Banner
Daily Sahafat Quetta
July 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقاتکوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی طرف سے 14 مختلف ترقیاتی منصوبوں کا ٹینڈر جاریصحبت پور میں ٹف ٹائل اور سیوریج کا منصوبہ مقامی حکومت صحبت پور کی طرف سے ٹینڈر نوٹس جاریاوستہ محمد: روڈ کی بحالی کا 12.44 کروڑ روپے کا ٹینڈر جاریحلقے کے عوام کو مایوس نہیں کرینگے، نور محمد دمڑقومی مسائل کے حل کیلئے صالح قیادت ضروری ہے، عبدالرحمن رفیقبلوچستان پولیس کا کریک ڈاون، 107 ملزمان گرفتاربلوچستان کو سرمایہ کاری کیلئے پرکشش منزل بنائیں گے، بلال کاکڑکوئٹہ، 8 ماہ کی حاملہ خاتون وردہ داؤد قتل، لاش سسرال سے برآمدجھل مگسی: ہندو تاجر کے دکان پر ڈکیتی کی وارداتپوسٹل ورکرز فیڈریشن وفد کی پوسٹ ماسٹر جنرل سے اہم ملاقات

کالا سایہ

کالا سایہ
تحریر۔ قراۃالعین

رات اپنی سیاہ چادر پوری بستی پر پھیلا چکی تھی۔ دور کہیں خشک شاخیں ہوا کے ساتھ آہستہ آہستہ سرگوشیاں کر رہی تھیں۔ کبھی کسی آوارہ کتے کی بھونک سنائی دیتی، پھر ہر طرف ایسی خاموشی چھا جاتی کہ اپنے دل کی دھڑکن بھی اجنبی محسوس ہونے لگتی۔ بعض اوقات خاموشی، شور سے کہیں زیادہ خوفناک ہوتی ہے، کیونکہ وہ انسان کو اپنے ہی اندر چھپے اندھیروں سے ملا دیتی ہے۔
زاہد ایک معمولی سا آدمی تھا۔ اس کی زندگی میں نہ کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آیا تھا، نہ وہ پراسرار کہانیوں پر یقین رکھتا تھا۔ مگر گزشتہ چند ہفتوں سے اس کی راتیں بدل چکی تھیں۔ جیسے ہی چراغ بجھتا، اسے محسوس ہوتا کہ کمرے کے ایک کونے میں کوئی خاموش کھڑا اسے دیکھ رہا ہے۔ وہ کئی مرتبہ چونک کر اٹھ بیٹھتا، روشنی جلاتا، مگر ہر بار کمرہ خالی ہوتا۔ صرف دیوار پر اس کا اپنا سایہ لرز رہا ہوتا۔
اس نے اپنے دل کو تسلی دی کہ یہ محض تھکن ہے۔ شاید مسلسل کام اور بے خوابی نے اس کے اعصاب کمزور کر دیے ہیں۔ مگر اگلی رات اس کا وہم ایک قدم اور آگے بڑھ گیا۔ اس نے واضح طور پر دیکھا کہ دیوار پر موجود سایہ اس کی حرکت سے ایک لمحہ دیر سے حرکت کر رہا تھا۔ زاہد کا جسم برف ہو گیا۔ اس نے دوبارہ ہاتھ اٹھایا۔ اس مرتبہ سایہ چند لمحے تک ساکت رہا، پھر آہستہ آہستہ اس کی نقل کرنے لگا۔
اس رات کے بعد اس کی نیند ہمیشہ کے لیے روٹھ گئی۔ اب وہ جہاں بھی جاتا، اسے محسوس ہوتا جیسے کوئی اس کے قدموں کے پیچھے قدم رکھ رہا ہو۔ بازار کی بھیڑ میں، مسجد کے صحن میں، دفتر کی راہداریوں میں، حتیٰ کہ اپنے ہی گھر میں بھی اسے ایک انجانی موجودگی کا احساس رہتا۔ لوگ اس سے بات کرتے تو وہ بار بار ان کے عقب میں دیکھنے لگتا۔ اسے یوں محسوس ہوتا جیسے ہر انسان کے پیچھے ایک اور خاموش وجود کھڑا ہے، جو صرف اسے دکھائی دیتا ہے۔
اس کی ماں نے ایک دن اس کی بجھی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر پوچھا، ’’بیٹا! تم اتنے خوف زدہ کیوں رہتے ہو؟‘‘
زاہد نے ہلکی سی مسکراہٹ سے بات ٹال دی، مگر اس کے دل میں ایک طوفان برپا تھا۔ وہ اپنی ماں کو کیسے بتاتا کہ رات کے اندھیرے میں کوئی اس کا نام لے کر نہیں پکارتا، بلکہ خاموشی سے اسے دیکھتا رہتا ہے، اور یہی خاموشی اس کے وجود کو اندر ہی اندر توڑ دیتی ہے۔
چند روز بعد اس نے گھر کے تمام آئینے ڈھانپ دیے۔ اسے آئینوں سے خوف آنے لگا تھا۔ ہر مرتبہ جب وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوتا، اسے ایک لمحے کے لیے یوں محسوس ہوتا جیسے اس کا عکس مسکرانے میں دیر کر دیتا ہے، یا اس کی آنکھیں اس کی آنکھوں سے زیادہ دیر تک اسے گھورتی رہتی ہیں۔ یہ فرق صرف ایک لمحے کا ہوتا، مگر وہی لمحہ اس کی روح کو لرزا دیتا۔
ایک رات اس نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے خوف کا سامنا کرے گا۔ اس نے پورے گھر کی بتیاں بجھا دیں۔ کمرہ تاریکی میں ڈوب گیا۔ وہ خاموش کھڑا رہا۔ اچانک اسے اپنے پیچھے کسی کی سانسوں کا احساس ہوا۔ اس کا دل سینے میں زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس نے آہستہ آہستہ گردن موڑی۔
وہاں کوئی نہ تھا۔
لیکن دیوار پر ایک سایہ ضرور تھا۔
وہ سایہ اس کا نہیں تھا۔
وہ اس سے کہیں زیادہ لمبا، کہیں زیادہ سیاہ اور بالکل ساکت تھا۔ زاہد کے ہونٹ خشک ہو گئے۔ وہ چیخنا چاہتا تھا، مگر آواز جیسے حلق میں قید ہو گئی۔ سایہ دیوار سے الگ ہوا اور آہستہ آہستہ اس کی طرف بڑھنے لگا۔ کمرے کی ہوا یخ ہو گئی اور وقت جیسے تھم گیا۔
پھر پہلی مرتبہ وہ سایہ بولا، مگر اس کی آواز کانوں میں نہیں، دل کے اندر گونجی۔
’’میں باہر سے نہیں آیا… میں ہمیشہ سے تیرے اندر تھا۔‘‘
یہ جملہ سنتے ہی زاہد کی آنکھوں کے سامنے ماضی کے بند دروازے کھل گئے۔ اسے اپنا بچپن یاد آیا، جب وہ اپنے والد کی آخری سانسوں کے وقت ان کے پاس نہ پہنچ سکا تھا۔ اسے اپنی وہ بہن یاد آئی، جس سے برسوں پہلے ایک تلخ جھگڑا ہوا اور پھر کبھی صلح نہ ہو سکی۔ اسے وہ دوست یاد آیا جس کا اعتماد اس نے توڑ دیا تھا۔ اس کی ہر خاموش غلطی، ہر دبی ہوئی ندامت اور ہر چھپا ہوا آنسو یکایک اس کے سامنے آ کھڑا ہوا۔
تب اسے احساس ہوا کہ وہ سیاہ وجود کوئی اجنبی مخلوق نہیں تھا، بلکہ اس کے اپنے خوف، اس کے پچھتاوے، اس کی تنہائی اور اس کے ان کہے دکھوں کا روپ تھا۔ انسان کے سب سے خوفناک دشمن اکثر باہر نہیں ہوتے، بلکہ اس کے اپنے دل میں جنم لیتے ہیں۔
اگلی صبح لوگوں نے دیکھا کہ زاہد پہلے سے زیادہ خاموش ہو چکا تھا۔ وہ کم بولتا، کم ہنستا اور اکثر خالی دیواروں کو دیر تک تکتا رہتا۔ لوگوں نے اسے بیمار کہا، کسی نے وہم کا شکار قرار دیا، مگر کسی نے اس کی آنکھوں میں اترے ہوئے اندھیرے کو نہ پڑھا۔
چند ہفتوں بعد وہ اچانک لاپتا ہو گیا۔
گھر کے دروازے اندر سے بند تھے۔ سامان اپنی جگہ موجود تھا۔ صرف اس کے کمرے کی دیوار پر ایک سیاہ نشان تھا، جو انسانی سایے سے مشابہ دکھائی دیتا تھا۔ اس نشان کو دھونے کی کوشش کی گئی، مگر وہ نہ مٹا۔ دیوار پر نیا رنگ کیا گیا، لیکن وہ پھر بھی جھلکتا رہا۔ آخرکار پوری دیوار گرا دی گئی، مگر حیرت انگیز طور پر نئے پلستر پر بھی وہی دھندلا سا سایہ نمودار ہو گیا۔
کئی برس گزر گئے۔ وہ مکان ویران پڑا رہا۔ پھر ایک نیا خاندان وہاں آ کر آباد ہوا۔ پہلی ہی رات ان کی چھوٹی بیٹی نے اپنی ماں سے معصومیت سے پوچھا، ’’امی… وہ کالے کپڑوں والے انکل ہمارے کمرے کے باہر کیوں کھڑے ہیں؟‘‘
ماں نے گھبرا کر دروازہ کھولا۔ باہر کوئی نہ تھا، مگر فرش پر نمی سے بنے ہوئے سیاہ قدموں کے نشانات راہداری کے آخری سرے تک جا رہے تھے۔
اس رات کے بعد اس گھر میں کبھی سکون واپس نہ آیا۔ کہتے ہیں، کچھ سائے مکانوں میں نہیں رہتے، بلکہ دلوں میں بسیرا کر لیتے ہیں۔ وہ ہر اس انسان کے ساتھ چلتے ہیں جو اپنے دکھوں کو دفن کرتا رہتا ہے، اپنے آنسو چھپاتا رہتا ہے اور اپنے ضمیر کی آواز کو خاموش کر دیتا ہے۔
آج بھی اگر رات کے آخری پہر آپ کو یہ محسوس ہو کہ کوئی خاموشی سے آپ کو دیکھ رہا ہے، اگر اچانک آپ کا دل بے وجہ تیزی سے دھڑکنے لگے، اگر آپ کو اپنی ہی دیوار پر سایہ کچھ مختلف محسوس ہو، تو پہلے اپنے دل میں جھانکیے۔
شاید وہاں کوئی ایسا درد چھپا ہو جسے آپ نے برسوں سے نام ہی نہ دیا ہو۔
اور اگر کبھی آپ کو یہ محسوس ہو کہ آپ کا سایہ آپ کے قدموں سے ایک لمحہ پیچھے رہ گیا ہے، تو یاد رکھیں۔
ہر اندھیرا روشنی سے پیدا نہیں ہوتا۔
کچھ اندھیرے انسان اپنے اندر خود پال لیتا ہے، اور جب وہ حد سے بڑھ جاتے ہیں، تو دنیا انہیں صرف ایک نام سے جانتی ہے۔
“کالا سایہ”

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *