Banner

بلوچستان، افغانستان اور گریٹ گیم کا جدید تسلسل

Share

Share This Post

or copy the link

احمدخان اچکزئی

بلوچستان، افغانستان اور گریٹ گیم کا جدید تسلسل

محترم قارئین ۔​آج کا جغرافیائی سیاست کا ہولناک کھیل اور میرا تجربہ و تجزیہ سطحی سیاست سے کہیں اوپر اٹھ کر اس گہرے سٹریٹجک کھیل کی نشاندہی کرتا ہے جسے تاریخ دان “دی گریٹ گیم” کا تسلسل کہتے ہیں۔ تاریخ کا باریک بینی سے مطالعہ بتاتا ہے کہ جو کھیل انیسویں صدی میں برطانوی اور روسی سلطنتوں کے درمیان افغانستان اور بلوچستان کے دشوار گزار پہاڑوں میں شروع ہوا تھا، وہ اکیسویں صدی میں نئے مہروں، جدید اصطلاحات لیکن بالکل اسی پرانے اسکرپٹ کے ساتھ پوری شدت سے جاری ہے۔ جس طرح خیبر پختونخوا کے قبائلی اضلاع (سابقہ فاٹا) میں مقامی فورسز، روایتی امن کمیٹیوں اور عسکری نیٹ ورکس کو پہلے مرحلے میں غیر مسلح یا بے اثر کیا گیا اور پھر وہاں ایک طویل بدامنی کا راؤنڈ شروع ہوا، بالکل اسی مخصوص پیٹرن پر آج بلوچستان کو دھکیلا جا رہا ہے۔ یہ کوئی اتفاقیہ واقعہ یا اچانک رونما ہونے والی تبدیلی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی جیو پولیٹیکل انجینئرنگ ہے، جس کا بنیادی مقصد اس پورے خطے کو ایک مستقل کنٹرولڈ انارکی (Controlled Anarchy) کی حالت میں رکھنا ہے تاکہ کوئی بھی مقامی یا عالمی طاقت یہاں مکمل استحکام حاصل نہ کر سکے۔​دنیا کے بڑے دانشور اور سٹریٹجک ماہرین جیسے زبیگنیو برززینسکی نے اپنی مشہور زمانہ کتاب “The Grand Chessboard” میں اس خطے کو یوریشیا کا وہ قلب (Heartland) قرار دیا تھا جس پر مکمل کنٹرول حاصل کیے بغیر کوئی بھی طاقت عالمی بالادستی کا خواب نہیں دیکھ سکتی۔ بلوچستان اور افغانستان کو الگ الگ خانوں میں دیکھنا ہی سب سے بڑا فکری مغالطہ اورسٹریٹجک لغزش ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں جغرافیائی خطے ایک ہی جیو-سٹریٹجک تھیٹر کا حصہ ہیں۔ افغانستان میں جب بھی کوئی بڑی تبدیلی یا سیاسی زلزلہ آتا ہے، اس کا پہلا اور سب سے گہرا اثر براہِ راست بلوچستان پر پڑتا ہے۔ ماضی میں سوویت یونین کی آمد ہو، الائنسز کی اندرونی جنگیں ہوں، یا امریکہ کا دو دہائیوں پر محیط “دہشت گردی کے خلاف جنگ” کا ہولناک ڈرامہ، افغانستان کو فرنٹ لائن بنا کر بلوچستان کو ہمیشہ اس کے تزویراتی پچھواڑے کے طور پر استعمال کیا گیا، جہاں سے لاجسٹکس، پراکسیز اور خفیہ آپریشنز کو آپریٹ کیا جاتا رہا۔​آج کا سب سے حیران کن اور پریشان کن پہلو “لوکلائزڈ کمانڈرز” اور متوازی طاقت کے مراکز کا قیام ہے۔ یہ وہی فارمولا ہے جو افغانستان میں وار لارڈز کی شکل میں کامیابی سے آزمایا گیا تھا۔ جب کسی مقتدر ریاست کو اندرونی طور پر کمزور کرنا ہو یا کسی تزویراتی خطے کو مستقل بحران میں مبتلا رکھنا ہو، تو وہاں ایسے مقامی کمانڈرز یا مسلح گروہ کھڑے کر دیے جاتے ہیں جو بظاہر امن و امان یا کسی خاص نظریے کے نام پر کام کرتے ہیں، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ مقامی عوام کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔ عوام جب ان کے ظلم، معاشی استحصال اور بلیک میلنگ سے تنگ آ کر کھڑی ہوتی ہے، تو ریاست کو “امن قائم کرنے” کے نام پر بڑے پیمانے کے فوجی آپریشنز کا خود بخود جواز مل جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا لامتناہی چکر ہے جس کا کوئی اختتام نہیں۔ پہلے دانستہ طور پر عدم استحکام پیدا کرو، پھر مقامی مسلح جتھے بناؤ، پھر ان کے بے لگام ہونے پر آپریشن کرو، اور اس بھیانک عمل میں پورے سماجی ڈھانچے اور قبائلی نظام کو تباہ و برباد کر دو۔​عالمی سیاست کے وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو اس پیچیدہ کھیل کے مقاصد انتہائی دور رس اور گہرے ہیں۔ بلوچستان دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں اور آبنائے ہارمز کے عین قریب واقع ہے اور سی پیک (CPEC) جیسے عظیم الشان بین الاقوامی اقتصادی منصوبے کا اصل مرکز و محور ہے۔ افغانستان اور بلوچستان میں بدامنی کا یہ تسلسل دراصل چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) کی پیشقدمی کو روکنے، گوادر پورٹ کو فعال ہونے سے پہلے ہی ناکام بنانے اور وسطی ایشیا کے لا محدود قدرتی وسائل تک دنیا کی رسائی کو بلاک کرنے کی ایک عالمی سازش کا حصہ ہے۔ یہ ایک ایسا گریٹ گیم ہے جہاں مقامی عوام کو صرف مہرے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ اصل جنگ گہرے سمندروں، پائپ لائنوں اور تجارتی راستوں پر قبضے کی ہے۔ چنانچہ، یہ آپریشنز اور پالیسیاں کسی مقامی مسئلے کا مستقل حل نہیں، بلکہ عالمی طاقتوں کے اس بڑے شطرنج کے کھیل کا حصہ ہیں جس کا واحد مقصد خطے کو مستقل طور پر غیر مستحکم رکھ کر اپنے سٹریٹجک مفادات حاصل کرنا ہے۔

بلوچستان، افغانستان اور گریٹ گیم کا جدید تسلسل

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us