Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

سوال ہوگا، جواب ہوگا

سوال ہوگا، جواب ہوگا
تحریر: ایڈوکیٹ ارباز خان
ریاست کی طاقت خاموشی میں نہیں، جواب دہی میں ہوتی ہے

کسی بھی قوم کی ترقی کا راز صرف مضبوط معیشت بلند عمارتوں یا جدید ٹیکنالوجی میں نہیں بلکہ اس بات میں پوشیدہ ہوتا ہے کہ وہاں عوام کو سوال کرنے کا حق حاصل ہو اور حکومت جواب دینے کی پابند ہو۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ اقتدار عوام سے حاصل کیا جاتا ہے، اس لیے اقتدار رکھنے والوں پر عوام کے سامنے جواب دہ ہونا بھی لازم ہے۔
ایک باشعور شہری جب حکومت سے سوال کرتا ہے تو وہ حکومت کا دشمن نہیں بنتا بلکہ اپنے ملک کا ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔ وہ پوچھتا ہے کہ مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟ نوجوان بے روزگار کیوں ہیں؟ سرکاری اسکولوں اور ہسپتالوں کی حالت کب بدلے گی؟ عوام کے ٹیکس کا پیسہ کہاں خرچ ہو رہا ہے؟ بجلی، گیس اور پانی کے مسائل کب حل ہوں گے؟ انتخابات میں کیے گئے وعدوں کا کیا بنا؟ یہ سوالات کسی سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ ہر پاکستانی کے ہیں۔ترقی یافتہ جمہوریتوں میں ان سوالات کو معمول سمجھا جاتا ہے۔ برطانیہ میں وزیرِاعظم ہر ہفتے پارلیمنٹ میں اراکین کے سوالات کا جواب دیتا ہے۔ سویڈن، ناروے اور فن لینڈ جیسے ممالک میں حکومتی ادارے عوام کو معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ وہاں حکمران جانتے ہیں کہ عوام کا اعتماد طاقت سے نہیں بلکہ شفافیت اور جواب دہی سے حاصل ہوتا ہے۔پاکستان میں بھی آئین شہریوں کو اظہارِ رائے کا حق دیتا ہے اور منتخب نمائندوں سے جواب دہی جمہوری نظام کا بنیادی تقاضا ہے۔ تاہم عملی طور پر اکثر یہ شکایت سامنے آتی ہے کہ عوام کے اہم سوالات کا بروقت اور تسلی بخش جواب نہیں ملتا جس سے ریاست اور شہریوں کے درمیان اعتماد متاثر ہوتا ہے۔ اس اعتماد کو بحال کرنے کا راستہ یہی ہے کہ اختلافِ رائے کو برداشت کیا جائے تنقید کو اصلاح کا ذریعہ سمجھا جائے اور ہر جائز سوال کا جواب دلیل اور شفافیت کے ساتھ دیا جائے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ سوال کرنے والے کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ تحقیق شائستگی اور قانون کے دائرے میں رہ کر بات کرے۔ جھوٹی خبروں بے بنیاد الزامات اور نفرت انگیز زبان سے نہ جمہوریت مضبوط ہوتی ہے اور نہ ہی ریاست۔ اسی طرح حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوامی سوالات سے گریز نہ کرے بلکہ انہیں اپنی کارکردگی بہتر بنانے کا موقع سمجھے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہی قومیں آگے بڑھیں جنہوں نے سوال کو زندہ رکھا اور جواب دہی کو اپنا اصول بنایا۔ جہاں سوال کرنے والا خوفزدہ ہو اور جواب دینے والا خود کو جواب دہ نہ سمجھے وہاں جمہوریت کمزور اور عوام مایوس ہو جاتے ہیں. ریاست کی اصل طاقت اس کے اختیار میں نہیں بلکہ اس اعتماد میں ہوتی ہے جو عوام اپنے اداروں پر کرتے ہیں۔ اور اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب سوال کا احترام ہو جواب بروقت ملے قانون سب پر یکساں لاگو ہو اور حکومت عوام کو اپنا مالک نہیں بلکہ اپنا اصل طاقت کا سرچشمہ سمجھے۔ ایک مضبوط پاکستان کا راستہ صرف ایک اصول سے ہو کر گزرتا ہے سوال ہوگا جواب ہوگا۔ جس دن یہ اصول ہماری سیاسی اور سماجی ثقافت کا حصہ بن گیا اسی دن جمہوریت مضبوط، ادارے مستحکم اور عوام بااختیار ہو جائیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *