Banner

نوجوانوں کی بے روزگاری ایک بڑا قومی مسئلہ بن چکی ہے، جمال رئیسانی

Share

Share This Post

or copy the link


قومی اسمبلی کے اہم اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے نوجوان رکنِ اسمبلی نوابزادہ جمال خان رئیسانی نے وفاقی بجٹ پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے بلوچستان کے سنگین مسائل، نوجوانوں کی بے روزگاری اور جدید ٹیکنالوجی کی عدم دستیابی پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں ہر سال اربوں اور کھربوں روپے کے بڑے بڑے اعدادوشمار تو رکھ دیئے جاتے ہیں، لیکن بلوچستان میں ایک غریب باپ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کے بیٹے یا بیٹی کو کوئی روزگار ملے گا یا اس کے گھر کا خرچ کیسے چلے گا۔ بجٹ کے ساتھ ہمیشہ غریب عوام کی امیدیں اور سسکتی زندگی وابستہ ہوتی ہے، مگر افسوس کہ بجٹ میں عوام کے بنیادی مسائل کو وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق ہیں۔نوابزادہ جمال رئیسانی نے صوبے کی پسماندگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو بے پناہ قدرتی وسائل سے مالامال ہے، لیکن اس کے باوجود یہاں کے عوام طویل عرصے سے شدید ترین محرومیوں کا شکار ہیں۔ آج بلوچستان کے شہریوں کو پینے کا صاف پانی تک میسر نہیں ہے اور خود صوبائی دارالحکومت کوئٹہ اس وقت پانی کے بدترین بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں بلوچستان کو “آغازِ حقوقِ بلوچستان پیکج” تو دیا گیا، مگر صوبے کے حقیقی اور دیرینہ مسائل کے مستقل حل کے لیے کوئی جامع و عملی پیکج نہیں دیا گیا۔ انہوں نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ بلوچستان میں تعلیم کے شعبے پر اب خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔رکنِ اسمبلی نے ملکی نوجوانوں کے مستقبل اور انفراسٹرکچر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ملک کے نوجوان اس کا سب سے بڑا اور قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔ اگر حکومت کے دعووں کے مطابق ملک کی معیشت بہتر ہو رہی ہے، تو پھر ہمارے لاکھوں تعلیم یافتہ نوجوان آج بھی بے روزگار کیوں گھوم رہے ہیں؟ انہوں نے انکشاف کیا کہ پچھلے سال روزگار اور بہتر مستقبل کی تلاش میں ریکارڈ آٹھ لاکھ سے زائد پاکستانی نوجوان ملک چھوڑ کر بیرونِ ملک ہجرت کر گئے ہیں، جو کہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے سی پیک کے مرکز گوادر کا ذکر کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ گوادر کے مقامی نوجوان کو اس کی اپنی سرزمین کی ترقی کا حق آخر کب ملے گا؟ ترقی کا مطلب صرف بڑی بڑی عمارتیں اور منصوبے بنانا نہیں ہے، بلکہ حقیقی ترقی کا مطلب وہاں کے لوگوں کے لیے روزگار، معیاری اسکول اور ایک بہتر زندگی کی فراہمی ہے۔جمال رئیسانی نے جدید ترین عالمی چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے حکومت پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ ہم نے دنیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی ٹیکنالوجی یعنی آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کو مکمل طور پر نظر انداز کر دیا ہے اور یہ اب تک کی ہماری سب سے بڑی معاشی و تعلیمی غلطی ہے۔ انہوں نے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ ملک میں فوری طور پر ایک جامع “اے آئی پالیسی” (AI Policy) کا اعلان کیا جائے تاکہ ہمارے نوجوان عالمی دوڑ میں پیچھے نہ رہ جائیں۔ اس کے علاوہ، انہوں نے عوامی سفری مشکلات پر بات کرتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ملک کے اندر اور باہر ہوائی سفر کے لیے ائیرلائنز کے من مانے کرایوں کو ریگولیٹ کرنے کے لیے ایک مثر اور مستقل طریقہ کار (میکانزم) وضع کیا جائے تاکہ مسافروں کو ریلیف مل سکے۔

نوجوانوں کی بے روزگاری ایک بڑا قومی مسئلہ بن چکی ہے، جمال رئیسانی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us