونما، بقا اور طویل مدتی صحت کے لیے ماں کا دودھ پلانے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
تقریب کے دوران “سماجی تحفظ کے اقدامات کے ذریعے ماں کا دودھ پلانے کے فروغ اور تحفظ” کے موضوع پر ایک پینل مباحثہ بھی منعقد ہوا، جس میں بی آئی ایس پی، یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت، ورلڈ فوڈ پروگرام، وزارتِ قومی صحت اور پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے ماہرین نے ماں کا دودھ پلانے کے فروغ کے لیے صحت، غذائیت اور سماجی تحفظ کے مربوط اقدامات پر تبادلۂ خیال کیا۔
پینل مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر جنرل کنڈیشنل کیش ٹرانسفر (CCT) ڈاکٹر عاصم اعجاز نے شرکاء کو بینظیر نشوونما پروگرام اور ملک میں غذائیت کے نظام کو بہتر بنانے میں اس کے کردار سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ بی آئی ایس پی ملک بھر میں قائم 578 سہولت مراکز کے ذریعے 14 لاکھ مستحق خواتین تک رسائی حاصل کر رہا ہے، جہاں انہیں غذائیت سے متعلق مشاورت اور قبل از پیدائش (ANC) اور بعد از پیدائش (PNC) سمیت صحت کی مختلف سہولیات کے لیے رہنمائی کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بینظیر نشوونما پروگرام ملک بھر میں قائم 169 نیوٹریشن اسٹیبلائزیشن سینٹرز کے ذریعے بھی غذائیت اور ماں کا دودھ پلانے سے متعلق آگاہی فراہم کر رہا ہے۔ ڈاکٹر عاصم اعجاز نے کہا کہ بینظیر نشوونما پروگرام بچوں میں غذائی کمی کے باعث اسٹنٹنگ میں کمی لانے اور ماں کا دودھ پلانے سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر چکا ہے۔
تقریب کے اختتام پر ایڈیشنل سیکرٹری بی آئی ایس پی ڈاکٹر عصمت نواز نے یونیسیف، عالمی ادارۂ صحت، ورلڈ فوڈ پروگرام، وزارتِ قومی صحت اور دیگر شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بی آئی ایس پی اپنے ترقیاتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام جاری رکھے گا کہ ہر ماں اور ہر بچے کو بہتر صحت، مناسب غذائیت اور ضروری سہولیات میسر آ سکیں تاکہ ایک صحت مند اور خوشحال معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *