Banner
Daily Sahafat Quetta
September 16, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
وکالت کا شعبہ ،انصاف یا ناانصافی؟آپﷺ بحیثیت عالمی مدبر و سفارت کارTENDER NOTICE: DAB/AB NO.339/15-9-2026TENDER NOTICE: DAB/AB NO.332/15-9-2026بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارجھل مگسی میں ریسٹ ہاؤس اور تھانے پر مسلح افراد کا حملہسیاست کی اصل عظمت اقتدار نہیں عوام کا اعتماد اور خدمت ہے، گورنر جعفر خان مندوخیلعوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، شعیب نوشیروانیوکالت کا شعبہ ،انصاف یا ناانصافی؟آپﷺ بحیثیت عالمی مدبر و سفارت کارTENDER NOTICE: DAB/AB NO.339/15-9-2026TENDER NOTICE: DAB/AB NO.332/15-9-2026بہترین صحافی بینش بخش بلوچ میرا آئیڈیلکوئٹہ: محکمہ مواصلات و تعمیرات نے 5 ہزار غیر ضروری اسامیاں ختم کردیںمحکمہ جنگلات بلوچستان میں نوکریوں کی فروخت اور بھرتیوں کی منسوخی کی خبر جعلی قرارجھل مگسی میں ریسٹ ہاؤس اور تھانے پر مسلح افراد کا حملہسیاست کی اصل عظمت اقتدار نہیں عوام کا اعتماد اور خدمت ہے، گورنر جعفر خان مندوخیلعوام نے اعتماد کرکے اسمبلی بھیجا انکی توقعات کو ٹھیس نہیں پہنچائیں گے، شعیب نوشیروانی

غزہ میں انسانی بحران اور دنیا کی ذمہ داری

غزہ میں انسانی بحران اور دنیا کی ذمہ داری

تحریر: یاسر دانیال صابری

گزشتہ اڑتالیس سے بہتر (72) گھنٹوں کے دوران غزہ سے آنے والی اطلاعات ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کی یاد دلاتی ہیں کہ جنگ کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام انسان اٹھاتا ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق تازہ اسرائیلی حملوں میں متعدد فلسطینی جان سے گئے، درجنوں زخمی ہوئے اور کئی افراد اب بھی تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ امدادی کارکن محدود وسائل، ایندھن کی کمی اور مسلسل خطرات کے باوجود ریسکیو کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل کا مؤقف ہے کہ اس کی کارروائیاں مسلح اہداف کے خلاف ہیں اور وہ حماس کے عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے، جبکہ حماس پر شہری علاقوں کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا الزام بھی عائد کرتا ہے۔ اس تمام صورتحال میں ایک حقیقت سب سے نمایاں ہے کہ جنگ کی قیمت عام شہری ادا کر رہے ہیں۔

غزہ کا بحران محض ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ جب ہسپتالوں میں ادویات ختم ہونے لگیں، آپریشن تھیٹر بجلی کے بغیر رہ جائیں، ایمبولینسیں ایندھن نہ ہونے کے باعث رک جائیں اور بچے خوراک و صاف پانی سے محروم ہو جائیں تو یہ صرف ایک جنگ نہیں رہتی بلکہ ایک انسانی المیہ بن جاتی ہے۔ کسی بھی مہذب دنیا کے لیے یہ منظر باعثِ تشویش ہونا چاہیے، کیونکہ بین الاقوامی انسانی قانون جنگ کے دوران بھی شہریوں کے تحفظ کو بنیادی اصول قرار دیتا ہے۔

بین الاقوامی قوانین، خصوصاً جنگ سے متعلق عالمی اصول، واضح کرتے ہیں کہ شہری آبادی، ہسپتالوں، طبی عملے اور امدادی کارکنوں کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔ اگر کسی علاقے میں فوجی کارروائی کی جاتی ہے تو اس دوران عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچانے کی ذمہ داری بھی فریقین پر عائد ہوتی ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جن کی بنیاد پر عالمی نظام اپنی اخلاقی ساکھ قائم رکھتا ہے۔ اگر ان اصولوں پر عمل نہ ہو تو پھر دنیا میں انصاف اور قانون کی حیثیت سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

اسرائیل اپنی کارروائیوں کو سکیورٹی اور دفاع کے تناظر میں دیکھتا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ دوسری طرف فلسطینی آبادی کا کہنا ہے کہ مسلسل بمباری، محاصرہ اور بنیادی ضروریات کی قلت نے عام زندگی کو ناممکن بنا دیا ہے۔ ان دونوں مؤقفوں کے درمیان سب سے زیادہ متاثر وہ بے گناہ شہری ہیں جن کا نہ جنگ کے فیصلوں میں کوئی کردار ہے اور نہ ہی وہ اس تصادم کو روکنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی امدادی ادارے اور دنیا کے مختلف ممالک بارہا فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کا مطالبہ کر چکے ہیں۔ یہ مطالبات صرف سفارتی بیانات نہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی بقا سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر امدادی سامان متاثرہ علاقوں تک نہ پہنچ سکے، خوراک اور ادویات کی قلت برقرار رہے اور بے گھر افراد کو محفوظ پناہ نہ ملے تو انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جائے گا۔

تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں طاقت سے شروع تو ہو سکتی ہیں مگر ان کا پائیدار خاتمہ صرف مذاکرات اور انصاف پر مبنی سیاسی حل سے ممکن ہوتا ہے۔ دوسری عالمی جنگ سے لے کر دنیا کے مختلف تنازعات تک یہی حقیقت سامنے آئی کہ بالآخر فریقین کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔ اس لیے غزہ کا مسئلہ بھی صرف عسکری کارروائیوں سے حل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کے لیے ایسی سنجیدہ سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے جو دونوں فریقوں کے جائز تحفظات کو سامنے رکھتے ہوئے پائیدار امن کی راہ ہموار کریں۔

پاکستان سمیت اسلامی دنیا اور عالمی برادری پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف بیانات تک محدود نہ رہے بلکہ انسانی امداد، سفارتی کوششوں اور امن کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ اسی طرح بڑی عالمی طاقتوں کو بھی اپنے سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر انسانی جانوں کے تحفظ کو اولین ترجیح دینی چاہیے، کیونکہ جب بین الاقوامی قوانین کا یکساں احترام نہیں کیا جاتا تو عالمی نظام پر اعتماد کمزور پڑ جاتا ہے۔

غزہ کے ملبے تلے دبی ہر جان، زخمی ہر بچہ، بے گھر ہر خاندان اور خوف میں زندگی گزارنے والا ہر انسان پوری دنیا سے ایک سوال کر رہا ہے: کیا انسانی جان کی قدر صرف بیانات تک محدود رہ گئی ہے؟ اگر دنیا واقعی امن، انصاف اور انسانی حقوق پر یقین رکھتی ہے تو اسے فوری جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ، انسانی امداد کی آزادانہ رسائی اور ایک منصفانہ سیاسی حل کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف غزہ بلکہ پورے خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے، کیونکہ جنگیں نفرت کو جنم دیتی ہیں جبکہ انصاف، انسانی ہمدردی اور مکالمہ ہی دیرپا امن کی بنیاد بنتے ہیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *