Banner
Daily Sahafat Quetta
August 7, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
جھل مگسی: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، مسجد کا پیش امام قتلگنداواہ: بی ایس ڈی آئی کے تحت پی ایچ ای کے ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ شفاف انداز میں مکملاکیسویں صدی میں خواتین اور بچیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا قرآنی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالمتین اخونزادہحب: جماعت اسلامی کا مہنگائی اور اضافی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج، قومی شاہراہ بند، ٹریفک معطلبلوچستان میں دہشتگری کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں، اراکین بلوچستان اسمبلیسانحہ 8 اگست جیسے المناک واقعات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،زمرک اچکزئیاسماءجتک کیس قابل تشویش معاملہ ہے ،نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،ربابہ بلیدیوڈھ: وڈھ بازار کے قریب ٹریفک حادثہ، 4 افراد جاں بحق، 3 شدید زخمیجسٹس مسرت ہلالی ریٹائر، سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس منعقدوزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عمرہ ادا کیا، پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیںجھل مگسی: نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، مسجد کا پیش امام قتلگنداواہ: بی ایس ڈی آئی کے تحت پی ایچ ای کے ترقیاتی منصوبوں کی ٹینڈرنگ شفاف انداز میں مکملاکیسویں صدی میں خواتین اور بچیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا قرآنی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالمتین اخونزادہحب: جماعت اسلامی کا مہنگائی اور اضافی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج، قومی شاہراہ بند، ٹریفک معطلبلوچستان میں دہشتگری کی ذمہ دار وفاقی اور صوبائی حکومتیں ہیں، اراکین بلوچستان اسمبلیسانحہ 8 اگست جیسے المناک واقعات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا ،زمرک اچکزئیاسماءجتک کیس قابل تشویش معاملہ ہے ،نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ،ربابہ بلیدیوڈھ: وڈھ بازار کے قریب ٹریفک حادثہ، 4 افراد جاں بحق، 3 شدید زخمیجسٹس مسرت ہلالی ریٹائر، سپریم کورٹ میں فل کورٹ ریفرنس منعقدوزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عمرہ ادا کیا، پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کے لیے خصوصی دعائیں

اکیسویں صدی میں خواتین اور بچیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا قرآنی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالمتین اخونزادہ

اکیسویں صدی میں خواتین اور بچیوں کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا قرآنی تعلیمات اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، عبدالمتین اخونزادہ

کوئٹہ ( خصوصی اعلامیہ)قرآن اکیڈمی حکومت بلوچستان کے ڈائریکٹر و مجلس فکر و دانش علمی و فکری مکالمے کے سربراہ عبدالمتین اخونزادہ نے سال گزشتہ خضدار واقعے و آسماء بلوچ کی دردد ناک اغواء کے بعد ان کے بزرگ والد محترم کے المناک قتل پر گہرے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دراصل اس واقعے نے بلوچ سماج میں سماجی شعور اور آگاہی و احساس دردمندی کے معیار کو ہلا کر رکھ دیا ہے جمود زدہ ذہنیت بدلنے اور قبائلی و سماجی اقدار میں ٹیکنالوجی وڈولیپمنٹ کے نئے زاویے و امکانات تلاش کرنے کی ضرورت کے مطابق بامقصد و نتیجہ خیز روایات میں بدلنا وقت و حالات کا تقاضا ہے ورنہ نوجوانوں و خواتین سمیت تمام طبقات و افراد کی زندگیاں درندوں کی گرفت میں محصور ہی رہتے ہیں ـ جو صدیوں پہلے قائم کمزور و ناتواں قبائلی نظام کی نشاندھی کرتا ہے عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ خضدار واقعہ، دراصل عورت کی توہین آمیز
قبائلی سوچ و فکر کی عکاسی کرتا ہے ـ جس سے مسلسل و مربوط انداز می عورت جیسے مقدس ذات مبارکہ جو تخلیق انسانی کے شکل میں خالق حقیقی کے براہ راست نشانی ہے توہین و تذلیل ہورہا ہے
یہ ایک اسما بلوچ نہیں ہے بلکہ قبائلی و مذہبی جمود و تعطل کے باعث معاشرتی و سماجی شعور کی بیداری اور انسانی نفسیات و ذہانت کے ادراک و احساس دردمندی سب کچھ مفقود ہوچکے ہیں اس لئے کہ عورت کو انسان نہیں سمجھا جارہا ہے فرسودہ روایات کے مطابق بامقصد و نتیجہ خیز پالیسیاں و روایات وضع کرنے کے بجائے عام آدمی کی زندگی اجیرن کرنے کے لئے قبائلی نظام انصاف کے ضابطے و قاعدے کے نام پر
بچیوں و عورتوں کے زندگیوں میں ضرورت و افادیت سے انکاری ہیں جس کے لئے جدید شعوری ارتقاء کے ساتھ مل کر قوانین و ضوابط تشکیل دینے کی ضرورت ہیں
عبدالمتین اخونزادہ نے کہا کہ یہ تلخ حقیقت ہے کہ بلوچ سماج میں باقی ماندہ پاکستانی سماج سے زیادہ زہلیرے قوانین و ضوابط موجود ہیں ـ
اس لئے ضروری ہے کہ بلوچ سماج میں عورت کے کردار و اقدامات اٹھانے کا
راستہ ہموار کیا جائے اور اس کی عزت و احترام کے ساتھ ساتھ اسے جینے کا حق دیا جائے اور اس کے فیصلے میں اختیار و اعتبار دیا جائے ـ
قرآن اکیڈمی و
مجلس فکر و دانش کے تجزیے و تبصرے میں کہا گیا ہے کہ یہ انتہائی خوش آئند امر تھا کہ
خضدار واقعے نے پیچلے سالوں میں قبائلی تصادم کے بجائے جمہوری و مزاحمتی احتجاج کا راستہ اختیار کیا تھا لیکن اب تشویشناک صورتحال یہ ہے کہ قبائلی سماج کے ساتھ عدلیہ و انتظامیہ بروقت اپنا کردار ادا نہیں کرسکے اس لئے ہم بحیثیت مجموعی پورا معاشرہ و قانون مظلوم خاندان کے ساتھ جبر و اکراہ میں اضافے کے سبب ختم نہیں کرسکے اور آج ایک بزرگ والد و محترم استاد کا قتل ناحق ہوا اور جبر و استہزاء کا سلسلہ روکنے کا کام ختم نہیں ہوا ہے

قرآن اکیڈمی و
مجلس فکر و دانش علمی و فکری مکالمے کے اعلامیے میں کہا گیا کہ
حکومتی اداروں و محکموں کی ذمہ داری ہیں کہ نئے زاویے وامکانات تلاش کرنے کے لئے ضروری کردار ادا کریں اور خواتین و بچیوں کی حفاظت زندگی کے لئے ضروری قوانین و ضوابط تشکیل و تعبیر نو کے لئے قرآنی اور سیرت مطہرہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں قبائلی نظام انصاف و عوامی برابری کے حقوق کا جائزہ لیا جائے جبکہ
مجلس فکر و دانش
بطور ایک آزاد
تھینک ٹینک
وویمن ایمپاورمنٹ کونسل (ڈبلیو ای سی) مسلسل و مربوط انداز میں خواتین اور بچیوں کی ارمانوں کی تشکیل و تعبیر نو کے لئے ضروری کردار و اقدامات اٹھانے کی خصوصی کاوش میں مصروف عمل ہے ـ##

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *