Banner

“عیدالاضحیٰ ایثار و قربانی کا تہوار”

Share

Share This Post

or copy the link

“عیدالاضحیٰ ایثار و قربانی کا تہوار”
تحریر:ڈاکٹر فضلیت بانو

اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں عبادات، اخلاقیات اور اجتماعی زندگی کے تمام پہلوؤں کے لیے واضح رہنمائی موجود ہے۔ عیدالاضحی مسلمانوں کا عظیم مذہبی تہوار ہے جو ہر سال ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی، اطاعت اور تسلیم و رضا کی یاد تازہ کرتی ہے۔ شریعتِ اسلامیہ میں عیدالاضحی کو نہایت اہم مقام حاصل ہے اور اس کے ساتھ قربانی جیسی عظیم عبادت وابستہ ہے۔
عیدالاضحی کا مفہوم
عیدالاضحی دو الفاظ پر مشتمل ہے۔
عید یعنی خوشی اور مسرت کا دن
اضحی یعنی قربانی
اس طرح عیدالاضحی سے مراد وہ دن ہے جس میں مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی پیش کرتے ہیں اور دینی و روحانی خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
عیدالاضحی اسلام کے شعائر میں سے ایک اہم شعار ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ شریعت میں عیدالاضحی کا دن عبادت، شکر اور قربانی کا دن قرار دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
> “فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ”
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز اور قربانی دونوں عظیم عبادات ہیں۔
احادیثِ مبارکہ میں بھی عیدالاضحی اور قربانی کی تاکید ملتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد مسلمانوں کے لیے دو عیدیں مقرر فرمائیں: عیدالفطر اور عیدالاضحی۔
عیدالاضحی کا سب سے نمایاں عمل قربانی ہے۔ قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی کا حکم دیا تو انہوں نے بلا تردد حکمِ الٰہی کی تعمیل کے لیے آمادگی ظاہر کی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس عظیم قربانی کو قبول فرمایا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے بدلے ایک دنبہ عطا فرمایا۔
اسی یاد میں مسلمان ہر سال جانور قربان کرتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں۔ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات، نفس اور دنیاوی محبتوں کو اللہ کے حکم کے تابع کرنے کا درس بھی دیتی ہے۔
عیدالاضحی کے شرعی احکام
عیدالاضحی کے چند اہم شرعی احکام درج ذیل ہیں
1. نمازِ عید ادا کرنا
عیدالاضحی کی نماز مسلمانوں پر واجب یا سنتِ مؤکدہ ہے (فقہی اختلاف کے مطابق)
2. قربانی کرنا
صاحبِ استطاعت مسلمان پر قربانی واجب قرار دی گئی ہے۔
3. ایامِ قربانی
قربانی دسویں ذوالحجہ سے بارہویں ذوالحجہ کے غروبِ آفتاب تک کی جا سکتی ہے۔
4. گوشت کی تقسیم
قربانی کا گوشت اپنے اہلِ خانہ، رشتہ داروں اور غریبوں میں تقسیم کرنا مستحب ہے۔
5. تکبیراتِ تشریق
ایامِ تشریق میں نمازوں کے بعد تکبیرات کہنا واجب قرار دیا گیا ہے۔
عیدالاضحی کا روحانی و معاشرتی پہلو
عیدالاضحی مسلمانوں میں ایثار، قربانی، بھائی چارے اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ اس موقع پر غریب اور نادار افراد کو بھی خوشیوں میں شریک کیا جاتا ہے۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم سے معاشرے میں محبت اور مساوات کو فروغ ملتا ہے۔
یہ عید انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے مقابلے میں ہر شے قربان کی جا سکتی ہے۔ اسی جذبۂ اطاعت اور قربانی سے اسلامی معاشرہ مضبوط اور مستحکم ہوتا ہے۔
عیدالاضحی اسلام کی ایک عظیم عبادت اور اہم مذہبی شعار ہے۔ اس کی شرعی حیثیت نہایت بلند ہے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت، سنتِ ابراہیمیؑ کی پیروی اور تقویٰ و اخلاص کا عملی اظہار ہے۔ مسلمان اس دن نمازِ عید ادا کرتے ہیں، قربانی پیش کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ عیدالاضحی ہمیں ایثار، قربانی، محبت اور انسانیت کی خدمت کا درس دیتی ہے، جو ایک صالح اسلامی معاشرے کی بنیاد ہیں۔
عیدالاضحی اسلام کا عظیم مذہبی تہوار ہے جو ہر سال ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی یادگار قربانی سے منسوب ہے۔ قرآنِ مجید میں قربانی، تقویٰ، اطاعتِ الٰہی اور شعائرِ اسلام کے حوالے سے متعدد احکام بیان کیے گئے ہیں جو عیدالاضحی کی روح اور اس کے مقاصد کو واضح کرتے ہیں۔ عیدالاضحی محض ایک تہوار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، ایثار اور بندگی کا عملی اظہار ہے۔
قرآنِ مجید میں قربانی کو ایک عظیم عبادت قرار دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
> “فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ”
(الکوثر: 2)
“پس اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔”
اس آیت میں نماز اور قربانی دونوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے قربانی کی اہمیت اور اس کی شرعی حیثیت واضح ہوتی ہے۔
عیدالاضحی کی اصل روح حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی میں پوشیدہ ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے اس عظیم واقعے کو یوں بیان فرمایا:
> “فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ”
(الصافات: 102)
ترجمہ: “جب بیٹا ان کے ساتھ چلنے پھرنے کے قابل ہوا تو ابراہیمؑ نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔”
حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اطاعت اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے عرض کیا۔
> “يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ”
“اے ابا جان! جو آپ کو حکم دیا جا رہا ہے وہ کر گزریے۔”
یہ واقعہ اللہ تعالیٰ کی مکمل اطاعت، تسلیم و رضا اور قربانی کے جذبے کی اعلیٰ مثال ہے۔
قرآنِ مجید واضح کرتا ہے کہ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ تقویٰ اور اخلاص پیدا کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
> “لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ”
(الحج: 37)
ترجمہ: “اللہ تعالیٰ کو نہ ان کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ خون، بلکہ تمہارا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔”
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کی اصل روح اخلاص، پرہیزگاری اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول ہے۔
قرآنِ مجید میں قربانی کو شعائرِ اللہ میں شمار کیا گیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے۔
> “وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ”
(الحج: 32)

ترجمہ: “اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ میں سے ہے۔
عیدالاضحی کے موقع پر قربانی، نمازِ عید اور تکبیراتِ تشریق جیسے اعمال شعائرِ اسلام ہیں جن کی تعظیم ہر مسلمان پر لازم ہے۔
قرآنِ مجید میں قربانی کے گوشت کو غریبوں اور محتاجوں میں تقسیم کرنے کی ترغیب بھی دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
> “فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ”
(الحج: 28)
ترجمہ: “پس خود بھی کھاؤ اور محتاج فقیر کو بھی کھلاؤ۔”
یہ حکم اسلامی معاشرے میں مساوات، بھائی چارے اور ہمدردی کے فروغ کا ذریعہ ہے۔
اطاعت و بندگی کا درس
عیدالاضحی کا سب سے بڑا پیغام اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ہے۔ حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے جس کامل اطاعت کا مظاہرہ کیا، وہ ہر مسلمان کے لیے نمونۂ عمل ہے۔ قرآنِ مجید مسلمانوں کو یہ درس دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنی خواہشات اور محبوب چیزوں کو قربان کرنا ہی حقیقی ایمان ہے۔
عیدالاضحی کے قرآنی احکام ہمیں قربانی، تقویٰ، ایثار، اطاعتِ الٰہی اور انسان دوستی کا درس دیتے ہیں۔ قرآنِ مجید نے قربانی کو محض ایک رسم نہیں بلکہ روحانی پاکیزگی اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ یہ عید مسلمانوں کو اتحاد، اخوت اور قربانی کے جذبے سے سرشار کرتی ہے اور سنتِ ابراہیمیؑ کی یاد تازہ کرتی ہے۔ اس لیے ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ عیدالاضحی کے حقیقی پیغام کو سمجھتے ہوئے اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ اس عبادت کو ادا کرے۔
عیدالاضحی مسلمانوں کا ایک عظیم مذہبی تہوار ہے۔ یہ عید حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بے مثال قربانی کی یاد دلاتی ہے۔ عیدالاضحی صرف خوشی اور مسرت کا دن نہیں بلکہ ایثار، قربانی، محبت، ہمدردی اور سخاوت کا عملی درس بھی ہے۔ اس دن مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی پیش کرتے ہیں اور اپنے مال کو دوسروں پر خرچ کر کے اسلامی اخوت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔
عیدالاضحی کا اصل پیغام اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضا کے لیے ہر چیز قربان کرنے کا جذبہ ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو قربان کرنے کا ارادہ کیا تو یہ انسانی تاریخ کی سب سے عظیم مثالِ ایثار بن گئی۔
یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ ایک سچا مسلمان اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اپنی خواہشات، محبتوں اور مفادات کو قربان کر دیتا ہے۔ اسی جذبے کی یاد میں مسلمان ہر سال قربانی کرتے ہیں۔
ایثار کا مطلب ہے اپنی ضرورت اور خواہش پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دینا۔ اسلام نے ایثار کو بہت بڑی نیکی قرار دیا ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر مسلمان نہ صرف جانور قربان کرتے ہیں بلکہ اپنے دلوں میں محبت، ہمدردی اور قربانی کے جذبات بھی پیدا کرتے ہیں۔
قربانی کا گوشت غریبوں، محتاجوں، یتیموں اور رشتہ داروں میں تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ معاشرے کا ہر فرد خوشیوں میں شریک ہو سکے۔ اس عمل سے انسانی مساوات اور اسلامی بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔
عیدالاضحی سخاوت اور فیاضی کا درس دیتی ہے۔ صاحبِ حیثیت لوگ اپنی خوشیوں میں غریب افراد کو شریک کرتے ہیں۔ قربانی کے گوشت کی تقسیم سے غریب خاندانوں کے گھروں میں بھی خوشی آتی ہے اور احساسِ محرومی کم ہوتا ہے۔
اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ دوسروں کے دکھ درد کو محسوس کیا جائے اور اپنی نعمتوں میں ضرورت مندوں کو شریک کیا جائے۔ عیدالاضحی اسی جذبۂ انسان دوستی اور ہمدردی کو مضبوط کرتی ہے۔
عیدالاضحی معاشرے میں اتحاد، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دیتی ہے۔ اس موقع پر لوگ ایک دوسرے سے ملتے ہیں، رنجشیں ختم کرتے ہیں اور باہمی تعلقات کو مضبوط بناتے ہیں۔ قربانی کا گوشت تقسیم کرنے سے امیر اور غریب کے درمیان فرق کم ہوتا ہے اور اسلامی مساوات کی خوبصورت تصویر سامنے آتی ہے۔
یہ تہوار ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ایک مضبوط معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون، محبت اور ایثار کا برتاؤ کریں۔
عیدالاضحی انسان کے اندر تقویٰ، صبر اور اطاعتِ الٰہی کے جذبات پیدا کرتی ہے۔ قربانی کا مقصد محض جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے نفس، غرور اور خود غرضی کو قربان کرنا بھی ہے۔ جب انسان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتا ہے تو اس کے دل میں عاجزی اور شکرگزاری پیدا ہوتی ہے۔
موجودہ دور میں عیدالاضحی کی ضرورت بہت زیادہ ہے ۔
آج کے دور میں مادہ پرستی، خود غرضی اور بے حسی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں عیدالاضحی کا پیغام پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس تہوار کو صرف رسم و رواج تک محدود نہ رکھیں بلکہ اس کے حقیقی پیغام یعنی ایثار، قربانی اور سخاوت کو اپنی زندگیوں میں عملی طور پر اپنائیں۔
عیدالاضحی دراصل ایثار و سخاوت کا عظیم تہوار ہے جو مسلمانوں کو قربانی، محبت، ہمدردی اور انسان دوستی کا درس دیتا ہے۔ یہ عید ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی خوشی دوسروں کو خوشی دینے میں ہے۔ اگر مسلمان عیدالاضحی کے اصل پیغام کو سمجھ کر اپنی زندگیوں میں اپنالیں تو معاشرے سے نفرت، خود غرضی اور محرومی کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور محبت، اخوت اور مساوات کا فروغ ممکن ہے۔

“عیدالاضحیٰ ایثار و قربانی کا تہوار”

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us