Banner

انجینئر ذین کاسی: اصول پسندی، عوامی خدمت اور ایک افسر کی طویل آزمائش

Share

Share This Post

or copy the link

انجینئر ذین کاسی: اصول پسندی، عوامی خدمت اور ایک افسر کی طویل آزمائش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا عوامی مفادات کا تحفظ
کرنے والے افسر کو اپنے مؤقف
کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیو ڈی اے کے سابق ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ و ڈائریکٹر کمرشل اسٹیٹ کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: قیوم بلوچ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلوچستان کی سیاسی، انتظامی اور سماجی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی بھی سامنے آتی ہیں جن کی پہچان ان کے عہدوں، مراعات یا اختیارات سے زیادہ ان کے کردار، دیانت داری اور عوامی خدمات سے ہوتی ہے۔ یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے منصب کو محض ایک سرکاری ذمہ داری نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ سرکاری وسائل اور اختیارات کو ذاتی فائدے کے بجائے عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے افراد اپنے اداروں سے بڑھ کر عوامی حلقوں میں پہچان حاصل کرتے ہیں اور وقت گزرنے کے باوجود ان کا نام لوگوں کے دلوں میں زندہ رہتا ہے۔حکومت بلوچستان کے اہم ترقیاتی ادارے کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی (کیو ڈی اے) کے سینئر افسر انجینئر ذین کاسی کا شمار بھی انہی شخصیات میں کیا جاتا ہے جنہوں نے اپنی عملی زندگی میں اصول پسندی، دیانت داری اور عوامی مفادات کے تحفظ کو ہمیشہ ترجیح دی۔کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی بلوچستان کا ایک اہم ادارہ ہے جو شہری ترقی، ٹاؤن پلاننگ، رہائشی اسکیموں، کمرشل منصوبوں اور شہری انفراسٹرکچر کی بہتری میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ اس ادارے کے فیصلوں کا براہ راست تعلق لاکھوں شہریوں کی زندگیوں، جائیدادوں، کاروباروں اور مستقبل سے ہوتا ہے۔ ایسے ادارے میں کسی افسر کا کردار محض دفتری کارروائی تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے فیصلوں کے اثرات کئی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ انجینئر ذین کاسی نے بطور ڈائریکٹر ٹاؤن پلاننگ اور ڈائریکٹر کمرشل اسٹیٹ انہی حساس ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انجینئر ذین کاسی کے ساتھ کام کرنے والے افسران اور ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ ایک نہایت منظم، قانون پسند اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افسر ہیں۔ وہ فائلوں پر صرف دستخط کرنے کے بجائے ہر معاملے کی باریک بینی سے جانچ پڑتال کرتے تھے۔ شہری ترقی سے متعلق منصوبوں میں ان کی کوشش ہوتی تھی کہ مستقبل کی ضروریات، عوامی مفادات اور قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھا جائے۔یہی وجہ تھی کہ وہ کئی معاملات میں سخت مؤقف اختیار کرتے تھے اور ایسے فیصلوں کی مخالفت کرتے تھے جو ادارے یا عوام کے مفادات کے خلاف تصور کیے جاتے تھے۔ عوامی حلقوں میں انجینئر ذین کاسی کی مقبولیت کی ایک بڑی وجہ ان کا عوام دوست رویہ بھی رہا ہے۔ عام طور پر سرکاری دفاتر میں عوام کو افسران تک رسائی حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں، لیکن انجینئر ذین کاسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا دفتر ہر طبقۂ فکر کے لوگوں کے لیے کھلا رہتا تھا۔ چاہے کوئی غریب شہری اپنی زمین کے مسئلے کے حل کے لیے آیا ہو، کوئی تاجر اپنے کاروباری معاملات کے سلسلے میں ملاقات کرنا چاہتا ہو یا کوئی سماجی شخصیت کسی عوامی مسئلے کی نشاندہی کرنا چاہتی ہو، انجینئر ذین کاسی ہر شخص کو تحمل اور توجہ سے سنتے تھے۔ ان کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انجینئر ذین کاسی نے اپنی ملازمت کے دوران متعدد ایسے منصوبوں کی نگرانی کی جن سے ہزاروں خاندان مستفید ہوئے۔ شہری ترقی کے مختلف منصوبوں، اراضی کے بہتر استعمال، تجارتی سرگرمیوں کی منصوبہ بندی اور ادارے کی آمدن میں اضافے کے لیے ان کی خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بعض حلقوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے کیو ڈی اے کو اربوں روپے کے ممکنہ مالی نقصان سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا اور ایسے کئی فیصلوں کی مخالفت کی جن سے سرکاری وسائل کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں سے انجینئر ذین کاسی کی مشکلات کا آغاز ہوا۔ مختلف عوامی اور محکمانہ حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ بعض بااثر عناصر انجینئر ذین کاسی کے مؤقف اور طرز عمل سے خوش نہیں تھے۔ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے بعض ایسے منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے جنہیں ان کے حامی مشکوک قرار دیتے ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر کوئی منصوبہ عوامی مفاد، قانون یا ادارہ جاتی ضابطوں کے مطابق نہیں تو اسے محض دباؤ یا سفارش کی بنیاد پر منظور نہیں کیا جا سکتا۔ یہی اصولی مؤقف بعد ازاں ان کے لیے مشکلات کا سبب بنا۔انجینئر ذین کاسی کے حامیوں کے مطابق انہیں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پہلے انتظامی طور پر کمزور کرنے کی کوشش کی گئی، پھر ان کے خلاف مختلف الزامات سامنے لائے گئے اور بالآخر انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا۔ بعد ازاں انہیں او ایس ڈی بنا دیا گیا، جو سرکاری افسران کے لیے عملاً ایک ایسی صورتحال ہوتی ہے جہاں وہ اپنے اختیارات اور عملی کردار سے محروم ہو جاتے ہیں۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک فعال، تجربہ کار اور عوام دوست افسر کو اس طرح غیر فعال کرنا نہ صرف اس فرد بلکہ پورے ادارے کا نقصان ہے۔ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بن گیا جب انجینئر ذین کاسی کو گرفتار کیا گیا۔ اس پیش رفت نے عوامی حلقوں میں تشویش پیدا کی۔ تاہم عدالتی کارروائی کے دوران چند ہی دنوں میں انہیں ضمانت مل گئی۔ ان کے حامی اس عدالتی فیصلے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر الزامات انتہائی مضبوط اور ناقابل تردید ہوتے تو اتنی جلدی قانونی ریلیف ممکن نہ ہوتا۔دوسری جانب یہ معاملہ اب بھی مختلف قانونی مراحل سے گزر رہا ہے اور حتمی فیصلہ متعلقہ فورمز ہی کریں گے، تاہم ایک سال سے زائد عرصے تک او ایس ڈی کی حیثیت سے ان کی موجودگی مسلسل سوالات کو جنم دے رہی ہے۔بلوچستان کے سیاسی، سماجی، کاروباری اور ٹرانسپورٹ شعبوں سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات وقتاً فوقتاً انجینئر ذین کاسی کے حق میں بیانات جاری کر چکی ہیں۔ کئی مواقع پر تاجروں کی تنظیموں، ٹرانسپورٹرز، سماجی کارکنوں اور سیاسی رہنماؤں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ انجینئر ذین کاسی کے معاملے کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور اگر ان کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا تو انہیں فوری طور پر ان کی ذمہ داریاں واپس دی جائیں۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ ایک ایسے افسر کو مسلسل نظر انداز کرنا جس نے عوامی مفادات کے لیے کام کیا، میرٹ کے اصولوں کے منافی ہے۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں اکثر ایماندار اور اصول پسند افسران کو مختلف قسم کے دباؤ، مخالفت اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاریخ میں ایسے بے شمار واقعات موجود ہیں جہاں قانون اور ضابطوں پر سختی سے عمل کرنے والے افراد کو تنقید، تبادلوں، مقدمات یا انتظامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انجینئر ذین کاسی کے حامی بھی یہی سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ان کا اصل قصور صرف یہ تھا کہ انہوں نے اصولوں پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا؟ کیا ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے عوامی وسائل کے تحفظ کی کوشش کی؟ کیا ان کی غلطی صرف اتنی تھی کہ انہوں نے طاقتور مفادات کے سامنے سر جھکانے کے بجائے قانون کی پاسداری کو ترجیح دی ۔۔۔؟ آج ایک سال سے زائد عرصہ گزر جانے کے باوجود انجینئر ذین کاسی او ایس ڈی کی حیثیت سے انتظار کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے اہل خانہ، دوست احباب، ساتھی افسران اور حامی یہ امید رکھتے ہیں کہ ایک دن انصاف کا سورج طلوع ہوگا اور تمام حقائق عوام کے سامنے آئیں گے۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ریاستی ادارے واقعی میرٹ، قانون اور انصاف پر یقین رکھتے ہیں تو انجینئر ذین کاسی جیسے افسر کے معاملے کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جانا چاہیے تاکہ نہ صرف ایک فرد کو انصاف مل سکے بلکہ سرکاری نظام پر عوام کا اعتماد بھی بحال رہے۔
آج جب بلوچستان کو دیانت دار، باصلاحیت اور تجربہ کار افسران کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے تو ایسے میں انجینئر ذین کاسی جیسے افسر کی طویل غیر فعالیت کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔یہ سوال صرف ایک فرد یا ایک عہدے کا نہیں بلکہ اس سوچ کا ہے جو ایمانداری، قانون پسندی اور عوامی خدمت کو کس نظر سے دیکھتی ہے۔ اگر معاشرے میں دیانت دار افراد کی حوصلہ افزائی کے بجائے انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو اس کے اثرات آنے والی نسلوں اور پورے نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انجینئر ذین کاسی کا معاملہ آج ایک افسر کی ذاتی جدوجہد سے بڑھ کر انصاف، میرٹ، شفافیت اور عوامی مفادات کے تحفظ کی علامت بنتا جا رہا ہے۔ بلوچستان جیسے وسیع و عریض لیکن انتظامی و ترقیاتی چیلنجز سے دوچار صوبے میں ایسے افسران کی تعداد بہت کم رہی ہے جنہوں نے اپنے فرائض کو محض سرکاری ملازمت نہ سمجھا ہو بلکہ اسے عوامی امانت تصور کیا ہو۔ انجینئر ذین کاسی کے حامی انہیں انہی چند افسران میں شمار کرتے ہیں جنہوں نے اپنے منصب کو عوامی خدمت، قانون کی بالادستی اور ادارہ جاتی شفافیت کے فروغ کے لیے استعمال کیا۔کوئٹہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں ان کی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے شہری ترقی کے مختلف منصوبوں میں نہ صرف انتظامی امور کو بہتر بنانے کی کوشش کی بلکہ مستقبل کی ضروریات کو بھی پیش نظر رکھا۔ ان کا مؤقف تھا کہ شہری منصوبہ بندی صرف موجودہ مسائل کے حل کا نام نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بہتر اور منظم شہر کی بنیاد رکھنے کا عمل ہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اکثر ایسے منصوبوں کی مخالفت کرتے تھے جن کے بارے میں ان کے خیال میں مستقبل میں قانونی، مالی یا انتظامی مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ موجود ہوتا تھا۔انجینئر ذین کاسی کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے متعدد مواقع پر ایسے فیصلے کیے جن سے بعض بااثر حلقے خوش نہیں تھے۔ تاہم ان کا مؤقف ہمیشہ یہی رہا کہ قانون، قواعد و ضوابط اور عوامی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔ان کے حامیوں کے مطابق یہی اصول پسندی بعد ازاں ان کے لیے مشکلات کا باعث بنی۔سوال یہ بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایک افسر کے خلاف الزامات موجود تھے تو ایک سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود معاملہ حتمی انجام تک کیوں نہیں پہنچ سکا؟ اگر الزامات درست ہیں تو قانونی کارروائی کو منطقی انجام تک پہنچایا جانا چاہیے اور اگر الزامات ثابت نہیں ہو سکے تو پھر ایک افسر کو مسلسل او ایس ڈی رکھنا انصاف اور میرٹ کے اصولوں سے کس حد تک مطابقت رکھتا ہے؟ یہ سوال صرف انجینئر ذین کاسی کے حامی ہی نہیں بلکہ مختلف سماجی حلقے بھی اٹھا رہے ہیں۔ بلوچستان کے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی کا انحصار صرف مالی وسائل پر نہیں بلکہ ان افسران پر بھی ہوتا ہے جو دیانت داری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ ان منصوبوں کی نگرانی کریں۔ اگر ایسے افسران خود کو غیر محفوظ محسوس کریں تو اس کے اثرات پورے انتظامی نظام پر مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انجینئر ذین کاسی کا معاملہ اب محض ایک فرد یا ایک محکمانہ تنازع نہیں رہا بلکہ اسے میرٹ، شفافیت اور گڈ گورننس کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے۔ عوامی حلقوں میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ انجینئر ذین کاسی نے اپنے دور میں عام شہریوں کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی دلچسپی لی۔ زمینوں کے تنازعات، کمرشل پلاٹوں کے معاملات، شہری منصوبہ بندی اور عوامی شکایات کے ازالے میں ان کا کردار اکثر زیر بحث رہا۔ ان سے ملاقات کرنے والے افراد کا کہنا ہے کہ وہ عوامی مسائل کو محض رسمی کارروائی سمجھنے کے بجائے ان کے حل کے لیے سنجیدہ کوشش کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ ان کے حق میں آواز بلند کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ کئی مبصرین اس معاملے کو بلوچستان کے انتظامی نظام کے لیے ایک امتحان قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر ایک افسر کو محض اصولی مؤقف اختیار کرنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو یہ پیغام پورے بیوروکریٹک نظام میں دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ دوسری جانب اگر انصاف، شفاف تحقیقات اور میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ سامنے آتا ہے تو اس سے سرکاری اداروں پر عوام کا اعتماد مزید مضبوط ہو سکتا ہے۔ آج بلوچستان کو ایسے افسران کی ضرورت ہے جو نہ صرف انتظامی صلاحیت رکھتے ہوں بلکہ عوامی مسائل کا احساس بھی رکھتے ہوں۔ انجینئر ذین کاسی کے حامیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ انہی خصوصیات کے حامل افسر ہیں اور اسی بنیاد پر ان کی بحالی کا مطالبہ مسلسل زور پکڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی افسر کے خلاف کوئی جرم ثابت نہیں ہوا تو اسے غیر معینہ مدت تک عملی ذمہ داریوں سے دور رکھنا نہ صرف اس افسر بلکہ پورے ادارے کی صلاحیتوں کا نقصان ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ مزید اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ایک طرف انجینئر ذین کاسی کے حامی انصاف اور بحالی کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب عوامی حلقے اس معاملے کے منطقی انجام کے منتظر ہیں۔ سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا عوامی مفادات، قانون کی پاسداری اور ادارہ جاتی شفافیت کے لیے آواز بلند کرنے والے افسر کو اپنے مؤقف کی قیمت چکانا پڑ رہی ہے یا پھر حقائق کسی اور سمت اشارہ کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب وقت، قانون اور متعلقہ اداروں کے فیصلے ہی دے سکیں گے، لیکن ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انجینئر ذین کاسی کا معاملہ آج بلوچستان میں میرٹ، انصاف، دیانت داری اور عوامی خدمت کے حوالے سے ایک اہم بحث کی شکل اختیار کر چکا ہے۔یہی وجہ ہے کہ مختلف سماجی، سیاسی اور کاروباری حلقوں کی نظریں اب حکومت بلوچستان اور متعلقہ اداروں پر مرکوز ہیں۔ عوام کی خواہش ہے کہ معاملے کو شفاف انداز میں منطقی انجام تک پہنچایا جائے تاکہ اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے تو اس کا ازالہ ہو اور اگر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے تو وہ بھی قانون کے مطابق طے ہو۔کیونکہ مضبوط ریاستیں افراد سے نہیں بلکہ انصاف، قانون کی حکمرانی اور میرٹ کے اصولوں سے مضبوط بنتی ہیں، اور یہی اصول کسی بھی مہذب معاشرے کی اصل بنیاد ہوتے ہیں۔

انجینئر ذین کاسی: اصول پسندی، عوامی خدمت اور ایک افسر کی طویل آزمائش

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us