Banner

سکھر بیراج سندھ کی معیشت کی بنیاد ہے، مراد علی شاہ

Share

Share This Post

or copy the link


سکھر(رپورٹ اسلم سومرو)وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سکھر بیراج ری ہیبیلیٹیشن اینڈ ماڈرنائزیشن پراجیکٹ کے اہم مرحلے کی تکمیل کا افتتاح کرتے ہوئے اسے سندھ کے آبی تحفظ، زرعی ترقی اور پاکستان کی غذائی سلامتی کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو، صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ، اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ، ایم این اے خورشید احمد شاہ، میئر سکھر بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔وزیراعلیٰ سندھ نے سکھر بیراج کے دورے کے دوران منصوبے کے مختلف حصوں کا تفصیلی جائزہ لیا اور متعلقہ حکام سے بریفنگ حاصل کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سکھر بیراج سندھ کی زراعت، معیشت اور پاکستان کی غذائی سلامتی کی بنیاد ہے، جہاں سے لاکھوں ایکڑ زرعی اراضی سیراب ہوتی ہے اور 6 لاکھ سے زائد آبادگار خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے۔انہوں نے کہا کہ تقریباً ایک صدی بعد پہلی مرتبہ سکھر بیراج کے فرش، بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل نظام کی جامع بحالی اور جدید کاری کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت بیراج کے تمام 44 گیٹس اور ہوسٹنگ سسٹم تبدیل کر دیے گئے ہیں جبکہ جدید الیکٹرانک موٹرائزڈ نظام نصب کیا گیا ہے جس کے ذریعے اب گیٹس کو زیادہ مؤثر اور محفوظ انداز میں آپریٹ کیا جا سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی طور پر 32 گیٹس کی تبدیلی کا ہدف مقرر تھا تاہم سندھ حکومت نے منصوبے کو وسعت دیتے ہوئے تمام 44 گیٹس تبدیل کیے، جو حکومت کی سنجیدگی اور عوامی مفاد سے وابستگی کا ثبوت ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ 23 ارب 43 کروڑ روپے سے زائد لاگت کا یہ منصوبہ سندھ کے آبی ڈھانچے کو مضبوط بنانے، سیلابی خطرات میں کمی لانے اور آبپاشی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپ گریڈ شدہ سکھر بیراج مستقبل میں بڑے اور غیر معمولی سیلابی ریلوں کو محفوظ طریقے سے گزارنے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے اور آئندہ کئی دہائیوں تک سندھ کے زرعی شعبے کی خدمت کرتا رہے گا۔بریفنگ میں وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ سکھر بیراج کی تعمیر 1923 میں شروع ہوئی تھی اور 1932 میں مکمل ہوئی۔ ایک صدی بعد پہلی بار اس کے اپ اسٹریم اور ڈاؤن اسٹریم فلور سمیت اہم ڈھانچوں کی بڑے پیمانے پر بحالی اور تعمیرِ نو کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت تمام 44 بیز پر سول ریپیئر کا کام مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ نارا کینال کے علاوہ تمام گیج ویلز بھی مکمل کرکے متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔
حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سکھر بیراج سندھ کی زراعت کی لائف لائن ہے جو 3.1 ملین ہیکٹر زرعی اراضی کو سیراب کرتا ہے اور سات بڑی نہروں کو پانی فراہم کرتا ہے۔ منصوبے کے تحت تبدیل کیے جانے والے ہر نئے گیٹ کا وزن تقریباً 50 ٹن ہے جبکہ جدید انجینئرنگ ڈیزائن کے تحت اسٹوانی رولر سسٹم کو فکسڈ وہیل سسٹم میں تبدیل کر کے کاؤنٹر ویٹ کا خاتمہ کیا گیا ہے، جس سے بیراج کی کارکردگی اور دیکھ بھال میں نمایاں بہتری آئے گی۔وزیراعلیٰ سندھ کو مزید آگاہ کیا گیا کہ منصوبے کے تحت سکھر میں دو خصوصی ورکشاپس قائم کی گئیں جہاں بیراج گیٹس کی مقامی سطح پر تیاری کی گئی۔ لوکل فیبریکیشن کے عمل میں 51 مقامی ماہرین اور 10 چینی انجینئرز نے خدمات انجام دیں جبکہ مختلف تعمیراتی معاہدوں کے تحت تقریباً 70 فیصد مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سکھر بیراج صرف پتھروں اور لوہے کا ڈھانچہ نہیں بلکہ سندھ کی معیشت، زراعت اور عوامی خوشحالی کی علامت ہے۔ انہوں نے محکمہ آبپاشی اور منصوبے پر کام کرنے والی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تکنیکی چیلنجز کے باوجود تاریخی نوعیت کا کام مکمل کیا ہے۔وزیراعلیٰ نے سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے سابق پراجیکٹ ڈائریکٹر پریتم داس کی خدمات کو بھی سراہا اور منصوبے کی کامیابی میں ان کے کردار کو اہم قرار دیا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ بیراجز امپروومنٹ پراجیکٹ کے تحت گڈو بیراج کی بحالی کا منصوبہ 9 ارب 58 کروڑ روپے کی لاگت سے کامیابی سے مکمل کیا جا چکا ہے جبکہ کوٹری بیراج کی جدید کاری کا منصوبہ بھی جلد شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سکھر بیراج منصوبہ عالمی مالیاتی ادارے World Bank کے تعاون سے جاری ہے اور اس کا مقصد سندھ کے آبی وسائل کو محفوظ بنانا اور زرعی شعبے کو مضبوط بنیادیں فراہم کرنا ہے۔پانی کی قلت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ چند روز قبل انہوں نے وزیراعظم پاکستان کو سندھ کے حصے کے پانی کے مسئلے پر خط لکھا تھا، جس کے بعد سندھ کے حصے میں 20 ہزار کیوسک پانی کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دریائے سندھ میں گزشتہ برس کی نسبت پانی زیادہ موجود ہے تاہم سندھ کو اس کا مکمل حصہ نہیں مل رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ اپنے آئینی اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے ہمیشہ آواز اٹھاتا رہا ہے اور آئندہ بھی اپنے حصے کا پانی حاصل کرتا رہے گا۔اس موقع پر صوبائی وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ بیراج کی ساتوں نہروں کے 27 گیٹس کی مرمت کا کام بھی مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ منصوبے کی بروقت تکمیل محکمہ آبپاشی کی ٹیم کی مسلسل محنت کا نتیجہ ہے۔ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کی 60 فیصد آبادی دیہی علاقوں میں رہتی ہے اور ان کی معیشت کا انحصار بیراج کے پانی پر ہے، اس لیے سکھر بیراج کی جدید کاری صوبے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس موقع پر اعلان کیا کہ سکھر بیراج سے آج کوفر ڈیم ہٹا دیے جائیں گے جبکہ منصوبے کی تکمیل سے بیراج کی متوقع عمر میں مزید 30 سال کا اضافہ ہوگا۔ انہوں نے وفاقی حکومت کی جانب سے سکھر۔حیدرآباد موٹروے کے لیے رواں مالی سال کے بجٹ میں 30 ارب روپے مختص کیے جانے کا بھی خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ اس اہم قومی منصوبے پر تعمیراتی کام یکم جنوری 2027 سے شروع ہو جائے گا۔انہوں نے محکمہ آبپاشی کو ہدایت کی کہ منصوبے کے باقی ماندہ کام جون 2027 تک اعلیٰ معیار اور مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں تاکہ سندھ کے عوام کو جدید اور محفوظ آبپاشی نظام کی مکمل سہولت فراہم کی جا سکے۔

سکھر بیراج سندھ کی معیشت کی بنیاد ہے، مراد علی شاہ

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us