Banner
Daily Sahafat Quetta
August 4, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستانوزیراعلیٰ سے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی ملاقات، میونسپل کمیٹیوں کے قیام پر اظہار تشکرجمعیت اور عوام کا تعلق ہی جماعت کی اصل طاقت ہے،مولانا عبدالرحمن رفیقسردار اور ریاستترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل گڈ گورننس کا ثمر ہے، میر سرفراز بگٹینورا کشتی اقتدار اور عوام کی شکستسوال ہوگا، جواب ہوگاعالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشیبلوچستان ٹیکسٹ بک بورڈ میں بے ضابطگیوں کا انکشافپشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ کیسکو یونین کی قانونی جدوجہد کی کامیابی ہے، پیر محمد کاکڑکشمیری عوام کی قربانیوں کو پوری پاکستانی قوم سلام پیش کرتی ہے، وزیر اعلیٰ بلوچستان

عالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشی

تحریر ۔اے کے میڈیا ٹیم پاکستان

عالمی گریٹ گیم، امریکی استعمار اور امت مسلمہ کی خاموشی

قارئین محترم ۔ سب سے پہلے ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ان تمام شہداء کو تہہ دل سے خراج عقیدت اور تعزیت پیش کرتے ہیں جنہوں نے سامراجی و استعماری طاقتوں کے سامنے جھکنے کے بجائے شجاعت اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ اس تاریخی تناظر میں جب ہم موجودہ امت مسلمہ کے اجتماعی رویّوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ایک گہرا اور تکلیف دہ سکوت دکھائی دیتا ہے جہاں صاحبانِ اقتدار اور حکمران طبقے وقتی مفادات اور ڈالروں کی چمک میں گم ہو چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایران اکیلا اس غاصب طاقت کے مقابلے میں کیوں تنہا کھڑا ہے اور دنیا کے باقی مسلمان ممالک کس مصلحت کے تحت خاموشی تماشائی بنے ہوئے ہیں؟ اس تلخ حقیقت کا ادراک کرنے کے لیے لفظی دلائل کے بجائے زمینی حقائق کا دلی اور فکری مشاہدہ کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پوری دنیا اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل جب بھی کسی خطے پر یلغار کرتے ہیں تو وہ تنہا نہیں لڑتے بلکہ اپنے حواریوں کو ساتھ ملاتے ہیں، جبکہ دوسری طرف چین، پاکستان سمیت دیگر تمام ممالک خاموشی کی چادر اوڑھے محض ڈالروں کی لالچ اور مفادات کے اسیر بن چکے ہیں، جس کے سنگین اثرات پوری مسلم دنیا کو جھیلنا پڑ رہے ہیں۔امریکہ کا پرانا وطیرہ رہا ہے کہ وہ ایک ملک کو خصوصی طور پر ہدف بناتا ہے اور اس کے بعد خطے کے پندرہ ممالک پر اپنے تسلط کا جال پھیلا دیتا ہے، جس کی تازہ ترین مثالیں ایران جنگ اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اقتصادی و سیاسی بحران ہیں جو بالآخر پاکستان تک آ پہنچے ہیں۔ اس پوری سازش کی گہرائی کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ہمیں اس بنیادی سوال کا جواب دینا ہوگا کہ آخر یہ سب کچھ کیوں ہو رہا ہے؟ احمد خان اچکزئی نے اس محفل میں انتہائی واشگاف الفاظ میں یہ حقیقت واضح کی کہ اگر ہمارے پاس مظلوموں کے دفاع کے لیے عسکری یا سیاسی طاقت نہیں ہے تو کم از کم ہمیں بولنے کا حوصلہ بھی نہیں رہتا، جو کہ ہماری فکری شکست کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہمیں اپنے اردگرد کے جغرافیائی و سیاسی حالات کا بغور جائزہ لینا ہوگا کیونکہ امریکہ کا اصل مقصد صرف ایران پر عارضی غلبہ حاصل کرنا نہیں ہے، بلکہ یہ اس گریٹ گیم کا ایک طویل اور تسلسل وار حصہ ہے جسے گرین امریکن سیٹلمنٹ کا نام دیا گیا ہے۔ اس خطرناک سیٹلمنٹ کا بنیادی ہدف یہ ہے کہ مقدس مقامات مکہ اور مدینہ سے ایک مصنوعی یا مسخ شدہ اعلانِ جہاد کروایا جائے اور اس کے بعد اس فتنے کی بنیاد پر چین کے خلاف باقاعدہ جنگ کا آغاز کیا جائے۔ اسی مذموم اور بھیانک مقصد کے لیے آج مدارس کی فنڈنگ، فکری تخریب کاری اور جنگی تیاریوں کا جال آج ہی سے بچھا دیا جا رہا ہے تاکہ ماضی کی طرح تین سے چار سالوں تک دنیا پر حکمرانی کا یاد مستقبل میں بھی برقرار رکھ سکے۔ آج ہمارے لیے سب سے بڑا اور بنیادی مسئلہ ہماری اپنی بقاء کا ہے کہ ہم کس طرح اس استعماری طوفان سے اپنی تہذیب و تمدن کا تحفظ کر سکتے ہیں اور اپنے ناخواندہ یا مصلحت کا شکار حکمرانوں کو اس تاریخی خطرے سے کیسے آگاہ کر سکتے ہیں۔ بدقسمتی کا عالم یہ ہے کہ موجودہ دور میں سچ بولنے والا انسان اس دنیا میں سب سے زیادہ قابلِ نفرت اور ہدفِ تنقید سمجھا جاتا ہے۔اس تلخ حقیقت کو واضح کرتے ہوئے احمد خان اچکزئی نے ایک انتہائی چشم کشا واقعہ بیان کیا کہ ایک مرتبہ افغانستان کے تناظر میں عرب شیوخ کے ساتھ ایک خصوصی اور اعلیٰ سطحی نشست منعقد ہوئی، جہاں ترجمان ان کے ہر لفظ کو بوجھل دل سے شیوخ تک پہنچا رہا تھا۔ جب میں نے دوٹوک انداز میں یہ حقیقت بیان کی کہ ‘امریکہ ہرگز آپ کے دوست نہیں ہے’ تو وہ ترجمان خوف اور گھبراہٹ سے کانپ اٹھا۔ اسی طرح دبئی کے قریب ایک پرتعیش جزیرے پر مہمان کی حیثیت سے قیام کے دوران، رات بھر تیز شور اور موسیقی کی وجہ سے جب سونا محال ہو گیا تو ٹھیک ایک سال بعد جب دوبارہ اس جزیرے پر جانا ہوا تو وہاں مکمل اور سناٹے جیسی خاموشی تھی۔ دریافت کرنے پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ وہاں اب امریکی قابض ہو چکے ہیں، اور اسی امریکی دباؤ کے نتیجے میں اس جزیرے کے مالک، جو کہ ملک کے وزیر دفاع بھی تھے، کو فوری طور پر موسیقی بند کرنے اور سر جھکانے کا حکم جاری کرنا پڑا۔ یہ واقعات اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہیں کہ گریٹ گیم کے یہ تسلسل اور امریکہ کی خطرناک پالیسیاں اب اس نہج پر پہنچ چکی ہیں کہ ہم اپنی مادری زبان میں قومی سطح پر نہ تو آزادانہ بول سکتے ہیں اور نہ ہی تحریر و تحقیق کا حق ادا کر سکتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اسی گریٹ گیم کی ناپاک زنجیروں اور استعماری پالیسیوں کے تسلسل میں ان تمام مخلص لوگوں کو جو حق و سچ کی بلند آواز بنتے ہیں اور اقوام کو اس تاریک سازش سے خبردار کرتے ہیں، منظم طریقے سے قابلِ نفرت اور مشکوک بنا دیا جاتا ہے۔ میری پندرہ سال سے زائد عرصے کی محنت سے تیار کردہ تصنیف ‘واشنگٹن سے بیجنگ تک: دی گریٹ گیم کا خاتمہ’ اسی ظلم اور سازش کی داستان ہے، جو گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے اس لیے شائع نہیں ہو سکی کیونکہ یہ اربابِ اختیار اور حکمرانوں کے نازک مزاج پر سخت گراں گزرتی ہے اور وہ اس سچ کو برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ میں اس عزم کا اعادہ کرتا ہوں کہ میں بشمول میری ٹیم اس فکری جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور ہر فورم پر اس عالمی سازش کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *