Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

نورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکست

نورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکست
ایس ایم مرموی

اگر پاکستان کی گزشتہ کئی دہائیوں کی سیاست کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ اقتدار کا محور زیادہ تر چند سیاسی خاندان اور محدود طاقت کے مراکز ہی رہے ہیں حکومتیں بدلتی رہیں چہرے تبدیل ہوتے رہے منشور اور نعرے بھی نئے آتے رہے مگر عام آدمی کی تقدیر بدلنے کے دعوے اکثر دعوے ہی ثابت ہوئے آج بھی کروڑوں پاکستانی مہنگائی بے روزگاری کمزور معیشت ناقص تعلیمی نظام صحت کی ناکافی سہولتوں اور بنیادی ضروریات کے بحران سے نبرد آزما ہیں اقتدار کی سیاست میں ایک دوسرے کے سخت ترین مخالف دکھائی دینے والے سیاسی دھڑے اکثر ایسے طرزِ عمل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں جسے عوام نورا کشتی سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ حقیقت بھی اندر سب ایک ہیں باہر ٹوپی ڈرامہ رچائے اقتدار کے مزے لے رہے ہیں انتخابی جلسوں میں ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگائے جاتے ہیں کرپشن کے مقدمات کا شور مچایا جاتا ہے اور عوام سے احتساب کے وعدے کیے جاتے ہیں لیکن سیاسی حالات بدلتے ہی مفاہمت خاموش سمجھوتے اور باہمی مصلحتیں بھی سامنے آ جاتی ہیں اسی تاثر نے عوام کے اعتماد کو سب سے زیادہ مجروح کیا ہے آج مل بانٹ کر کھانے والے کہہ رہے ہیں سسٹم کولیپ کرچکا ہے اب ان سے پوچھے کوئ کس نے کیا ہے کس کی وجہ سے ہوا ہے حکومت میں آپ ہیں کوئ تیسرا بندہ تو نہیں ہے ملک کا بیڑا غرق کر کے کہہ رہے ہیں ملک تباہی کے دہانے پہنچا ہے بات کرتے ہوئے یہ احمق سوچتے بھی نہیں ہیں
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں مسلسل تیسری مرتبہ حکومت کرنے والی جماعت سے بھی عوام کی توقعات غیر معمولی تھیں ایک دہائی سے زیادہ عرصہ کسی بھی حکومت کے لیے اتنا وقت ہوتا ہے کہ وہ اپنی ترجیحات کو عملی نتائج میں بدل سکے تعلیم صحت، روزگار امن و امان، بلدیاتی نظام، صنعت سرمایہ کاری اور بنیادی ڈھانچے میں ایسی تبدیلیاں آنی چاہئیں جنہیں عام شہری اپنی روزمرہ زندگی میں محسوس کر سکے اگرچہ بعض شعبوں میں پیش رفت کے دعوے کیے جاتے ہیں مگر ناقدین کے مطابق بے روزگاری، معاشی دباؤ، کمزور بلدیاتی نظام اور دیگر بنیادی مسائل اب بھی عوام کے لیے ایک حقیقت ہیں جمہوریت میں کوئی بھی جماعت رہنما یا خاندان تنقید سے بالاتر نہیں ہوتا احتساب اگر صرف مخالفین کے لیے ہو اور اپنی صفوں تک نہ پہنچے تو وہ انصاف نہیں سیاسی حکمتِ عملی بن جاتا ہے عوام کو اب نعروں سے زیادہ نتائج درکار ہیں کیونکہ خالی دعوے نہ روزگار پیدا کرتے ہیں نہ مہنگائی کم کرتے ہیں اور نہ ہی ریاستی اداروں پر اعتماد بحال کرتے ہیں
پاکستان کو اس وقت الزام تراشی انتقامی سیاست اور دائمی انتخابی مہم سے زیادہ قومی ترجیحات پر اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے معیشت، تعلیم، صحت، انصاف توانائی اور روزگار جیسے مسائل کسی ایک جماعت کے نہیں بلکہ پوری قوم کے مسائل ہیں جب تک سیاست کا مرکز عوام کی فلاح کے بجائے اقتدار کا حصول رہے گا تب تک حکومتیں بدلیں گی مگر حالات نہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ سیاست کو وراثت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا جائے اقتدار کو حق نہیں بلکہ امانت مانا جائے اور عوام کو محض ووٹر نہیں بلکہ ریاست کا اصل مالک تسلیم کیا جائے جس دن سیاسی جماعتیں اس اصول کو اپنا لیں گی شاید اسی دن پاکستان بھی مسلسل سیاسی کشمکش سے نکل کر ترقی استحکام اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکے گا اقتدار ہمیشہ عارضی ہوتا ہے مگر عوام کا فیصلہ اور تاریخ کا فیصلہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔
پاکستان کی سیاست کا شاید سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ یہاں حکومتیں بدلتی رہتی ہیں بلکہ یہ ہے کہ چہرے بدلتے ہیں، مسائل نہیں اقتدار کی کرسی کبھی ایک خاندان کے حصے میں آتی ہے کبھی دوسرے کے لیکن عام آدمی کی قسمت میں مہنگائی بے روزگاری بدحال معیشت اور بے یقینی ہی لکھی رہتی ہے دہائیوں سے عوام کو یہی بتایا جاتا رہا کہ بس ایک بار ہمیں موقع دیں ملک بدل دیں گے مگر اقتدار میں آتے ہی عوام کے خواب پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور اقتدار کی سیاست مفادات اور الزام تراشی کا کھیل شروع ہو جاتا ہے حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگاتی ہیں لیکن وقت آنے پر یہی مخالفین ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے بھی نظر آتے ہیں اور مل بانٹ کر کھا بھی رہے ہوتے ہیں عوام کو کب تک ایسے بیوقوف بناتے رہیں گے اس طویل سیاسی کشمکش کا سب سے بڑا نقصان پاکستان کے عام شہری نے اٹھایا ہے آج لاکھوں نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں متوسط طبقہ مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہےجبکہ غریب کے لیے دو وقت کی روٹی بھی ایک امتحان بنتی جا رہی ہے بجلی، گیس، تعلیم، صحت اور انصاف جیسے بنیادی شعبے اب بھی عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکے
اگر دوسری طرف خیبر پختونخوا کا جائزہ لیا جائے تو وہاں بھی مسلسل تین ادوارِ حکومت کے بعد عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کارکردگی پر سوال کریں اگر کسی حکومت نے بار بار عوام سے مینڈیٹ لیا ہے تو اس سے توقعات بھی زیادہ ہوتی ہیں روزگار، تعلیم، صحت صنعت سرمایہ کاری، امن و امان اور بنیادی ڈھانچے میں جو تبدیلیاں نظر آنی چاہئیں ان پر تنقیدی جائزہ لینا جمہوری عمل کا حصہ ہےکسی بھی حکومت کو صرف نعروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ عملی نتائج کی بنیاد پر جانچا جانا چاہیے۔
جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ احتساب سب کا ہو نہ کوئی سیاسی جماعت تنقید سے بالاتر ہے اور نہ کوئی رہنما معصوم عوام نے ووٹ خدمت کے لیے دیا ہے مستقل سیاسی جنگ کے لیے نہیں اگر ہر حکومت اپنی مدت الزام تراشی میں گزار دے تو نقصان صرف ریاست اور عوام کا ہوتا ہے آج پاکستان کو نعروں سے زیادہ دیانت دار حکمرانی مضبوط اداروں، قانون کی بالادستی، تعلیم صنعت، روزگار اور انصاف کی ضرورت ہے۔ قومیں جذباتی تقریروں سے نہیں بلکہ اچھی حکمرانی پالیسیوں کے تسلسل اور عوامی خدمت سے ترقی کرتی ہیں اب فیصلہ عوام کے ہاتھ میں ہے اگر ووٹ شخصیت، خاندان یا جذبات کی بنیاد پر دیا جاتا رہا تو نتائج بھی ماضی جیسے ہی رہیں گے لیکن اگر معیار دیانت، صلاحیت کارکردگی اور جوابدہی بن گیا تو شاید پاکستان بھی اس دائرے سے نکل آئے جس میں وہ برسوں سے گھوم رہا ہے
قوموں کی تقدیر نعروں جذباتی تقریروں یا موروثی سیاست سے نہیں بدلتی بلکہ دیانت دار قیادت مضبوط اداروں قانون کی بالادستی اور عوامی خدمت سے بدلتی ہے اگر سیاست کا مقصد صرف اقتدار کا حصول اور اس کا تحفظ رہے گا تو عوام کی محرومیاں مزید گہری ہوتی جائیں گی اب فیصلہ پاکستانی عوام کے ہاتھ میں ہے کہ وہ شخصیت پرستی اور خاندانی سیاست کے دائرے سے نکل کر کارکردگی اہلیت اور جوابدہی کو ووٹ دیتے ہیں یا ایک بار پھر انہی چہروں کو آزما کر اپنی امیدوں کو شکست کے سپرد کر دیتے ہیں تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام اپنے ووٹ کی طاقت کو پہچان لیتے ہیں تو وراثتی اقتدار کے ایوان بھی لرز اٹھتے ہیں کیونکہ اقتدار کسی خاندان کی جاگیر نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *