Banner

کوئٹہ میں رینج لینڈ ریسورسز اسیسمنٹ اینڈ میپنگ کی توثیقی ورکشاپ کا انعقاد

Share

Share This Post

or copy the link


بلوچستان کے منتخب چار دریائی بیسنز میں رینج لینڈ ریسورسز اسیسمنٹ اینڈ میپنگ (RRAM) کے حوالے سے ایک اہم توثیقی ورکشاپ فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے دفتر، چمن ہاؤسنگ اسکیم کوئٹہ میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئی۔ یہ ورکشاپ یورپی یونین کے مالی تعاون سے جاری “ری وائیول آف بلوچستان واٹر ریسورسز پروگرام (RBWRP)” کے تحت منعقد کی گئی، جس پر عملدرآمد فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن آف دی یونائیٹڈ نیشنز (FAO) اور محکمہ جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان کے اشتراک سے کیا جا رہا ہے۔
ورکشاپ میں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے اعلیٰ حکام، FAO کے نمائندگان، تحفظِ ماحول کے ماہرین، محققین اور تکنیکی ماہرین نے شرکت کی تاکہ بلوچستان کے چار بڑے دریائی بیسنز میں کیے گئے رینج لینڈ ریسورسز اسیسمنٹ اینڈ میپنگ سروے کے نتائج کا جائزہ لیا جا سکے اور ان کی توثیق کی جا سکے۔
کارروائی کا آغاز رجسٹریشن، تلاوتِ قرآن پاک اور شرکاء کے تعارف سے ہوا۔ جناب جعفر علی بلوچ نے شرکاء کو خوش آمدید کہا اور ورکشاپ کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ ڈاکٹر محمد عیسیٰ جان (FAO) نے ورکشاپ کے پس منظر اور پائیدار رینج لینڈ مینجمنٹ میں اس کی اہمیت پر تفصیلی بریفنگ دی۔
افتتاحی کلمات جناب ولید مہدی، پروگرام کوآرڈینیٹر و ہیڈ آف آفس FAO بلوچستان نے ادا کیے، جنہوں نے رینج لینڈ وسائل کی سائنسی بنیادوں پر تشخیص اور میپنگ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عمل صوبے میں شواہد پر مبنی منصوبہ بندی اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کے لیے نہایت ضروری ہے۔
محکمہ جنگلات و جنگلی حیات بلوچستان کے چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ جناب سید علی عمران نے اپنے خطاب میں رینج لینڈز کی حیاتیاتی تنوع، لائیو اسٹاک پیداوار اور دیہی معیشت میں اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے انحطاط پذیر رینج لینڈز کی بحالی اور ان کے طویل المدتی تحفظ کے لیے مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔
تکنیکی سیشنز کے دوران ڈاکٹر فیض الباری، نیچرل ریسورس مینجمنٹ ایکسپرٹ نے رینج لینڈ اسیسمنٹ کی اہمیت اور ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی۔ جناب جعفر علی بلوچ نے RRAM سروے کا طریقہ کار اور مجموعی نتائج پیش کیے، جس کے بعد منتخب دریائی بیسنز پر تفصیلی پریزنٹیشنز دی گئیں۔
ڈاکٹر محمد عمران، ڈپٹی کنزرویٹر آف فاریسٹ (پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ) نے پیشرین-لورہ دریائی بیسن کے نتائج پیش کیے، جبکہ جناب محمد سعید، ڈپٹی کنزرویٹر آف فاریسٹ نے ناری دریائی بیسن کے نتائج شرکاء کے سامنے رکھے۔ حمونِ ماشکیل دریائی بیسن کے نتائج جناب غلام سرور، کنزرویٹر آف فاریسٹ (ریسرچ) نے پیش کیے، جبکہ ہنگول دریائی بیسن کے نتائج جناب نعیم جاوید، کنزرویٹر آف فاریسٹ و پروجیکٹ ڈائریکٹر وائلڈ لائف کمپوننٹ نے پیش کیے۔
ان پریزنٹیشنز میں رینج لینڈ وسائل کی موجودہ صورتحال، نباتاتی احاطہ، چرائی کے دباؤ، زمین کی تنزلی کے مسائل اور ماحولیاتی بحالی کے مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ شرکاء نے فعال بحث میں حصہ لیتے ہوئے تکنیکی آراء اور سفارشات پیش کیں تاکہ آئندہ تحفظ اور انتظامی حکمتِ عملی کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اختتامی سیشن میں چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (ساؤتھ) جناب محمد اسلم اور چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ (نارتھ) سید علی عمران نے FAO اور محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی مشترکہ کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ اس تحقیق کے نتائج پالیسی سازی، واٹرشیڈ مینجمنٹ، حیاتیاتی تنوع کے تحفظ اور ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
پروگرام کوآرڈینیٹر و ہیڈ آف آفس FAO بلوچستان جناب ولید مہدی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور بلوچستان میں پائیدار قدرتی وسائل کے انتظام کے لیے FAO کے عزم کو دہرایا۔
ورکشاپ کے اختتام پر سیکرٹری محکمہ جنگلات و جنگلی حیات حکومت بلوچستان جناب عمران گچکی نے شرکاء اور تکنیکی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ توثیق شدہ نتائج آئندہ پالیسی سازی، پائیدار رینج لینڈ مینجمنٹ اور بلوچستان کے قدرتی ماحولیاتی نظام کے تحفظ میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔
آخر میں شکریہ کی قرارداد، گروپ فوٹو اور ظہرانے کے ساتھ ورکشاپ کا اختتام ہوا، جو بلوچستان میں ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی وسائل کے پائیدار انتظام کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوا۔

کوئٹہ میں رینج لینڈ ریسورسز اسیسمنٹ اینڈ میپنگ کی توثیقی ورکشاپ کا انعقاد

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us