Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
دبستان بولان ، محفلِ مسالمہ روایت کا آئینہ دار ہےچودہ اگست: آزادی، اتحاد اور تعمیرِ وطن کا عہد“شناختِ کشمیر”مکہ معاہدہ امن، سلامتی اور مشترکہ دفاعی تعاون کا اہم سنگِ میل ہے، سرفراز بگٹیجھل مگسی: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، مسجد کا پیش امام قتلگنداواہ: بی ایس ڈی آئی کے تحت پی ایچ ای کے ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ شفاف انداز میں مکملاکیسویں صدی میں خواتین اور بچیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا قرآنی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالمتین اخونزادہحب: جماعت اسلامی کا مہنگائی اور اضافی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج، قومی شاہراہ بند، ٹریفک معطلبلوچستان میں دہشتگری کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں، اراکین بلوچستان اسمبلیسانحہ 8 اگست جیسے المناک واقعات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،زمرک اچکزئیدبستان بولان ، محفلِ مسالمہ روایت کا آئینہ دار ہےچودہ اگست: آزادی، اتحاد اور تعمیرِ وطن کا عہد“شناختِ کشمیر”مکہ معاہدہ امن، سلامتی اور مشترکہ دفاعی تعاون کا اہم سنگِ میل ہے، سرفراز بگٹیجھل مگسی: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، مسجد کا پیش امام قتلگنداواہ: بی ایس ڈی آئی کے تحت پی ایچ ای کے ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ شفاف انداز میں مکملاکیسویں صدی میں خواتین اور بچیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا قرآنی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالمتین اخونزادہحب: جماعت اسلامی کا مہنگائی اور اضافی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج، قومی شاہراہ بند، ٹریفک معطلبلوچستان میں دہشتگری کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں، اراکین بلوچستان اسمبلیسانحہ 8 اگست جیسے المناک واقعات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،زمرک اچکزئی

“شناختِ کشمیر”

شاعرہ: پروفیسر اسماء حسن
=============
​دہلی کے ایوانوں میں
محض ایک دستخط سے
پانچ اگست کی تاریخ کے سیاہ فریم میں
کاغذ پر چاہے جتنے قانون بدل دو،
اس آبادیاتی تبدیلی پر زمین کی نبض نہیں بدلا کرتی۔
​سرینگر کے پرانے بازار ہوں،
اننت ناگ کی گلیاں،
یا بارہمولہ اور پامپور کے دامن،
جہاں چنار کے سائے زیب دیتے ہیں،
کوہِ ماران اور ہرموخ کے بلند و بالا پہاڑ،
اور ڈل جھیل کے شفاف پانیوں میں
گُونجتی ہے صدیوں کی پیاس!
​جہلم کی لہروں میں
محمود گامی اور رسول میر کی شاعری رچی ہے،
دینا ناتھ ندیم اور رحمان راہی کی آوازیں
آج بھی یہاں کے چنار کے پتوں میں
مزاحمت کا گیت گاتی ہیں،
جہاں آغا شاہد علی کے لفظوں کا لہو
ہر موسمِ بہار میں مہکتا ہے۔
​جس دھرتی کی رگوں میں
چنار کے جلتے ہوئے پتوں کا لہو دوڑتا ہو،
اور سرخ سیبوں کی طرح
نسلوں کے زخم سجے ہوں،
اس وادی کی شناخت کو
کب کوئی جبری فرمان مٹا سکا ہے؟

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *