Banner
Daily Sahafat Quetta
September 30, 2026
🌤 اسلام آباد --°
تازہ خبریں
عوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، اعجاز احمدتعلیمی خدمات پر ایوارڈ حیدر خان ناصر کی محنت کا اعتراف ہے۔صالح محمد کاکڑبلوچستان میڈیا فورم میڈیا پرسنز کی توانا آواز بن چکا ہے،سید امان شاہ8 اکتوبر کا ضلعی مجلسِ عمومی اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقعام آدمی کہاں جائے؟ پاکستان میں دفتری نظاماسلامی عادلانہ نظام کا نفاذ ملکی بقا کا ضامن ہے، قاری مہراللہڈی ایچ او شانگلہ ڈاکٹر نزر محمد کیٹیگری ڈی ہسپتال بشام کا اچانک دورہ کیاTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1606/29-9-2026افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے نکل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا، عطا اللہ تارڑسپریم لیڈر کا امریکا کو خطے سے نکالنے کا عزم، ٹرمپ کا ایران کو ‘نرمی دینے’ سے انکارعوام کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جائے گا، اعجاز احمدتعلیمی خدمات پر ایوارڈ حیدر خان ناصر کی محنت کا اعتراف ہے۔صالح محمد کاکڑبلوچستان میڈیا فورم میڈیا پرسنز کی توانا آواز بن چکا ہے،سید امان شاہ8 اکتوبر کا ضلعی مجلسِ عمومی اجلاس غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، مولانا عبدالرحمن رفیقعام آدمی کہاں جائے؟ پاکستان میں دفتری نظاماسلامی عادلانہ نظام کا نفاذ ملکی بقا کا ضامن ہے، قاری مہراللہڈی ایچ او شانگلہ ڈاکٹر نزر محمد کیٹیگری ڈی ہسپتال بشام کا اچانک دورہ کیاTENDER NOTICE: DPRQ/PRQ NO.1606/29-9-2026افغان عبوری حکومت کو عسکریت پسندانہ ذہنیت سے نکل کر عوام کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا، عطا اللہ تارڑسپریم لیڈر کا امریکا کو خطے سے نکالنے کا عزم، ٹرمپ کا ایران کو ‘نرمی دینے’ سے انکار

عام آدمی کہاں جائے؟ پاکستان میں دفتری نظام

تحریر: یاسر دانیال وزیر
پاکستان میں عام آدمی کی زندگی پہلے ہی مہنگائی، بے روزگاری اور محدود آمدن کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہے، لیکن جب وہ اپنے جائز کام کے لیے کسی سرکاری دفتر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اسے ایک نئی آزمائش سے گزرنا پڑتا ہے۔ ایک ایسا نظام جس کا بنیادی مقصد عوام کو سہولت فراہم کرنا ہونا چاہیے، بعض اوقات اتنا پیچیدہ، سست اور غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے کہ ایک غریب اور متوسط طبقے کا شہری اپنا جائز حق حاصل کرنے سے پہلے ہی تھک ہار کر بیٹھ جاتا ہے۔ سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جن لوگوں کے گھر، زمینیں، راستے، پانی کے نظام اور دیگر املاک قدرتی آفت سے متاثر ہوئے، ان میں سے بعض کو معاوضے یا سرکاری امداد کے حصول کے لیے طویل عرصہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ ایک سائل کی درخواست ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک پہنچنے میں کئی ہفتے لگ جاتے ہیں، بعض اوقات فائل یا درخواست کے بارے میں واضح معلومات بھی دستیاب نہیں ہوتیں۔ کہیں بتایا جاتا ہے کہ متعلقہ اہلکار فیلڈ میں ہیں، کہیں فائل زیرِ کارروائی ہوتی ہے اور کہیں ایک افسر کے دستخط کے انتظار میں معاملہ رک جاتا ہے۔ اگر ایک متاثرہ شخص کو اپنے حق کے لیے ایک ماہ یا دو ماہ تک دفاتر کے چکر لگانے پڑیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ اپنے گھر، روزگار اور خاندان کو کیسے سنبھالے گا؟ایک عام شہری کے لیے ایک سرکاری پائپ حاصل کرنا بھی بعض اوقات ایک طویل عمل بن جاتا ہے۔ درخواست جمع کرانے، متعلقہ دفتر سے رپورٹ لینے، انتظامیہ سے تصدیق کرانے، پٹواری یا دیگر متعلقہ اہلکار کی رپورٹ حاصل کرنے اور پھر فائل کو اگلے دفتر تک پہنچانے میں کئی دن اور ہفتے گزر جاتے ہیں۔ اگر کسی شہری کو ایک معمولی ضرورت پوری کرنے کے لیے بار بار دفتر جانا پڑے تو اس کا وقت، کرایہ اور روزانہ کا روزگار سب متاثر ہوتے ہیں۔ بعض سائلین کا کہنا ہے کہ وہ ایک کام کے لیے بار بار سفر کرتے کرتے اتنا خرچ کر دیتے ہیں کہ جس چیز کے حصول کے لیے درخواست دی تھی، اس کی اصل ضرورت ہی ثانوی بن جاتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی پائپ یا معمولی سرکاری سہولت کے لیے ایک شہری کو کئی مرتبہ دفتر کے چکر لگانے پڑیں اور اس دوران اس کی جیب سے ہزاروں روپے سفر، کھانے اور دیگر اخراجات میں خرچ ہو جائیں تو یہ بھی عوام پر ایک غیر محسوس مالی بوجھ ہے۔
اسی طرح انتظامیہ کے دفاتر میں بھی درخواستوں کی کارروائی میں تاخیر عوام کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن سکتی ہے۔ کبھی متعلقہ اہلکار موقع پر موجود نہیں ہوتا، کبھی پٹواری یا فیلڈ اسٹاف کسی دوسرے کام کے لیے باہر ہوتا ہے، کبھی رپورٹ مکمل نہیں ہوتی اور کبھی فائل اگلے دفتر تک پہنچنے میں کئی دن لے لیتی ہے۔ ایک درخواست پہلے مقامی دفتر، پھر تحصیل یا ضلعی سطح اور اس کے بعد متعلقہ ڈائریکٹوریٹ یا اعلیٰ دفتر تک پہنچتی ہے تو بعض معاملات میں ایک سے دو ماہ کا وقت گزر جاتا ہے۔ اس دوران متاثرہ شخص کا مسئلہ اپنی جگہ موجود رہتا ہے، جبکہ بعض سرکاری منصوبوں، معاوضوں یا ٹھیکوں کی مدت بھی گزر سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جدید دور میں ایک عام شہری کی درخواست کو مہینوں تک کاغذی کارروائی میں گھومتے رہنا چاہیے؟
عوام میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ جس شخص کے پاس سفارش، تعلقات یا کوئی بااثر ذریعہ ہو، اس کا کام نسبتاً جلد ہو جاتا ہے، جبکہ کمزور اور غریب شہری کو زیادہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اس تاثر کو ختم کرنا ضروری ہے، کیونکہ ریاستی اداروں پر عوام کا اعتماد اسی وقت قائم ہوتا ہے جب ہر شہری کے ساتھ قانون اور طریقہ کار کے مطابق یکساں برتاؤ ہو۔ اگر کسی دفتر میں رشوت یا غیر قانونی ادائیگی کے ذریعے کام ہونے کی شکایات موجود ہیں تو ان کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کرپشن صرف ایک چھوٹے اہلکار کا مسئلہ نہیں؛ اگر کہیں غیر قانونی مالی معاملات کا نظام موجود ہے تو اس کے پیچھے نگرانی، احتساب اور انتظامی کمزوریوں کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔یہ مسئلہ صرف ترقیاتی یا انتظامی دفاتر تک محدود نہیں۔ صحت کے شعبے میں بھی عام شہری کی مشکلات کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا رش، عملے کی کمی، صفائی کے مسائل، ڈاکٹروں کے اوقات کار اور مریضوں کو مناسب وقت نہ ملنے کی شکایات کئی علاقوں میں سامنے آتی رہتی ہیں۔ ایک غریب شخص سرکاری ہسپتال اس امید سے جاتا ہے کہ اسے کم خرچ یا مفت علاج ملے گا، لیکن اگر اسے گھنٹوں انتظار کرنا پڑے، ڈاکٹر سے مختصر وقت میں ملاقات ہو اور ضروری ادویات بھی باہر سے خریدنی پڑیں تو اس کے لیے سرکاری نظام کا مقصد ہی کمزور پڑ جاتا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں کے لیے ادویات کی خریداری اور فراہمی پر عوامی پیسہ خرچ ہوتا ہے، اس لیے ادویات کی دستیابی، اسٹاک اور تقسیم کا شفاف ریکارڈ ہونا چاہیے۔ اگر کسی ہسپتال میں ادویات دستیاب نہیں تو متعلقہ حکام کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ مطلوبہ دوا کب خریدی گئی، کتنی مقدار میں آئی، کہاں ذخیرہ ہوئی اور مریضوں میں کتنی تقسیم ہوئی۔ ایسے معاملات میں الزام کے بجائے شفاف آڈٹ اور باقاعدہ نگرانی ہی اصل حل ہے۔
تعلیم کا شعبہ بھی اسی نظام سے متاثر ہوتا ہے۔ اگر کسی سرکاری تعلیمی ادارے میں استاد وقت پر نہ پہنچے، کلاسز باقاعدگی سے نہ ہوں، طلبہ کو مطلوبہ تعلیمی وقت نہ ملے اور ادارے کی نگرانی مؤثر نہ ہو تو سب سے بڑا نقصان ہمارے بچوں کا ہوتا ہے۔ ایک غریب خاندان اپنے بچے کو سرکاری اسکول اس امید سے بھیجتا ہے کہ وہاں اسے معیاری تعلیم ملے گی۔ اگر یہ بنیادی حق کمزور ہو جائے تو معاشرے میں طبقاتی فرق مزید بڑھ سکتا ہے۔ تعلیم صرف کتاب پڑھانے کا نام نہیں بلکہ بچے کو سوچنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور ذمہ دار شہری بننے کے قابل بنانے کا عمل ہے۔ اس لیے اسکولوں میں حاضری، تدریسی معیار، اساتذہ کی کارکردگی اور طلبہ کے تعلیمی نتائج کی باقاعدہ نگرانی ضروری ہے۔
عدلیہ بھی ریاستی نظام کا اہم ستون ہے۔ عام شہری جب عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے تو اس کی سب سے بڑی امید انصاف اور بروقت سماعت ہوتی ہے۔ مقدمات کا طویل عرصے تک زیرِ التوا رہنا صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ اس سے خاندان، کاروبار، جائیداد اور معاشرتی زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ عدالتی نظام کی اپنی قانونی پیچیدگیاں اور مقدمات کا بوجھ ہے، لیکن جہاں بھی غیر ضروری تاخیر ہو وہاں اصلاح کی گنجائش تلاش کرنا ضروری ہے۔ انصاف صرف ملنا نہیں چاہیے بلکہ قانون کے مطابق بروقت اور شفاف طریقے سے ملنے کا راستہ بھی مؤثر ہونا چاہیے۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر ایک شہری کو پائپ کے لیے دفتر کے چکر، سیلابی معاوضے کے لیے فائل کے پیچھے دوڑ، ہسپتال میں علاج کے لیے لمبی قطار، اسکول میں تعلیم کے لیے غیر یقینی صورتحال اور عدالت میں انصاف کے لیے طویل انتظار کا سامنا ہو تو وہ ریاست سے کس طرح اعتماد قائم کرے؟ پاکستان کے سرکاری ادارے عوام کے لیے بنائے گئے ہیں اور عوام کا پیسہ ہی ان اداروں کو چلاتا ہے۔ افسر سے لے کر معمولی ملازم تک ہر سرکاری عہدہ ایک ذمہ داری ہے، اختیار نہیں کہ اسے ذاتی فائدے یا کسی خاص شخص کی سہولت کے لیے استعمال کیا جائے۔ہمیں ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں درخواست کی آن لائن ٹریکنگ ہو، ہر فائل کی مقررہ مدت ہو، تاخیر کی ذمہ داری واضح ہو، شہری کو بار بار دفتر نہ جانا پڑے، شکایت درج کرنے اور اس کا جواب حاصل کرنے کا آسان نظام ہو اور سرکاری وسائل، ادویات، ترقیاتی منصوبوں اور معاوضوں کا ریکارڈ ممکن حد تک عوام کے سامنے ہو۔ اگر کسی درخواست کو دس دن میں مکمل ہونا ہے تو شہری کو معلوم ہونا چاہیے کہ اس کی درخواست اس وقت کس میز پر ہے اور تاخیر کی وجہ کیا ہے۔ یہی شفافیت سفارش اور غیر قانونی راستوں کی گنجائش کم کر سکتی ہے۔ملک صرف بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں اور بڑے بجٹ سے ترقی نہیں کرتا۔ اصل ترقی اس وقت ہوتی ہے جب ایک غریب شہری کو اپنے جائز حق کے لیے کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے، جب اس کی درخواست سفارش کے بغیر بھی سنی جائے، جب ہسپتال میں مریض کو عزت ملے، اسکول میں بچے کو تعلیم ملے اور عدالت میں سائل کو بروقت انصاف کا راستہ نظر آئے۔ حرام کمائی، سفارش اور اختیارات کے غلط استعمال سے کسی معاشرے کی بنیاد مضبوط نہیں ہو سکتی۔ ہمیں افراد سے زیادہ نظام کو درست کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ اچھا نظام اچھے لوگوں کو سہارا دیتا ہے اور کمزور نظام اچھے اداروں کو بھی کمزور کر دیتا ہے۔ پاکستان کے عام شہری کو سہولت، عزت اور انصاف چاہیے؛ اگر ریاستی ادارے واقعی عوام کے خادم ہیں تو اس خدمت کا سب سے پہلا ثبوت یہ ہونا چاہیے کہ ایک جائز کام کے لیے شہری کو مہینوں دفاتر کے چکر نہ لگانے پڑیں۔

شیئر کریں: WhatsApp

bilal@zakirali.co

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *