Banner

ظہور بلیدی بمقابلہ بلوچستان کے دوسرے سیاست دان اور سماجی شخصیات

Share

Share This Post

or copy the link


تحریر : اسلم نظر

یہ کالم زمینی حقائق اور ٹھوس شواہد پر مبنی ہے۔ اس کالم میں مفروضوں اور فرضی باتوں سے گریز کیا گیا ہے، تاکہ کسی شخص کو سیاسی بغض، ذاتی رنجش اور پسند و ناپسند کی بنیاد پر کھوکھلی تنقید کا جواز نہ ملے۔ میں نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کالم میں وہی کچھ لکھا ہے، جس میں مبالغہ آرائی اور بے جا تعریف سے گریز کیا گیا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ میر ظہور بلیدی صاحب کا سیاسی، سماجی اور علمی قد بہت بڑا ہے۔ میر ظہور صاحب ایک ہمہ گیر شخصیت کے مالک ہیں۔ آپ کی خدمات، سیاسی وابستگی، طرف داری، اقربا پروری اور پولیٹیکل اسکورنگ سے مبرّا ہیں۔ آپ کی سیاسی بصیرت، علمی خدمات اور سماجی وژن بلوچستان کے لیے امید کی کرن ہیں۔ اگر میر ظہور بلیدی کے حریف بھی آ پ کی سیاسی دور اندیشی، فلاحی کاموں اور علمی اور سماجی خدمات کو تعصب اور سیاسی نظریہ کی عینک اتار کر دیکھیں تو یقیناً وہ ان کے اعتراف کیے بغیر رہ نہیں سکتے۔ آ پ نے مکران میں خصوصاً ضلع کیچ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
میر صاحب کا دروازہ بلا امتیاز ہر قسم کے لوگوں کے لیے چوبیس گھنٹے کھلا رہتا ہے۔ آپ اپنے ووٹر اور غیر ووٹروں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ یہ ایک عظیم رہنما کی خاصیت ہے کہ وہ بلا امتیاز عوام کی بے لوث خدمت کرتے ہیں۔ میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں کہ میر صاحب کے ہاں کئی مخالفین اور دوسرے پارٹیوں کے ووٹرز نوکری، ٹرانسفر، پوسٹنگ اور دوسرے سرکاری کاموں کے سلسلے میں آتے رہتے ہیں- لیکن آپ کھلے دل سے ان کے کام کرتے ہوئے کبھی بھی ان کو یہ احساس تک محسوس نہیں ہونے دیتا کہ وہ کسی دوسری پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان خصوصیات کی وجہ سے ظہور بلیدی ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کے دل جیت چکے ہیں۔ اس لیے کئی معتبر اور با اثر شخصیات ان کی پارٹی (پاکستان پیپلز پارٹی) میں شامل ہو رہی ہیں. ایک مخلص رہنما کی شخصیت مقناطیس کی طرح ہوتی ہے جو لوگوں کو اپنی طرف کھنچتی ہے۔ یہی خاصیت میر صاحب کی شخصیت کا ایک اہم عنصر ہے جو لوگوں کو اپنی طرف کھنچ رہی ہے۔

اسی طرح میرصاحب امیر و غریب، طلبہ اور افسروں کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں۔ بظاہر معمولی سی ہے مگر ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ میر ظہور صاحب اپنے گھر میں کبھی بھی اکیلا کھانا نہیں کھاتے، وہ اپنے مہمانوں ،جن میں عام لوگ، طلبہ اور افسرز شامل ہیں، کے ساتھ مل کر ایک ہی دسترخوان پر کھانا کھاتے ہیں، اس سے مساوات و برادری، عاجزی و انکساری اور لوگوں سے انس و محبت کی خوبیاں جھلکتی ہیں۔ اس کے برعکس بلوچستان کے دوسرے سیاستدانوں اور سماجی و قبائلی شخصیت سے عام لوگوں کی رسائی تک ممکن نہیں یا بہت مشکل ہے۔ ان سے ملنے کے لیے اجازت نامہ اور وقت لے کر گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے، اور وہ بھی چند مخصوص طبقے کو رسائی حاصل ہے۔اگر کوئی شخص میری باتوں سے اتفاق نہیں کرتا وہ خود ظہور بلیدی صاحب کے در پر ضرور حاضری دیں۔

علاوہ ازیں، ظہور صاحب نے مکران کے بہت سارے لوگوں کے علاج پاکستان کے بڑے بڑے اسپتالوں سے کروائے ہیں۔کینسر سے مبتلا مریضوں کے علاج آغا خان اسپتال سے کروا چکے ہیں اور کئی لوگوں کا علاج ابھی بھی چل رہے ہے۔ آپ کے علاوہ آج تک کسی اور وزیر/ سیاست دان کے حصے میں یہ سعادت نہیں آئی ہے اور نہ ہی آئندہ ان سے امید کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں، میں کئی مریضوں کے نام گنوا سکتا ہوں لیکن ان کے نام لکھنا ایک غیر مناسب اور احسان جتانے والی بات ہوگی۔ لہٰذا، میر صاحب نے بہت سارے لوگوں کی زندگیوں کو بچاتے ہوئے ان کےلئے ایک مسیحا پن چکے ہیں ـ

مزید براں،تعلیم کے میدان میں بھی ظہور بلیدی صاحب کی خدمات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ انہوں نے کالج(ہوشاپ)،اور نئی لائبریریاں بنائی ہیں ـ کئی پرائمری اسکولوں کو مڈل کا درجہ دیا ہے اور کئی مڈل اسکولوں کو ھائی اسکول (گلی کوچک) کا درجہ دیا ہے. کولواہ میں پانچ سو سے زائد اساتذہ کو بھرتی کی ہے تاکہ اہل علاقے کے بچوں کو تعلیم جیسے زیور سے آراستہ کر کے علاقے میں علم کی شمع جلائے۔ اس کے علاوہ یونیورسٹی آف تربت، مکران میڈیکل کالج اور تربت کے بنیادی ڈھانچے اور بسوں کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں۔ بلیدہ ٹو تربت یونیورسٹی کی بس سروس بھی شروع کی ہیں تاکہ بلیدہ کے طلباء و طالبات علم کے زیور سے محروم نہ رہیں۔ حال ہی میں آپ نے تربت سٹی کےلئے گرین بس سروس بھی شروع کی ہےـ

میر ظہور صاحب نے مکران کے کئی طلباء کو اسکالرشپس دلوائی ہے اور ان کی مالی مدد بھی کی ہے، جو ملک کے دوسرے صوبوں کی معیاری یونیورسٹیوں سے پڑھ چکے ہیں اور پڑھ بھی رہے ہیں۔ بہت سارے طلبہ کو صوبے اور ملک کے اعلیٰ میڈیکل یونیورسٹیوں اور کالجوں میں داخلہ مل چُکے ہیں اور کئی امیدوار مقابلے کے امتحانات میں بھی نمایاں کارکردگی حاصل کر کے بڑے عہدوں پر براجمان ہو چُکے ہیں۔ ان سب کا سہرا میر ظہور صاحب کے سر پر جاتا ہے۔

تعلیم کے میدان میں ظہور احمد کی ایک اہم اور قابل ستائش خدمات شہید ایوب سیکنڈری اسکول کا قیام ہے، جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار اساتذہ کرام بچوں کو مفت میں تعلیم دے رہے ہیں۔ اسکول معیاری سائنسی آلوں اور جدید تدریسی نظام سے آراستہ ہے، جہاں بچوں کو نہ صرف معیاری سائنسی اور اعلیٰ عصری تعلیم دی جاتی ہے، بلکہ ان کی کیریئر کونسلنگ، اعتماد اور شخصیت سازی کی جاتی ہے۔ اساتذہ بچوں کو اخلاقیات، ایمانداری، بڑوں کی عزت و رواداری بھی سکھائے جاتے ہیں، تاکہ وہ ذمہ دار اور کار آمد شہری بن کر لوگوں کی خوشحالی اور سماجی بہتری کے لیے نمایاں خدمات انجام دیتے رہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ شہید ایوب بلیدی سیکنڈری اسکول میں اساتذہ کی بھرتی کے لیے اہلیت (میرٹ) کو اولین ترجیح دی گئی ہے اس سلسلے میں ظہور صاحب نے کوئٹہ میں اسکول کے پرنسپل کے ساتھ ایک میٹنگ کا انعقاد کیا، جس میں، میں بھی موجود تھا۔ میر ظہور صاحب نے پرنسپل صاحب کو واضح اور دو ٹوک الفاظ میں کہا!

“یہ اسکول پوری عوام کے لیے بنایا گیا ہے اس کو ہرگز سیاسی معاملوں میں نہ گھسیٹا جائے۔ اسکول میں اساتذہ کی بھرتی اہلیت (میرٹ) کی بنیاد پر کی جائے. اگر منشی محمد (جو ظہور صاحب کے دشمن رہے ہیں) کا بیٹا اہلیت پر اترآئے تو اس کو بلا امتیاز تعینات کی جائے،کیونکہ اسکول تمام ذاتی رنجشوں اور سیاسی وابستگی سے بالاتر ہے۔ جس کا نصب العین علاقے میں علم کی شمع جلانا ہے، ناکہ سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور شہرت حاصل کرنا ہے۔
اسی طرح میر ظہور صاحب کے ترقیاتی کاموں کی فہرست بڑی طویل ہے ان میں شہید ایوب بلیدی روڈ (تربت ٹو بلیدہ روڈ) ایک نمایا پیش رفت ہے۔ یہ لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہےـ اب تربت سے بلیدہ صرف آدھے گھنٹے کی مسافت پر ہے۔ ابھی بلیدہ کے ملازم پیشہ افراد روزانہ صبح و شام تربت آتے جاتے ہیں۔ کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں بلیدہ کے لوگوں کو تربت جانے کے لیے کوئی زحمت پیش نہیں آتی, اس لیے بلیدہ کے بیشتر لوگ اب پاسینجر گاڑیوں پر زیادہ خرچ کرنے کے بجائے اپنی موٹر سائیکلوں/گاڑیوں پر تربت جاتے ہیں اور دو گھنٹے میں واپس اپنے گھر آتے ہیں۔ لہٰذا شہید ایوب بلیدہ روڈ بلیدہ کے عوام کے لیے ایک کا پلٹ دینے والا عنصر کی حیثیت رکھتی ہے.
میر صاحب کے ترقیاتی کاموں میں کئی لنک سڑکیں اور اہم شاہراہیں بھی شامل ہیں، مثلاً شہرک سے کولواہ تک اور مختلف بازاروں میں کئی لنک سڑکیں بنائی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں، بلیدہ سے نوانو زامران اور نوانو سے عبدوئی کی سڑک کا کام تیزی سے جاری ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ یہ سڑک چند مہینوں میں مکمل کی جائے گی۔ اسی طرح پروم ٹو بلیدہ اور پروم ٹو چیدگی روڈ کا کام جاری ہے۔ جلد بلیدہ اور زامران میں سڑکوں کا ایک جال بچھایا جائے گا، جس کی وجہ سے نہ صرف علاقے میں آمد و رفت آسان ہوگی، بلکہ علاقے کے کسانوں کو پھلوں، کھجوروں اور سبزیوں کو مارکیٹ لے جانے میں آسانی ہوگی۔ اس سے زراعت سے وابستہ لوگ مزید خوشحال ہوں گے۔
علاوہ الزیں، بلیدہ میں غلام فاروق میموریل اسپتال کا قیام علاقے کے لوگوں کے لیے ایک معجزہ اور غنیمت سے کم نہیں ہے۔ غلام فاروق اسپتال میں کوالیفائیڈ، اعلیٰ تربیت یافتہ اور تجربہ کار ڈاکٹروں کو بھرتی کی گئی ہے، جس میں اہل علاقہ کو اعلیٰ معیار کا علاج و معالجہ میسر ہوگا۔ یہ اسپتال بلوچستان میں اپنی نوعیت کا پہلا اسپتال ہے جو تجربہ کار، طبی ماہرین اور اعلیٰ قسم کے معیاری مشینری سے آراستہ ہوگا۔ جہاں لوگوں کے لیے مفت علاج اور ادویات میسر ہوں گی۔ اہلیان بلیدہ و زامران، میر ظہور بلیدی کی اس عظیم خدمت کو تاحیات یاد رکھا جائے گا اور تاریخ کے صفحوں پر میر ظہور بلیدی کا نام ایک روشن ستارے کی طرح ہمیشہ چمکتا دمکتا رہے گا۔ تاریخ ہمیشہ ایسے لوگوں کے ناموں کو سنہرے حروف میں یاد رکھتی ہے جو اپنے پیچھے ایک عظیم ورثہ چھوڑتے ہیں۔

اس کے برعکس جو سیاستدان اپنے ذاتی مفاد اور اقتدار و اختیار حاصل کرنے کے لیے عوامی مفادات اور فلاح کو پس پشت ڈالتا ہے، تو تاریخ ایسے لوگوں کے ناموں کو ہمیشہ کے لیے فراموش کرتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بلوچستان خصوصاً مکران کے سیاستدان ما سوائے ظہور بلیدی صاحب کے اس زمرے میں آتے ہیں جن کی کارکردگی صفر ہے۔ لیکن ان کی باتیں دعوے بہت بڑے ہیں جن میں کوئی حقیقت و صداقت نہیں ہےـ عوام کی خدمت دور کی بات ہے ان کے اپنے عزیز و اقارب ان سے نالاں ہیں ـ میں یہ بات بڑے وثوق سے کہتا کہ ظہور صاحب کی کارکردگی کا پلڑا بلوچستان کے تمام سیاستدانوں کی مشترکہ کارکردگی کے پلڑے سے بھی بھاری ہے۔

ظہور بلیدی بمقابلہ بلوچستان کے دوسرے سیاست دان اور سماجی شخصیات

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us