Banner

جمعیت علماء اسلام کی مہنگائی اور بدامنی کے خلاف عظیم الشان احتجاجی ریلی

Share

Share This Post

or copy the link


کوئٹہ
جمعیت علماء اسلام ضلع کوئٹہ کے زیرِ اہتمام مہنگائی، بدامنی، حکومتی نااہلی اور عوامی مسائل کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی جس میں کارکنوں، علماء کرام، تاجروں اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریلی سے ضلع کوئٹہ کے امیر مولانا عبدالرحمن رفیق، مفتی محمد روزی خان، ملک سکندر خان، حاجی عین اللہ شمس، مولانا حافظ حسین احمد شرودی، حاجی بشیر احمد کاکڑ، شیخ مولانا عبدالاحد، مولانا محب اللہ، مولانا حفیظ اللہ، مولانا محمد سلیمان، حاجی اختر محمد کاکڑ، عبدالمنان کاکڑ، حاجی رحمت اللہ، حافظ مسعود احمد، عبدالصمد حقیار اور حافظ عابداللہ سمیت دیگر مقررین نے خطاب کیا۔مقررین نے اپنے خطاب میں ملک بھر خصوصاً کوئٹہ اور بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی، قتل و غارت گری، ڈکیتیوں، اغواء برائے تاوان اور شہریوں کے جان و مال کے عدم تحفظ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ قیامِ امن اور عوام کے تحفظ کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔انہوں نے مہنگائی کے بے قابو طوفان، اشیائے خوردونوش، بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کو عوام دشمن پالیسی قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور مؤثر معاشی حکمتِ عملی کے ذریعے مہنگائی پر قابو پایا جائے مقررین نے بے روزگاری میں اضافے پر بھی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے وفاقی و صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں اور تمام بھرتیوں میں میرٹ اور شفافیت کو یقینی بنایا جائے۔اجتماع میں حکومتِ بلوچستان کی جانب سے مدارس کے حوالے سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد نہ ہونے کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور اسے مدارسِ دینیہ کے حوالے سے غیر سنجیدہ رویہ قرار دیا گیا۔ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کوئٹہ شہر میں غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کو عوام کے ساتھ ناانصافی قرار دیتے ہوئے بلا تعطل بجلی کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر تاجروں اور دکانداروں کو ناجائز جرمانوں، ہراسانی اور کاروباری رکاوٹوں کا نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے حکومت اور انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا کہ کاروباری طبقے کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے۔اجتماع میں سول ہسپتال ٹراما سینٹر کو غیر فعال کرنے کے منصوبے پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے عوام دشمن اور انسانی جانوں سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا گیا۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ حادثات اور ہنگامی صورتحال میں شہریوں کو بروقت طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے ٹراما سینٹر کو مکمل فعال رکھا جائے اور اس کے وسائل میں مزید اضافہ کیا جائے۔مقررین نے شہر میں بڑھتی ہوئی فحاشی، بے حیائی، منشیات فروشی اور منشیات نوشی کے رجحان پر بھی سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا کہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔ریلی کے شرکاء نے لکپاس کسٹم ہاؤس میں پیش آنے والے آتشزدگی کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ تاجروں کو فوری معاوضے کی ادائیگی اور واقعے کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر مقررین نے کوئٹہ کے مقامی قبائل کی جدی پشتی اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور حکومتی قبضہ گیری کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام غیر قانونی الاٹمنٹس فوری طور پر منسوخ کی جائیں۔ مزید برآں، شہر کے اندر خصوصاً کچلاک بائی پاس اور بلیلی کے مقامات پر قائم ٹول پلازوں کو عوام دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ شہری حدود میں قائم تمام ٹول پلازے فوری طور پر ختم یا شہر سے باہر منتقل کیے جائیں تاکہ شہریوں کو ذہنی اذیت اور اضافی مالی بوجھ سے نجات مل سکے۔ریلی کے اختتام پر جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں اور ذمہ داران نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ جماعتی نظم و ضبط کے تحت اپنی قیادت کی ہر ہدایت پر مکمل اتحاد و یکجہتی کے ساتھ عمل درآمد جاری رکھیں گے۔

جمعیت علماء اسلام کی مہنگائی اور بدامنی کے خلاف عظیم الشان احتجاجی ریلی

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Install App

By installing our application, you can access our content faster and easier.

Login

Daily Sahafat Quetta Log in or create an account now to benefit from its privileges, and its completely free.!

Follow us